حج درخواستیں پُر کرنے اور جمع کرانے کے متعلق ہدایات

حج درخواستیں پُر کرنے اور جمع کرانے کے متعلق ہدایات

  

اس سال مناسک حج 3سے 8 اکتوبر2014ءتک جاری رہیں گے ۔ حج کا رکن اعظم وقوف عرفات بروز ہفتہ 4 اکتوبرکو ہوگا۔ حج پروازیں پاکستان کے 10شہروں کراچی ‘ سکھر‘ کوئٹہ ‘ لاہور‘اسلام آبادپشاور ‘ ملتان‘ فیصل آباد ‘ سیالکوٹ اور رحیم یارخان سے روانہ ہوں گی ۔ روانگی 27اگست سے شروع ہو گی جبکہ حاجیوں کی واپسی 8نومبر کو مکمل ہو گی ۔ قومی بینکوں کے ذریعے ’ پہلے آئیے پہلے پائیے‘ کی بنیاد پرگورنمنٹ حج سکیم کی 56ہزار 684 درخواستوں کی وصولی 21اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ مقررہ تعداد میں درخواستیں جمع ہونے کے بعد مزید وصولی روک دی جائے گی لہذا اس سال حج پر روانگی کے خواہشمند افراد ناکامی سے بچنے کے لئے جلد از جلد درخواستیں جمع کر وائیں اور ان پر جمع کروانے کی تاریخ او رو قت کا اندراج بھی کروائیں۔

ہر شخص کے لئے درخواست فارم میں حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے کے بارے میں بیان حلفی پر ستخط کرنا یا انگوٹھا لگانا لازمی ہے۔ درخواست گزار کے پاس نادر اکاجاری کردہ قومی شناختی کارڈ‘ 31مارچ 2015ءتک کارآمد مشین ریڈیبل پاسپورٹ یا پاسپورٹ بنوانے کے لئے جمع کروائی جانے والی درخواست کی رسید‘ہلکے نیلے رنگ کے پس منظر میں 4x3سینٹی میٹر سائز کی12تصاویر اور حج واجبات کی رقم ہونا ضروری ہے ۔ خواتین اپنا سر‘ بال‘کا ن اور گلا ڈھانپ کر تصویربنوائیں۔

حج درخواست فارم میں موجود میڈیکل سرٹیفکیٹ پر سرکاری ‘ نیم سرکاری ‘فوجی ‘ حکومتی خود مختار ادارے یا کارپوریشن کے ڈاکٹر کی تصدیق کرانا ضروری ہے ۔ پرائیوٹ ڈاکٹر کا تصدیق کردہ میڈیکل سرٹیفکیٹ قابل قبول نہیں ہو گا۔ سرٹیفکیٹ میں درخواست گزار کی عمر‘ بلڈ گروپ ‘ جن دواﺅں سے اسے الرجی ہے اور دیرینہ بیماریاں جن کے لئے مستقل دوا استعمال کی جاتی ہے کا اندراج کیا جائے گا ۔ اسکے علاوہ درخواست گزار کے جسمانی طور پر سفر حج کے قابل ہونے ‘ اس کے لئے معاون یا وہیل چیئر کے استعمال کی ضرورت کے بارے میں بھی واضح طور پر لکھا جائے گا ۔ کسی قسم کی چھوت کی بیماری کے مریض یا حاملہ خواتین سفر حج پرجانے کی اہل نہیں۔ روانگی سے قبل حاجی کیمپوں میں بھی عازمین کا طبی معائنہ کیا جائے گا اور ان میں بیماریوں کی علامات کی صورت میں انہیں سفر حج پر روانگی کی اجازت نہیں ہو گی ۔

