بارش میں بھیگتا ٹریفک وارڈن

بارش میں بھیگتا ٹریفک وارڈن
بارش میں بھیگتا ٹریفک وارڈن
کیپشن: tariq mateen

  

اٹھارہ اپریل کا دن لاہور میں اس برس اب تک کی سب سے زیادہ بارش کا دن تھا ۔ بادل زوردار دھماکے کررہے تھے اور بجلی حد نگاہ تک چھائے بادلوں میں یکایک چمکتی تو ایسا لگتا جیسے کسی گوری چمڑی سے جھانکتی رگ میں لہو لپکا ہو۔ پانی مسلسل برس رہا تھا ۔ ٹی وی چینلز ٹکرز چلارہے تھے ۔ فلاں جگہ بارش ، فلاں جگہ شدید بارش ، فلاں جگہ ہلکی اور فلاں جگہ بوندا باندی ۔ ٹکرز ہی پر یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ۔ سیرگاہوں میں رش ۔ محکمہ موسمیات کا اعلان آیندہ چوبیس گھنٹوں کی پیش گوئی ۔ سب کچھ ایک مشینی تسلسل کے ساتھ دہرایا جارہا تھا ۔ پندرہ بیس منٹ میں یہ بھی شروع ہوگیا کہ سڑکوں پر ٹریفک جام ، ٹریفک سگنلز بند اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ۔ بعض مقامات پر بجلی چلے جانے کے اعلانات بھی لال پٹیو ں پر ابھرنے لگے ۔ میں ٹی وی کے سامنے صوفے پر نیم دراز اپنی چھٹی کو انجوائے کرتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ فلاں ٹکر لکھوایا گیا ہوگا کسی نمایندے یا کسی ڈیسک پر کام کرنے والے کی جانب سے اور فلاں، ٹیبل اسٹوری کے ماہر کسی صحافی دماغ نے نیوز روم انچارج کی جھاڑ سے بچنے کے لیے خود گھڑ لیا ہوگا یہ سوچ کر یہ ٹکر بھی ابھی آہی جائے گا ۔ ہمارے نیوز چینلز کا عجیب حال ہے یا تو پرکھنے کا وہ خبط کہ اگر ایک رپورٹر خود بتادے کہ ” جناب چار لاشیں میرے سامنے اسپتال منتقل ہوگئی ہیں “ تو بھی سوال کیا جائے گا ” کیا پولیس نے چار ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے ؟“ اور کہیں وہ حال بھی ہم نے دیکھا کہ عمارت کی دوسری منزل پر آگ بھڑکتی دکھائی دے رہی ہے اور ٹکر چل رہا ہے ” آگ عمارت کی دوسری منزل پر لگی ہے ۔ ” ذرائع “۔

بہرحال ان ٹکرز سے میں اپنے لاو¿نج میں بیٹھا بیٹھا جب بہت دیر بھیگ چکا تو دل نے کہا اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔؟ یوں پڑے پڑے کیا کرتا ہے ۔؟میں نے چائے کا مگ میز پر پٹخا اور اسنوکر کھیلنے کا ارادہ کیے گھر سے نکلا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ کار میں گھسنے تک میری سبک رفتاری مجھے بھیگنے سے بچانے میں مکمل ناکام رہی تھی ۔ گاڑی آگے بڑھائی تو مجھے لگا کہ شاید غلطی کر بیٹھا ہوں کیوں کہ زوروں کی بارش بتارہی تھی کہ موسم کا مزاج بہت برہم ہے ۔ میری ونڈ اسکرین پر بارش اور وائپر کی لڑائی جاری تھی ۔ دونوں ہی ڈٹے ہوئے تھے ۔ وائپر پورا زور لگا پانی کو تتر بتر کرتا تو اگلے ہی لمحے موتیوں کی ڈھیر ساری لڑیاں اسکرین پر آگرتیں ۔ وائپر پھر انہیں توڑدیتا اور وزیبلٹی کو بڑھاتا ۔ گھر سے دوگلیاں پار کرنے کے بعد میں اب کیولری گراو¿نڈ سگنل پر موجود تھا ۔سگنل کی سانسیں بند تھیں ۔ بند شیشوں کے درمیان مجھے اگربارش کے سوا کوئی آواز سنائی دے رہی تھی تو موٹر سائیکلز کے انجنز کی غراہٹ تھی جنہیں بند ہونے سے بچانے کے لیے ریس دی جارہی تھی ۔ جمعے کی رات سوا آٹھ بجے کا وقت تھا ۔ میرے دونوں جانب گاڑیوں میں فیملیز موجود تھیں ۔لوگ اپنا ویک اینڈ شروع ہونے پر ہوٹلوں کے پیٹ میں بیٹھ کر اپنے پیٹ بھرنے کو بے تاب نظر آرہے تھے ۔ خواتین کے چہروں پر اگر اس موسم ، اس عالم اور اس لمحے کی کوئی خوشی رہی بھی ہوگی تو دکھائی نہیں دے رہی تھی کیونکہ میک اپ نظر آرہا تھا ۔

