کیاآپ کو نوشاد حمید یاد ہے ؟

کیاآپ کو نوشاد حمید یاد ہے ؟
کیاآپ کو نوشاد حمید یاد ہے ؟

  

کہتے ہیں کہ لاہور میں بالخصوص اور پنجاب میں باالعموم اصل انتخابی میدان تو مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان لگے گا، ہوسکتا ہے کہ پیپلزپارٹی بھی کچھ حلقوںمیں کامیابی حاصل کرے اور کچھ سیٹیں مسلم لیگ قاف کو بھی مل جائیں مگر بہرحال سامنے نظر آنے والے منظرنامے میں فی الحال جماعت اسلامی، ایم کیو ایم ، جے یو آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جماعت کی کوئی قابل ذکر کامیابیاں ملتی دکھائی نہیں دے رہیں۔ میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ تحریک انصاف نے لاہور سے اچھے امیدوار میدان میں اتارے ہیں ، عمران خان نے اپنی پارٹی کے ان لوگوں کو ٹکٹ جاری نہیں کیا جنہوں نے تنظیمی انتخابات میں تو کامیابیاں حاصل کر لیں مگر ان کی طرف انگلیاں اٹھ رہی تھیں، عمران خان کی طرف سے اس سیاسی جرات کے مظاہرے نے مجھے متاثر کیا ،میرے اس تبصرے پر دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ مضبوط امیدوار نہیں ہیں، میں نے عرض کیا اگرچہ اچھے امیدواروں کو ہی مضبوط امیدوار ہونا چاہئے مگر اس کے باوجود میں نے انہیں مضبوط نہیں صرف اچھے امیدوار کہا ہے۔

مجھے ایسے لگا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان دونوں ہی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے امیدوار نہیں بلکہ کھمبے بھی جیت سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امیدواروں کو کھمبوں کی طرح ایک سے دوسرے حلقے میں نصب کرنے کی کوشش کی ہے مگر عمران خان نے اچانک میاں اسلم اقبال کو صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ جاری کر دی جس سے کم از کم انہوں نے اپنی سیٹ پر کامیابی کے لئے زمینی حقائق کو پہلی ترجیح پر رکھا، قومی اسمبلی تو کم مگر ہمارے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی سیاست کا بہت زیادہ پہیہ تھانے ، کچہری ، ہسپتال اور سیکرٹریٹ میں درپیش مسائل کے گرد ہی گھومتا ہے۔ اگر ان کا متنخب رکن ان کے حلقے میں ہی نہیں رہتا ہو گا تو وہ محرر سے ایف آئی آر کے اندراج کی سفارش کے لئے اسے کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔سیاسی اور صحافتی ماہرین ابھی بھی مسلم لیگ نون کو ہی شہر میں کامیابی کے لئے فیورٹ سمجھ رہے ہیں ، اسی لہر میں شریف برادران نے اندرون شہر رہائش رکھتے ہوئے بچین سے جوانی کا سفر طے کرنے والے خواجہ عمران نذیر کو شاہدرہ بھیج دیا ہے اور اسی طرح خواجہ سلمان رفیق کوموچی دروازے کی بجائے علامہ اقبال ٹاو¿ن سے ٹکٹ دے دیا ہے۔ میاں مرغوب احمد، نصیر احمد بھٹہ، چودھری عبدالغفور،ڈاکٹر سعید الٰہی، اللہ رکھا اور حافظ میاں محمد نعمان کوایک ٹکٹ بھی نہیں ملی اور مہر اشتیاق احمد کی قسمت ایسی کھلی کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں ٹکٹیں مل گئیں۔ حافظ میاں نعمان کی حلقے میں لیگی عہدے داروں نے اتنی مخالفت کی کہ میاں صاحبان نے انہیں اندرون شہر سے اکاموڈیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا مگر میاں نعمان نے پارٹی قیادت سے اجازت لئے بغیر ہی پی پی 140 سے کاغذات واپس لے لئے، اسی قسم کا کام میاں مرغوب احمد نے کیا جس پر یہ دونوں نہاتے، دھوتے ہی رہ گئے۔