 پاکستانی حاجیوں کے لئے حاصل کی جانے والی رہائش گاہوں کی اس مرتبہ ایک ہی کیٹیگری ہو گی ۔ کراچی ‘ سکھر‘ اور کوئٹہ سے جانے والے حاجیوں کو 2لاکھ62ہزار231روپے فی کس جبکہ لاہور‘اسلام آبادپشاور ‘ ملتان‘ فیصل آباد ‘ سیالکوٹ اور رحیم یارخان سے جانے والے ہر حاجی کو 2لاکھ72ہزار231روپے فی کس جمع کروانے ہوں گے۔ گورنمنٹ سکیم کے تمام حاجی مناسک حج کی ادائیگی کے پانچ دنوں کے دوران منٰی‘ عرفات اور مزدلفہ میں سفر کے لئے مشاعر ٹرین استعمال کریں گے ‘اس کے سفری اخراجات کے طور پر250 ریال بھی اس پیکیج میں شامل ہیںتا ہم اس مرتبہ قربانی کے لئے 450ریال ان واجباتِ حج میں شامل نہیں کئے گئے ‘ اگر کوئی حاجی اسلامک ڈویلپمنٹ بنک سے قربانی کروانا چاہے تو اُسے14ہزار 500روپے الگ سے جمع کروانے ہوں گے۔اس کے علاوہ ہر حاجی کے پاس سعودی عرب میں تقریباً40 دن قیام کے دوران روزمرہ اخراجات کے لئے کم ازکم دو ہزار ریال کا انتظام ہونابھی ضروری ہے جس کا بندوبست حاجی کو خود کرناہے۔

درخواستیں قومی بینکوںکی نامزد برانچوں میں جمع کروائی جا سکتی ہیں۔ درخواستیں جمع کرواتے وقت مقررہ خانے میں تاریخ اور وقت کا اندراج ضرور کرائیں ۔ عازمین حج درخواست فارم خود پُر کریں یا کسی سے پُر کرواکے غور سے سن لیں تاکہ ان کے کوائف کا درست اندراج ہوسکے ۔ درخواست فارم پُر کرنے سے پہلے ضروری ہدایات اچھی طرح پڑھ اور سمجھ لیں تاکہ کسی غلطی کی وجہ سے درخواست مسترد نہ ہو ۔ غلطی سے بچنے کے لئے حج درخواست فارم پُر کرنے سے پہلے اس کی فوٹو کاپی کرواکر پُر کریں اور اصل درخواست فارم اس کے بعد پُر کریں۔ فارم سیاہ روشنائی والے قلم سے خوشخط انگریزی میں نہایت احتیاط سے پُر کریں۔ کوئی حرف غلط لکھا جائے تو اس پر سفید فلوڈ لگا کر دوبارہ اس خانہ میں صاف صاف لکھیں۔ احتیاط کریں کہ کوئی حرف یا ہندسہ خانے کی کسی لکیر کو نہ لگے ۔ درخواست فارم میں اپنے کوائف درست اور مکمل طور پر لکھیں ‘ فارم کا کوئی کالم خالی نہ چھوڑیں اورغیر متعلقہ کالم کاٹ دیں۔ ایک خانے میں صرف ایک حرف یا ہندسہ لکھیں ۔ حج درخواست فارم میںنادرا کے جاری کردہ شناختی کارڈ کا نمبر درج کرتے وقت ڈیش (-) نہ ڈالیں ۔ نام‘ ولدیت یاخاوند کے نام سمیت تمام خانوں میں ہر لفظ کے بعد ایک خانہ خالی چھوڑ دیں۔