 سیدھے ہاتھ پر موجود چھوٹی گاڑی میںایک موٹی عورت ٹھسے سے بیٹھی تھی ۔ ساتھ ہی چہرے پر ایک” ٹریڈ مارک سنجیدگی“ بلکہ رنجیدگی کے ساتھ شوہر نما ”چیز “ موجود تھی اور پچھلی نشست پر امت مسلمہ میں ان کے تین ”اضافے “ موجود تھے۔ بائیں ہاتھ پر کھڑی گاڑی میں موجود جوڑے کی عمریں اور خوش مزاجی بتارہی تھی کہ ابھی عشق کا امتحاں” نیا نیا“ ہے اور گاڑی کی پچھلی خالی نشست بھی اس بات کو ثابت کررہی تھی ۔ میرے سامنے سگنل کے اس پار شامی روڈ کبھی نظر آتا اور کبھی چھپ جاتا ۔ جناح فلائی اوور سے اترنے والی اور اس پر چڑھنے کے لیے دوڑتی گاڑیوں کے درمیان سگنل کے بیچوں بیچ وہ کھڑا تھا ۔ سرمئی وردی بھیگ کر گہری سرمئی ہوچکی تھی ۔ اس بارش میں کوئی عقل کا اندھا مزید اندھا ہو کر اسے اڑانے باز رہے ، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اس نے چمکدار سبز جیکٹ پہن رکھی تھی ۔ ایک کالے رنگ کی چھتری اگر وہ معصوم خود کو بچانے کو تھامے ہوئے تھا بھی تو تیزی سے اس کے پاس سے گزرتے ہوئے لوگ کہہ رہے تھے ۔ یہ لے ، یہ بھی لے اور لے ۔ریئر ویو مرر میں گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی اور میرے دونوںجانب موجود گاڑیوں میں موجود لوگوں کاصبر گھٹ رہا تھا ۔ ہارن بجنا شروع ہوگئے ۔ بارش اور تیز ہوگئی ۔ موٹی عورت کے نتھنے پھول رہے تھے اور شوہر نما چیز کا چہرہ سوج رہا تھا ۔ میں نے بھی اکتاہٹ سے سامنے دیکھا ۔ ٹریفک وارڈن کی کالی چھتری تیز ہوا نے اچانک پلٹ دی ۔ اب اس کے اندر پانی جمع کیا جاسکتا تھا ۔ وارڈن نے جھٹ سے اسے بند کیا اور مکمل بھیگتے ہوئے اسے اشارے کے لیے استعمال کرنے لگا ۔ اس کا ہاتھ بڑا ہوگیا تھا ۔ مجھے اسے دیکھ کر اندازہ ہورہا تھا کہ اسے سردی بھی لگ رہی ہے ۔ وہ گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کرنے لگا تاکہ شامی روڈ سے جناح فلائی اوور کو جانے والوں کو آگے بڑھائے مگر ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ ہی نہیں رہا ۔گاڑیاں آگے بڑھ رہی تھیں ۔ انتظار کرنے والوں کے ہاتھ اب ہارن پر چڑھ چکے تھے اور ان کی چیخوں سے بارش کی آواز کی لڑائی جاری تھی ۔ Its raining cats and dogs میری نظروں کے سامنے تھا ۔جب اسے یقین ہوگیا کہ اس کے ہاتھ کے اشارے کوئی آنکھ نہیں سن رہی تو اس نے اس دھندلے منظر میں اپنی جان خطرے میں ڈالی ۔ دونوں ہاتھوں سے گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ جناح فلائی اوور سے نیچے کو دندناتی ہوئی گاڑیوں کے سامنے آگیا ۔ایک بار ہارن اور زور سے چیخے ، بریکس لگے اور گاڑیاں رک گئیں۔ کچھ نکل بھی گئیں ۔ ایک گاڑی پھسلتے پھسلتے عین اس کے سامنے آکر رکی ۔ وہ بال بال بچا ۔ ایک ڈیڑھ ہشیار نے آہستہ ہوتے ہوتے بھی نکلنے کی کوشش کی مگر اس نے اس کی گاڑی کا بونٹ تھپتھپا کر اسے روکا ۔ یہی مشقت اسے جناح فلائی اوور کی جانب حملہ آور گاڑیوں کے خلاف بھی کرنا پڑی ۔ اس درد سے نجات پانا ایک نئی مصیبت کو جنم دے چکا تھا اب شامی روڈ کو جانے والے اور وہاں سے آنے والے سڑک پر آمنے سامنے تھے ۔ ٹریفک جام ہوگیا تھا ۔ گاڑیوں میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو وہ آنکھیں دکھانے کی کوشش کررہے تھے جو اس بارش میں نظر بھی نہیں آرہی تھیں۔ انجینئرز ، ڈاکٹرز ، آرمی آفیسرز سب کے سب صبر و تحمل بھول بھال پھر ہارنز پر چڑھ بیٹھے تھے ۔ کچھ زیر لب بڑبڑارہے اور کچھ کل سنبھالنے والوں کو آج ہی نازیبا کلمات سکھا نے پر تلے تھے ۔مگر اس کا اطمینان کمال تھا ۔ اس نے کچھ سے درخواست کی ، کچھ کو سامنے آکر مسئلہ بڑھانے سے روکا اورآہستہ آہستہ کوشش کرتے ہوئے ٹریفک کو رواں دواں کرہی دیا ۔ لوگ آگے بڑھنے لگے ۔ موٹی عورت کے نتھنے نارمل ہوئے نہ شوہر نما چیز کا چہرہ ،البتہ نو بیاہنا جوڑے کی خوش مزاجی لوٹ آئی ۔ لڑکی نے ایک شرارتی قہقہہ بکھیر کر لڑکے کے کاندھے پر ایک ہلکے تھپڑ کے ذریعے اپنی محبت کی مہر لگائی ۔ میرا تصوراتی اسنوکر میچ پینتیس پوائنٹس کے بریک کے ساتھ رک گیا۔ تخیل میں داد بھی ملی ویل ویل پلیڈ کی صدا آئی۔ میں اس کی ایمانداری پر فدا تھا جو اس تمام مصیبت میں حصول رزق حلال عین عبادت کا بورڈ بنا کھڑا تھا ۔میں نے سوچا اس کی بھی تعریف بنتی ہے ۔ پاس سے گزرتے ہوئے ” ویلڈن دوست ، کیپ اٹ اپ “ کہتا ہوا جاو¿ں گا ۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے گاڑی اس کے نزدیک کی ، آٹو کا بٹن دبا، شیشہ نیچے سرکا اور میرا ”ویلڈن دوست “ ارے آئی ایم سوری میں تبدیل ہوگیا ۔ ٹائر سڑک پر موجود چھوٹے سے نشیب میں اترا ، کچھ پانی اچھلا وہ اور بھیگ گیا مگر میرے سوری کے جواب میں اس کی مسکراہٹ کہہ رہی تھی ۔ ”اٹس آل رائٹ“۔

مزید :

کالم -