لاہور ہائیکورٹ نے چودھری وجاہت حسین کو الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت دے دی

لاہور ہائیکورٹ نے چودھری وجاہت حسین کو الیکشن لڑنے کی مشروط اجازت دے دی

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہا ئی کورٹ کے فل بنچ نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما ءچودھری وجاہت حسین کے خلاف الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ا نہیںمشروط طور پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو نااہل قرار دینے کے لیے دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے عمران خان کی اہلیت سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو جائز قرار دے دیا۔ چودھری وجاہت حسین کیس میں فاضل بنچ نے ریٹرننگ افسر کو ہدائت کی ہے کہ چودھری وجاہت حسین کا نام امیدواروں کی لسٹ میں شامل کیا جائے۔ عدالت نے کیس کی سماعت چوبیس اپریل تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار چودھری وجاہت کی اہلیت کو درخواست کے حتمی فیصلے کے ساتھ مشروط کر دیا ہے ۔ لاہور ہا ئی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے غلط اثاثے ظاہر کرنے اور نادہندہ ہونے کے الزامات کی بنا پرچودھری وجاہت حسین کو انتخابات لڑنے سے روک دیا تھا ۔عمران خان کے خلاف درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان سیتا وائٹ سمیت مختلف سکینڈل میں ملوث رہے ہیں جبکہ انھوں نے اپنی کتاب میں جوا کھیلنے کا اعتراف کیا ہے لہذا وہ آرٹیکل 62اور63پر پورا نہیں اترتے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی تھی کہ امریکی عدالت میں سیتا وائٹ کیس کا فیصلہ پیش کیا جائے تاہم درخواست گزار فیصلہ پیش نہ کر سکے جس کے بعد عدالت نے دو درخواستیں مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو الیکشن لڑنے کے اہل قرار دے دیا۔ایک دوسری درخواست کی سماعت پر فل بنچ نے فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے امیدوارپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ءرانا ناصرفاروق کو نادہندگی کی بنا پر نااہل قرار دے کرانتخابات لڑنے سے روک دیا جبکہ ننکانہ سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماءرائے حسن نواز کو مشرو ط طور انتخابات لڑنے کی اجازت د ی ہے۔ فاضل عدالت نے این اے 162سے چودھری زاہد اقبال کو انتخابات لڑنے کی مشروط اجازت دے دی۔ فاضل بنچ نے چودھری محمد اقبال کے خلاف ریٹرننگ افسرکے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی جبکہ اعتراض کنندہ رائے حسن نواز کو بھی نوٹس جاری کردئیے ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے مو قف اختیار کیا کہ ریٹرننگ افسرکا فیصلہ غلط ہے ۔ زاہد اقبال نے برطانوی شہریت چھوڑ دی تھی لیکن اس کے باوجود انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا ۔ انہوں نے عدالت کو بتا یا کہ دسمبر 2012 میں عدالت نے انہیں ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی اور اب بھی ان کی وہی پوزیشن ہے لیکن انہیں غیر منطقی وجوہات کی بنا پر انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے۔ ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کلعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے چودھری زاہد اقبال کو مشرو ط طور پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے مزید سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی۔ لاہور ہا ئی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ءقمر الزمان کائرہ کو نااہل قرار دینے کے لئے دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت پیر تک کے لئے سماعت ملتوی کردی۔ کیس کی سماعت گزشتہ روز لاہور ہا ئی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل فل بنچ نے کی۔ درخواست گزار سلیم نامی شخص نے مو¿قف اختیار کیا کہ اس نے قمر الزمان کائرہ کے بھائی کے ساتھ گاڑی کا ایک معاملہ طے کیا جس میں قمر الزمان کائرہ بطور ضامن تھے ۔ قمر الزمان کائرہ نے اسے ضمانت کے طور پر ایک چیک دیا جو بعد میں باو¿نس ہو گیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ قمرالزمان کائرہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63 کے معیارپر پورا نہیں اترتے۔ عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جائے۔ عدالت نے قمرالزمان کائرہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی۔ فل بنچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے حمید اکبر نوانی سمیت ان کے دو بھائیوں سعید اکبر نوانی اور رشید اکبر نوانی کو جعلی ڈگری کیس میں ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ یونیورسٹیوں کا ریکارڈ پیش کریں۔ سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی۔  وجاہت حسین 

مزید :

صفحہ اول -