فارم میں اپنا وہی نام ‘ ولدیت‘ زوجیت لکھیں جو پاسپورٹ پر درج ہے ۔ نام‘ ولدیت لکھتے وقت مسٹر‘ مسز ‘ مس وغیرہ کے الفاظ نہ لکھیں۔ نام‘ ولدیت یا زوجیت لکھنے سے پہلے دیکھ لیں کہ نام کا کوئی حصہ خانوں سے باہر نہ ہو ۔ خواتین اپنے شناختی کارڈکے مطابق حج درخواست فارم پر اپنے والد یا خاوند کا نام لکھیں ۔ ایسی شادی شدہ خواتین جن کے شناختی کارڈ پر ابھی تک خاوندکا نام نہیں لکھا گیا اور وہاں والد کا نام لکھا ہو ا ہے‘ وہ اپنے حج درخواست فارم پر خاوند کی بجائے والد کانام ہی لکھیں ورنہ نادرا سے ان کے شناختی کارڈ کی تصدیق نہیں ہو سکے گی ۔ خط و کتابت کے لئے درخواست فارم پر اپنا موجود ہ پتہ لکھیں جہاں سے ڈاک بآسانی مل سکے۔تحصیل کوڈ کے خانے میں کوڈ درج کرنے کے لئے کوڈلسٹ متعلقہ بینک سے دیکھی جا سکتی ہے ۔ فارم پر ہلکے نیلے پس منظر میں بنوائی گئی 4x3 سینٹی میٹرسائز کی تصویر چسپاں کریں‘ اسے سٹیپل نہ کریں۔ درخواست فارم پر اپنے انٹرنیشنل پاسپورٹ کے فوٹو والے صفحے کی فوٹو کاپی چسپاں کرنا ضروری ہے ۔ ہر درخواست دہندہ نے حج درخواست فارم پر پانچ جگہ دستخط کرنے ہیں۔

عازمین حج انفرادی طور پر درخواست جمع کروا سکتے ہیں ۔ تاہم ایک خاندان‘ محلے یا علاقے کے لوگ یا دوست احباب مل کر10سے25افراد پر مشتمل گروپ بھی بنا سکتے ہیں ۔ گروپ خود ترتیب دیں اور اپنے گروپ میں سے کسی تعلیم یافتہ اورمناسک حج سے آگاہی رکھنے والے شخص کو گروپ لیڈر نامزد کریں اور اس کا درخواست فارم نمبر گروپ کے باقی افراد کے فارم میں گروپ لیڈر کے خانے میں لکھا جائے ۔ گروپ میں شامل تمام افراد کا مقام روانگی‘ رہائش کی کیٹگری‘ فقہ،گروپ لیڈر کا درخواست نمبر اور واجبات حج مع درخواست فارم جمع کرانے کی تاریخ اور وقت ایک ہونا ضروری ہے ورنہ گروپ میں موجود ہر فرد گروپ لیڈر کے تابع ہوگا ۔ گروپ لیڈر کو بتایا جائے کہ وہ گروپ لیڈر بنادیا گیا ہے اور گروپ لیڈر کو اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے۔ اسی طرح عازمین حج کو بھی مطلع کیا جائے کہ فلاں شخص ان کا گروپ لیڈر ہے ۔ گروپ میں کوئی سگریٹ نوش شامل کرنے کی صورت میں گروپ کے ممبران اور لیڈر سے اجازت لی جائے ۔ معذور افراد اپنے سفری معاون کے ساتھ درخواست دے سکتے ہیں۔ معذور افراد کے درخواست فارم میں ان کے ساتھ جانے والے معاون کا نام اور درخواست نمبر ضرور لکھاجائے۔معاون کا معذور کے گروپ میں سفر کرنا لازمی ہے۔حج درخواستیں جمع کروانے والے تمام مرد وخواتین کسی بااعتماد شخص یا قریبی عزیز کو نامزد کریں۔ درخواست فارم میں نامزد کے خانے میں کسی ایسے شخص کا نام تحریر کریں جس سے کسی حادثے کی صورت میں فورا رابطہ کیا جاسکے اور وہ حاجی بقایا جات حقداروں کو پہچانے کا ذمہ دار ہو ۔ بہتر ہے کہ نامزد افراد حاجی کے حقداروں یا خاندان سے ہو ۔ حاجیوں کے تحفظ کے لئے وزارت مذہبی امور نے تکافل فنڈ قائم کیا ہے ۔ اس فنڈ میں 400روپے فی کس جمع کروانے کے عوض دوران حج وفات ‘ معذوری یا زخمی ہونے کی صورت میں حج پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا ۔ حج کے دوران طبعی یا حادثاتی موت کی صورت میں مروجہ قوانین کے تحت سعودی عرب میں دفن کیا جائے گا۔

