جب منصف تھے زنداں میں ،کچھ یاد تو آتا ہو گا ۔ ۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو جیل بھیج دیاگیا

جب منصف تھے زنداں میں ،کچھ یاد تو آتا ہو گا ۔ ۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو ...
جب منصف تھے زنداں میں ،کچھ یاد تو آتا ہو گا ۔ ۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو جیل بھیج دیاگیا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی خصوصی  عدالت نے ججز نظر بندی کیس میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو چار مئی تک جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے جس کے بعد انہیں پولیس ہیڈ کوارٹرز سے  چک شہزاد میں ان کے اپنے ہی فارم ہائوس میں منتقل کرکے اسے سب جیل قراردیدیا گیا ہے جبکہ اس گھر کی  اندرونی نگرانی اڈیالہ جیل کے اہلکاروں کو سونپ دی گئی ہے  ۔ سابق  فوجی صدر کق عارضی قید میں اہپمی بیوی ساتھ رکھنے کی اجازت بھی دی گئی ہے ۔ سابق صدر کوگذشتہ روز قائم ہونیوالی کوثر عباس زیدی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے ملزم کا چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ دے دیا جس کے بعد اُنہیں واپس ہیڈکوارٹر اور پھر سب جیل قراردیئے گئے چک شہزاد میں واقع فارم ہاﺅس منتقل کردیاگیا۔ درخواست گزار کے وکیل اشرف گجر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے نظر بندی کے اقدام نے پورے ملک کو خوف میں مبتلا رکھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ججز کو نظر بند کرنے کے اقدام میں ملزم اکیلا ملوث نہیں اور ملزم سے پوچھ گچھ کی جائے کہ اس کے ساتھ دیگر اور کون کون ملوث ہے؟ اُنہوں نے کہاکہ جب تک ملزم کو پولیس کی حراست میں نہیں رکھا جائے گا ،ا±س وقت تک تحقیقات مکمل نہیں ہوں گی،ملزم کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔ دوران سماعت اشرف گجر نے کہا کہ لال مسجد کا واقعہ اور بے نظیر کا قتل ایمرجنسی کے دوران ہوئے جبکہ ملزم نے چیف جسٹس سے آرمی ہاﺅس میں زبردستی استعفیٰ لینے کی کوشش کی۔ وکیل نے ملزم کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے پر بھی اعتراض کیا۔درخواست گزار کے ایک اور وکیل شاہد کمال خان نے کہا کہ پولیس کی ملی بھگت سے جوڈیشل ریمانڈ لیا جا رہا ہے۔ سابق صدر کے وکیل قمر افضل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف نے خود کو عدالت کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنا بیان بھی قلمبند کروا دیا ۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے چار مئی تک سابق صدر پرویز مشرف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ واضح رہے کہ فارم ہاﺅس کا انتظام وانصرام جیل کے اہلکاروں کے پاس ہوگا جبکہ سیکیورٹی انتظامات کیلئے پولیس اور رینجرز کے دستے موجود ہیں ۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -