نواز کا چھابہ

نواز کا چھابہ
نواز کا چھابہ

  

عمران کے مداح غبارے میں منہ سے ہوا بھرکر اس سے گیس بھرے غبارے ایسی اڑان کی توقع باندھے ہوئے تھے لیکن اب جب کہ الیکشن میں 20دن رہ گئے ہیں اور نواز شریف کا گیس بھرا غبارہ ہوا میں اپنی اڑان بھرنے کو بے تاب ہے تو آنکھیں کھلی ہیں اور حیرانگی و افسردگی کا راج عام ہے، خاص طور پر یہ حیرانگی ان حلقوں میں عام ہے جو کبھی کپتان کے کالم نگار ہونے پر اتراتے نہ تھکتے تھے ، الیکشن رزلٹ کچھ بھی ہوں ، اب تک کی صورت حال کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ عمران کو ایسے ہی کوتاہ نظرلے ڈوبے، ممولے کو شہباز سے لڑانے کے زعم نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا ، انہیں سمجھ ہی نہ آئی کہ نواز شریف کا چھابہ اگر بک رہا ہے توعمران کیسے اس سے پہلے اپنا چھابہ بیچ کر گھر جا سکتا ہے!

الیکشن میں 20دن رہ گئے ہیں، نواز شریف کی ہوا بن چکی ہے، عمران کی ہوا ابھی بننی ہے، پیپلز پارٹی سے اس کا فرق صرف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کہیں نظر نہیں آرہی ہے اور تحریک انصاف صرف کہیں کہیں نظر آرہی ہے، جوں جوں الیکشن کا ماحول بن رہا ہے، نواز شریف زیادہ طاقتور لگنا شروع ہو گیا ہے، اس کی قرض خوری یا ٹیکس چوری موضوعِ بحث نہیں ہے، اگر بنانے کی کوشش بھی کی گئی تو شہباز شریف نے یہ کہہ کر غبارے سے ہوا نکال دی کہ اگر کچھ ثابت ہو جائے تو وہ سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے!

30اکتوبر 2011کو عمران کا تاریخی جلسہ ہونے کے باوجود عمران کے لئے پاکستان کو فتح کرنا آسان نہیں لگ رہاہے ،حالانکہ لاہوریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس کو یہ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ، اس کو پوری دنیا ہاتھوں پر لئے پھرتی ہے ، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ عمران کے دو جلسوں میں جو لوگ مینار پاکستان پر موجود تھے ان کا لاہور سے کچھ لینا دینا نہ تھا ؟

فنکاروں اور سیاسی لیڈروں کے بارے عام تاثر یہ ہے کہ ان میں سے اگر لاہور کسی کو تسلیم کرلیتا ہے تو پھرپوراپاکستان اسے تسلیم کرتا ہے ، لیکن یہ بات قابل غور ہے اگر کسی نئے فنکار کا لاہور میںبھرپور پروگرام ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ پرانے فنکارکی فنکاری ختم ہو گئی ہے ، بس یہ ہوتا ہے کہ نئے کی جگہ بن جاتی ہے ، جیسے مہدی حسن کی موجودگی میں غلام علی کی جگہ بن گئی تھی!

جب عمران کا جلسہ لاہور میں کامیاب ہوا تو اس وقت نواز شریف کی پاپولیریٹی بھی عروج پر تھی، اس میں شک نہیں کہ جلسے کے بعد پاکستان کی سیاست میں عمران کی جگہ بنی ،لیکن الیکشن سے بیس روز قبل یہ بات محسوس کی جاسکتی ہے کہ عمران نے بے نظیر بھٹوکے خلاکو توپُر کیا لیکن نواز شریف کی مقبولیت کو کم نہ کر سکا ، یہی وجہ ہے کہ جب نوازشریف نے اپنے جوہر دکھائے تو اس کی پاپولیریٹی کا گراف اور اوپر چلا گیا !