مسلم لیگ نون کی طرف سے ٹکٹیں دیتے ہوئے بہت سارے کارکنوں کو اکاموڈیٹ کرنے کا دعویٰ سامنے آتا ہے جو بظاہر غلط بھی نہیںمگر دو لیگی کارکنوںکو مسترد کیا جانا کسی طور بھی قابل فہم نہیں ، ان میں پہلا نام تو نوشاد حمید کا ہے۔ شہر کا کون سا صحافی یا سیاسی کارکن ہوگا جسے پرویز مشرف کی آمریت کے دوران شہبا زشریف سیکرٹریٹ کے پلیٹ فارم سے احتجاج کرنے والے دو، تین درجن کارکنوں کی قربانیاں یاد نہیں ہوں گی۔ نوشاد حمید، بودی پہلوان اور سلمیٰ بٹ سمیت دیگر کارکنوں نے سیاسی احتجاج کی ایک نئی شکل متعارف کرائی، یہ جاوید اشر ف شہید کے نقش قدم پر چلے جن کے بھائی ڈاکٹر اسد اشر ف بھی پارٹی ٹکٹ سے محروم رہے ہیں۔ یہ کارکن بارہ اکتوبر کی ایک صبح ما ل روڈ پر ٹولیوں کی شکل میں نمودار ہوئے، ان کا ایک ایک ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑا ہوا تھا،د وسرے ہاتھ میں بغیر چابی کے تالے تھے،سیاست کے ماتھے کے ان جھومروں نے ہتھکڑیوں کی زنجیریں سمٹ مینار کے آہنی جنگلوں سے تالوں کی مدد سے باندھ دیں اور مشرف آمریت کا ماتم شروع کر دیا، میڈیا پہلے سے موجود تھا اور پولیس بھی دس سے پندرہ منٹ میں پہنچ گئی مگر ان کارکنوں کی زنجیریں آریوں کی مدد سے کاٹ کر انہیں ٹرکوں میں لادنے میں کم و بیش ایک گھنٹہ لگ گیا اور اس دوران پولیس کی بھاری نفری اپنے تمام تر رعب اور اسلحے کے باوجود نوشاد حمید کی قیادت میں دیوانوں کو” میاں دے نعرے وجانے“ سے نہیں روک سکی۔دوسری طرف میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جب ایک مرتبہ مسلم لیگ نون نے جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر پریس کلب کے سامنے احتجاج کا پروگرام رکھا تو وہاں کل ایک سو اٹھائیس مظاہرین تھے اور میڈیا میں ان کا خوب مذاق اڑایا گیا لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ آمریت میں نوشاد حمید ہی اصلی نواز لیگ تھا۔

