انتخابی جلسے مخصوص مقامات پر ہونگے مقامی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لازمی ہو گی

انتخابی جلسے مخصوص مقامات پر ہونگے مقامی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لازمی ہو گی

  

اسلام آباد(اے این این)نگران حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ انتخابی جلسے صرف مخصوص مقامات پرہونگے، مقامی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لازمی ہوگی ،اسلحہ کی نمائش پرمکمل پابندی ہوگی ،فوج صرف حساس پولنگ اسٹیشنوں پرضرورت پڑنے پربلائی جائیگی ،پولنگ اسٹیشنوں کی کل تعدادنوے ہزارہوگی،سیاسی رہنماو¿ں کومکمل سیکورٹی فراہم کی جائیگی ،خیرپختونخواہ حکومت کواضافی دس ہزارسیکورٹی اہلکارفراہم کئے جائیں گے،وزارت داخلہ کاخصوصی سیل 24گھنٹے کام کریگااورخفیہ اداروں سے رابطے میں رہے گا،الیکشن سبوتاژ کرنے کی تمام کوششیں سختی سے ناکام بنادی جائیں گی جبکہ وزیراطلاعات نے کہاہے کہ مشرف قانون سے بالانہیں ،وہ اب گرفتارہوچکے ہیں ،قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی،الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونگے۔ وزیراعظم میرہزارخان کھوسوکی زیرصدارت اہم اجلاس جمعہ کوامن وامان کی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقدہوا۔اجلاس میں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عارف نظامی ،وفاقی وزیربرائے داخلہ ملک محمدحبیب خان ،قانون وانصاف کے وفاقی وزیراحمربلال صوفی ،گورنرخیبرپختونخواہ ،وزیراعلیٰ پنجاب ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ ،وزیراعلیٰ بلوچستان ،سیکرٹری داخلہ ،سیکرٹری دفاع،چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریزڈائریکٹرجنرل آئی ایس آئی اورڈائریکٹرجنرل انٹیلی جنس بیورونے شرکت کی ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ جوں جوں ہم انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں امن عامہ کی صورتحال نگران حکومت کیلئے ایک چیلنج بنتی جارہی ہے ۔حکومت اپنے اس فرض سے بخوبی آگاہ ہے کہ وہ انتخابات کے منصفانہ اورشفاف انعقادکیلئے مناسب ماحول کویقینی بناناانتہائی اہم ہے ،یہ ازبس ضروری ہے کہ ہرشہری کے ساتھ یکساں سلوک کیاجائے ،انسانی زندگی کے وقارکوملحوظ رکھاجائے اورآئین کے عین مطابق آزاداورباعزت زندگی کی ضمانت دی جائے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بڑی حوصلہ افزاءبات ہے کہ مختلف نظریات کی حامل تمام سیاسی جماعتوں نے سیاسی عمل میں بھرپورشمولیت کافیصلہ کیاہے ،اس سے ان کے جمہوری عمل پراعتمادکااظہارہوتاہے ،تاہم اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں کے جاں بحق ہونے سے ان کے اعتمادکوٹھیس پہنچی ہے ،ضرورت اس امرکی ہے کہ انتخابات کیلئے مناسب ماحول کی فراہمی اورامن وامان کی صورتحال میں بہتری کویقینی بناتے ہوئے ان کے اعتمادکوبحال کیاجائے۔دوران اجلاس بلوچستان ،پنجاب اورخیبرپختونخواہ کے وزراءاعلیٰ اورچیف سیکرٹری سندھ نے اپنے اپنے صوبوں کے حوالے سے الیکشن کے دوران حفاظتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی ۔اجلاس میں بتایاگیاکہ قومی اسمبلی کی 272اورصوبائی اسمبلی کی 278نشستوں کیلئے منعقدہونے والے انتخابات میں ملک بھرمیں 90,000پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیںگے ۔اجلاس کوبتایاگیاکہ صوبے تمام قومی راہنماو¿ں کے ساتھ رابطہ میںرہیں گے تاکہ ان کے تحفظ کی ضروریات کومدنظررکھتے ہوئے مناسب اقدامات کئے جاسکیں۔اس دوران اجلاس کویہ بھی بتایاگیاکہ الیکشن کمیشن کے اسٹاف کوانتخابات کے روزاس کے بعدمکمل تحفظ فراہم کیاجائیگااوراسی طرح بیلٹ بکسزکی بحفاظت ترسیل کویقینی بنایاجائیگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ بلوچستان میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لئے علیحدگی پسنداورمسلح گروپوں کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کی اشدضرورت ہے ۔گورنرخیبرپختونخواہ نے کہاکہ 2008 ءمیں لوگ طالبان سے محبت کرتے تھے اوراب 2013ءمیں وہ طالبان سے نفرت کرتے ہیں ۔خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس وقت ہمیں دس ہزار سیکیورٹی اہلکاروںکی ضرورت ہے جس کی فراہمی پروفاق نے رضامندی ظاہرکی ہے ۔بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2008ءمیںالیکشن کاانعقادبہت مشکل تھاجبکہ 2013ءمیں یہ آسان ہے ۔نگران وزیراطلاعات 

مزید :

صفحہ اول -