 فقہ جعفریہ کی خواتین کے لئے سفر حج پر جانے کے سلسلے میں محرم کی شرط نہیں ہے۔ اہل سنت کے تمام مسالک کے نزد یک خواتین کے ساتھ شرعی محرم کا سفر کرنا ضروری ہے۔ ایک محرم کے ساتھ زیادہ سے زیادہ چار خواتین سفر کرسکتی ہیں۔شرعی محرم میں شوہر، والد، بھائی ، بیٹا، دادا، نانا، سسر، چچا، ماموں ، بھتیجا ، بھانجا ، پوتا، نواسا اور داماد شامل ہیں۔ خواتین محرم کے ساتھ شرعی رشتہ اور شرعی رشتہ کا کوڈ متعلقہ خانے میں درج کریں‘ محرم کا حج درخواست نمبر متعلقہ خانے میں درج کریں اور محرم سے دستخط کروائیں۔ تاہم ا س نیک کام کے لئے جعلی محرم نہ بنائیں جائیں۔ یہ بات اکثر دیکھنے میں آتی ہے کہ بینکوں کا عملہ حج پر جانے والی تنہا خواتین کے جعلی محرم بنانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ حاجیوں کے گروپ بناتے وقت قطعی نا آشنا مردوں کو عورتوں کا محرم بنا دیا جاتا ہے جو نہ صرف شرعی اعتبار سے غلط ہے بلکہ خدا کو دھوکہ دینے کے مترادف بھی ہے۔ جعلی محرم سعودی عرب پہنچ کر اپنے ساتھ آنے والی ان خواتین کی مدد اور دیکھ بھال نہیں کر سکتے ، یہ خواتین بہت سے کام خود انجام نہیں دے سکتیں ‘ اس طرح حج کا سفران کے لیے مزید مشکل ہو جاتا ہے ۔

تمام عازمین کو حج درخواست فارم میں شامل اقرار نامے پر بھی دستخط کرنا ہوں گے جس کے تحت انہیں تمام سعودی قوانین کی پابندی کرنے‘سیاسی سرگرمیوں ‘ مذہبی تعصب اور کھلے عام سعودی حکام اور خدام الحجاج یا ان کے نمائندوں کے خلاف مظاہرے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ انہیں پاکستان حج مشن کی طرف سے جاری کی جانے والی ہدایات کی پابندی کرنے اور کوئی ایسا عمل نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرواناہوگی جس سے پاکستان کی عزت پر حرف آئے یاپاکستان کے جھنڈے یا کسی منقولہ و غیر منقولہ جائیدا د کو نقصان پہنچتا ہو۔

سعودی وزارت حج نے تمام ملکوں کو حاجیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ یہ تیاری جسمانی صحت کی حفاظت ‘ مناسک حج کی درست طریقے سے ادائیگی ‘ سعودی قوانین کی پابندی اور سعودی عرب میں قیام کے دوران روزمرہ مسائل کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے کے بارے میں ہے ۔ حج درخواستیں جمع کروانے والے اس مبارک سفر کی برکتیں سمیٹنے ‘ اسے اپنے رب کے لئے قابل قبول اور اپنی ذات کے لئے یادگار اور آخرت میں ذریعے نجات بنانے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کردیں ۔ مناسک حج درست طریقے سے ادا کرنے کے لیے مستند کتابوں کا مطالعہ کریں اور تربیتی پروگراموں میں ضرور شرکت کریں۔ حج تربیتی پروگرام کی ویڈیو سی ڈیز بھی دستیاب ہیں ‘ ان سے استفادہ کریں ۔ اپنے جسم کو اس مشقت طلب عبادت کے قابل بنانے کے لئے روزانہ ہلکی ورزش کریں ، پیدل چلنا معمول بنالیں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں تاکہ دوران حج انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

مزید :

کالم -