یہ بھی میرا آنکھوں دیکھا احتجاج ہے کہ یہی لیگی کارکن ایک اور بارہ اکتوبر کو بہت بڑا پنجرہ ، ٹرک پر لوڈ کرواکے پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ گئے، پنجرہ مال روڈ کے عین بیچ میں اتارا گیا اور آناً فاناً درجنوں کارکنوں نے اندر گھس کے اسے لاک کر دیا، ٹریفک بلاک ہو گئی اور پھر پولیس کی بھاری نفری اس پنجرے کو اٹھانے اور کارکنوں کو حوالات میں پہنچانے سے پہلے احتجاج کا بین الاقوامی اہمیت کا ایونٹ بنانے سے نہیں روک سکی، عینی شاہد تو میں اس دلچسپ احتجاج کا بھی ہوں جس کے لئے انہوں نے لاہور کے بیچوں بیچ بہنے والی نہر کو چنا، مسلم لیگ کے پرچم اور نواز شریف کی تصویریں اٹھا کے یہ کارکن نہر میں کود گئے، انٹرنیشنل میڈیا اس عجیب و غریب احتجاج کو کوریج دے رہا تھا اور پولیس افسران کوششیں کر رہے تھے کہ اہلکار نہر میں کودیں، تیرتے ہوئے ان لیگی عقابوں کو جھپٹ لیں۔ کیا ایک پروفیشنل صحافی ہونے کے ناطے مسلم لیگ نون کی قیادت میری گواہی مانے گی کہ ان لوگوں کے لئے تھانہ حوالات ہی اور دور دراز کی جیلوں میں بند کیا جانا تو کوئی بات نہیں تھی، انہیں پولیس مقابلے میں مروانے کے پلان بھی آزمانے کی کوشش کی گئی مگر پھر وہی نوشاد حمید جیسے قائد محترم کو سونے میں تولنے کی بات کرتے تھے، ایک پارٹی ٹکٹ کا بھی حق دار نہ ٹھہرا، میں اگر ایک پروگرام میں ان کارکنوں کو لیگی قیادت کے منہ پر نہ بٹھا دیتا تو اسے وہ کوارڈی نیٹری بھی نہ ملتی جس سے کہیں بہتر مقام پر بیٹھ کے چوری کھانے والوں نے کروڑوں چھاپ لئے۔ آج گرفتاریاں، پرچے، تشدداور قربانیاں میرٹ نہیں ہےں اور اغوا کے مقدموں میں ملوث ٹکٹیں لے گئے ہیں۔ اگر قربانیاں ہی میرٹ ہوتیں تو اختر رسول کویاروں کا یار ہونے کے باوجود ٹکٹ نہ ملتی، خاندان سمیت مجاہدوں کی طرح لڑنے والی سلمی بٹ کا خواتین کی لسٹ میں نمبر چوالیسواں ہے، چوتھا نہیں اور بودی پہلوان آج موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا قائدین کی طرف سے کچھ محبت بھری نگاہوں کا منتظر ہے۔ کیا ان کارکنوں کا وکیل میاں محمد نواز شریف کو خود نہیں ہونا چاہئے تھا؟

میرا رانا مشہود احمد خان سے بہت اچھا تعلق ہے مگر میرا ضمیر مجھے کہتا ہے کہ شعیب خان نیازی کی بات بھی کروں جس سے میرا رانا مشہود کے مقابلے میں سو گنا کمزور تعلق ہے مگر یہ شعیب خان نیازی وہ ہے جس نے مشرف دور میں اپنے ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر چڑھائی کے باوجود مسلم لیگ نون نہیں چھوڑی اور جب پوری تحریک انصاف چاہتی تھی کہ نیازی ہونے کے ناطے وہ عمران خان کے ساتھ آجائے تو انعام اللہ نیازی تو چلا گیا مگر شعیب خان نیازی نے نواز شریف کا دامن نہیں چھوڑا۔ میں رانا مشہود احمد خان کو ٹکٹ دینے کی مکمل حمایت کرتا ہوں مگر کیا سوال کر سکتا ہوں کہ میاں مرغوب کو فارغ کرتے ہوئے مہر اشتیاق احمد کو قومی اور صوبائی دونوں ٹکٹوں سے نوازنے کی بجائے اگر شعیب خان نیازی کی محبت ہی نہیں ، حلقے میں لیگی کارکنوںکی بھرپور حمایت کا ہی بھرم رکھ لیا جاتا۔

میرا عمومی تاثر یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹوں کی تقسیم میں حمزہ شہباز شریف نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پوری طرح وفا نبھائی ہے ۔ پیپلزپارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری زکریا بٹ کا فون پر محبت بھرا شکوہ موصول ہوا، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار ، تحریک انصاف کے امیدواروں سے زیادہ بہتر اور اپنے اپنے حلقوں میںمقبولیت اور رابطے رکھتے ہیں لہذا انہیں شہر میں کسی طور بھی تیسرے نمبر پر نہ رکھا جائے۔ میں نے بٹ صاحب سے عرض کیا کہ لاہوریوں کی بڑی تعداد اس مرتبہ بھی امیدواروں کو بھی نہیں ، ان سیاسی کھمبوں کو ووٹ ڈالے گی جن میں پارٹی ٹکٹ کا کرنٹ دوڑ رہا ہو گا۔

مزید :

کالم -