پچھلے پانچ سالوں میں عمران خان نے نواز شریف کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا، خیال یہ تھا کہ اصل مقابلہ چونکہ نواز شریف سے ہے اس لئے ایسا کرنا ضرور ی ہے ۔ لیکن عمران کی تنقید کے جواب میں بیان بازی پر اتر آنے کے بجائے ن لیگ نے عمران خان کی مقبولیت کو سنجیدگی سے لیا اور سرکاری فنڈز سے نوجوان کھینچو پالیسی کے تحت نت نئے پروگراموں کے ساتھ میدان میں اتر آئی اورپنجاب میں ن لیگ کی حکومت یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ لیپ ٹاپ میرٹ پر تقسیم ہوئے ہیں، نوجوانوںکو کھیلوںکی طرف راغب کرکے ، بین الاقوامی ریکارڈ بنا کر ن لیگ نے ایک نئی صورت حال پیدا کردی، میڈیا میں ایسا تاثر پیدا کردیا جس سے لوگوں میں ن لیگ کے حوالے سے مثبت باتیں زیادہ تواتر سے ہونے لگیں، حمزہ شہباز کے لئے سکولوں اور کالجوںمیں جاناممکن نہ رہا تو مریم نواز شریف کو میدان میں اتار ا گیا ، اس دوران میٹرو بس سروس آگئی جس کی ریکارڈ وقت میں تکمیل نے ہر طرح کی تنقید کا منہ بند کردیا، ،دوسری جانب عمران خالی باتیں کرتا رہا اور نوجوانوں کو لبھانے کے لئے عملی طور پر کچھ نہ کیا،حالانکہ وہ چاہتا تو فنڈ ریزنگ کے ذریعے لیپ ٹاپ کے مقابلے میں کوئی جاندار سکیم لا سکتا تھا،اس کے برعکس وہ صرف یہ کہتا رہا کہ نوجوان لیپ ٹاپ شہباز شریف سے لیں گے اور ووٹ اسے ڈالیں گے، لیکن اس سوال کا جواب اس کے پاس نہ تھا کہ نوجوان اسے ووٹ کیوں ڈالیں گے؟

اس ساری صورت حال کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ نے عمران کی مقبولیت کم کرنے کے لئے بھرپور اور انتھک محنت کی اور اسمیں بھی شک نہیں کہ عمران خان کی مقبولیت کو شریف فیملی نے تن تنہا کاٹا ہے، باقی کی ن لیگ نے محض تماشا دیکھا ہے !

 پھر جب 23مارچ کو عمران کا جلسہ طوفان کے سبب خراب ہوا تون لیگ کی جانب سے کسی قسم کی ہرزہ سرائی کے بجائے خاموشی اختیار کی گئی اور اس کا سارا زور30اکتوبر 2011کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورت حال کو نت نئے آئیڈیازکے ساتھtackleپر لگایا گیا،اپنی سیاسی و انتخابی سٹریٹیجی کو تبدیل کیا ہے، خطرے کو بھانپتے ہوئے اس کے میرٹ پر ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے ، بلاشبہ اس تکنیک کا ن لیگ کو فائدہ ہوا، اس نے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ آنکھیں بند نہیں کیں بلکہ اڑان بھر کر بلی کی پہنچ سے دور جابیٹھی!

اس دوران ن لیگ کو یہ بھی سننا پڑا کہ عمران کی وجہ سے اس کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے، ن لیگ کی قیادت کو اپنی سٹریٹیجی بدلنا پڑی ہے، اور یہ کہ عمران خان نے ملکی سیاست کو نیا رخ دیا ہے لیکن کسی نے میاں صاحبان کو اس بات کی داد نہیں دی کہ انہوں نے ہوا کے بدلتے رخ کو بھانپ کر اپنے پتے نئے انداز سے ترتیب دیئے اور بالآخر بازی مار لی ، نتیجہ یہ ہے کہ ن لیگ بحیثیت جماعت کے آج بھی متحد اور متحرک ہے ،اس نے اپنی طاقت کو کھویا نہیں ہے، اپنے اثر و رسوخ کو کم نہیں ہونے دیا اورجو اس کی کشتی سے چھلانگ لگانے کو تیار تھے اب وہی پتوار تھامے بیٹھے ہیں !

مزید :

کالم -