چین میں زلزلے سے ہلاکتیں 180 ، زخمیوں کی تعداد سات ہزار سے بڑھ گئی ،امدادی کاموں میں مشکلات

چین میں زلزلے سے ہلاکتیں 180 ، زخمیوں کی تعداد سات ہزار سے بڑھ گئی ،امدادی ...
چین میں زلزلے سے ہلاکتیں 180 ، زخمیوں کی تعداد سات ہزار سے بڑھ گئی ،امدادی کاموں میں مشکلات

  

بیجنگ ( مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں تباہ کن زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 180 سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 7ہزار سے تجاوز کرگئی ہے  جن میں سے 6 ہزار سات سو کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ سیکڑوں افراد کو مرہم پٹی کے بعد  کیمپوں میں منتقل یا گیا ہے اور ابھی  ملبے سے مزید زخمی نکل رہے ہیں  اور ہلاکتوں میں ا مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے 7.00کی شدت سے آنے والے زلزلے نے پورے علاقے میں تباہی مچا دی سب سے زیادہ لوشان کا علاقہ متاثر ہوا تاہم چین کا جوہری بجلی گھر محفوظ رہا ہے ۔ اس کا مرکز لِن چیانگ شہر سے 80 کلومیٹر مغرب میں تھا اور یہ سطحِ زمین سے 12.3 کلومیٹر نیچے آیا۔ چین کی سرکاری خبر ایجنسی سہنوا کے مطابق زلزلے کے جھٹکے 115 کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت چینگدو میں بھی محسوس کیے گئے۔امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو ایک بار پھر چین میں پانچ سال قبل کا قیامت خیز زلزلہ یاد دلا دیا ہے جس میں نوے ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ لاکھوں افراد زخمی، متاثر اور بے گھر ہوئے تھے ۔ زلزلے کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں میں بیشتر عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے اور آفٹر شاکس کی وجہ سے اس علاقے تک رسائی کے راستے بھی بند ہوگئے ہیں اور امدادی کارکنوں کو وہاں تک پہنچنے میں مشکلات درپیش ہیں۔امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور امداد ی کارکن چینگڈو کے مغرب میں پہاڑی علاقے میں آنے والے زلزلے سے سے تباہ شدہ دیہات میں ملنے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔ چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کے لیے چھ ہزار سکیورٹی اہلکار متاثرہ علاقے میں بھیج دیے ہیں۔ چینگدو کے ایک باسی نے چینی خبر ایجنسی سہنوا کو بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ ایک عمارت کی تیرہویں منزل پر تھا، عمارت 20 سیکنڈ تک جھولتی رہی اور اس نے دوسری عمارتوں سے ٹائلیں گرتی ہوئی دیکھیں۔ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کا سب سے ڈراو¿نا لمحہ تھا- میں سو رہا تھا اور جب یکدم میری آنکھ کھلی تو میرا بستر ہل رہا تھا۔دیواریں مڑی جا رہی تھیں۔ یکایک سڑک پر آوازیں سنائی دیں اور تب مجھی اندازہ ہوا کہ زلزلہ آیا ہے۔ چین کے وزیراعظم لی کی چنگ نے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بحالی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

مزید :

بین الاقوامی -