مقدس پیشہ کا تقدس

مقدس پیشہ کا تقدس
مقدس پیشہ کا تقدس

  

2011 میں مقدس فریضہ کی ادائیگی کیلئے اللہ پاک نے طلب فرما یا تو اس وقت میری قوت سما عت میں کچھ کمی ہوچکی تھی ، میں نے یہ خیا ل کر تے ہوئے کسی ای این ٹی ڈاکٹر سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا کہ اگر کسی علاج یا دوائی سے قوت سما عت میں بہتری پیدا ہوگئی تو سفر حج مزید خوشگوار ہو جائیگا ۔تاہم اہلیہ صاحبہ کی موجودگی کے باعث قوت سما عت میں کمی سے بڑا فرق نہیں پڑیگا ۔ جب سے ثریا عظیم ہسپتال چوک چوبر جی کا انتظام جماعت اسلامی کے پا س آیا ہے ،میں ہمیشہ اس ہسپتا ل کو ہی تر جیح دیتا ہوں ۔لا ہور کے پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت یہاں تمام شعبو ں کے کنسلٹنٹ ( سپیشل ڈاکٹر حضرات ) اپنے رویہ اور معاوضہ کے اعتبا ر سے سستے اور اچھے ہیں سرکاری ہسپتا لوں میں تو سپیشل ڈاکٹر وں سے ملنا تا ممکن ہوچکا ہے ، اس لئے تمام دوستوں اور واقف کاروں کو یہاں جانے کا مشورہ دیتا ہوں ،اس لئے 2011 میں یہاں تمام سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی فیس 400 روپے مقرر تھی جبکہ ان دنوں دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں ایک ہزار سے دوہزار روپے تک فیس مقر ر تھی ۔بعض جگہ یہ فیس ڈھائی ہزار روپے تک وصول کی جارہی تھی جبکہ ایک ایک ما ہ تک کا مریضوں کو وقت دیا جاتا تھا سفر حج سے دو ماہ قبل میں نے ثریا عظیم ہسپتال کے ای این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر سید احمد شکیل سے فون پر وقت لیا اور شام کو کان چیک کرانے چلا گیا ۔

میر ی با ری پر انہوں نے مجھے بلا یا میرے دونوں کانوں کا بغور معائنہ کرنے کے بعد مجھے مشورہ دیا کہ میرے کانوں میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہیں ہے، اس لئے علا ج اور دوائی کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ کے کان بالکل ٹھیک ہیں،سماعت میں کمی کانوں کی کسی خرابی سے نہیں ہے، یہ معمول کے مطا بق عمر کے ساتھ ساتھ کمی ہوتی جاتی ہے جس طرح انسا ن کے دیگر اعضاء آنکھیں ،دانت یا بال کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں، اسی طرح قوتِ سماعت میں بھی فرق آنا معمول کا حصہ ہے ۔مجھے انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ مقدس سفر پر جائیں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی ،واپس آکر آپ کسی بھی جگہ سے اپنی سما عت چیک کرائیں اور اس کی رپورٹ مجھے دکھائیں ، یا (آڈیو لو جسٹ ) آ پ کو بتا دیگا کہ آپ کو آلہ سما عت کی ضرورت ہے یا نہیں ۔اگر اس کے بغیر آپ کا نظا م زندگی صحیح چل رہا ہے تو پھر چلنے دیں ، اگر ضرورت سمجھیں تو آلہ لگوالیں جب ان سے اجازت لیکر نکلنے لگا تو انہوں نے مجھے چارسو روپے فیس واپس لینے کی پر چی بھی دے دی کہ جس کا ؤنٹر پر آپ فیس جمع کرا کے آئے تھے وہ واپس لے لیجئے ۔میں نے کہا ڈاکٹر صا حب آپ نے بیس پچیس منٹ لگا کر مجھے چیک کیا ہے یہ آپکا حق بنتا ہے ،آپ واپس کیو ں کر نا چاہتے ہیں ،مگر انہوں نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کان چیک کرانے آئے تھے وہ با لکل ٹھیک ہیں اورمیں نے ان کا کوئی علاج ہی نہیں کرنا تو فیس کس چیز کی لو ں؟اگر کانوں میں کوئی مسئلہ ہوتا تو اس کا علا ج کرتا اور پھر فیس مجھ پر جائز ہوتی میں ڈاکٹر صاحب کے خوبصورت( باریش) چہر ہ کی طر ف دیکھتا رہا جو مجھے کسی انسان نہیں بلکہ کسی فرشتے کا چہرہ لگ رہا تھا چارسو روپے کی کوئی اہمیت نہیں تھی نہ ان کیلئے اور نہ ہی میرے لئے ،لیکن ڈاکٹر سید احمد شکیل اپنے پیشہ اور انسانیت کے اتنے ا علیٰ مرتبہ پر فا ئز ہیں ، خوفِ خدا نے ایسے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفا بھی رکھی ہے ۔

2011 سے 2016 تک اسی طرح سے میں اپنا نظام چلا رہا ہوں یہ مجھے پختہ یقین ہے کہ اب میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو انہوں نے آلہ سماعت لگانے کیلئے مشورہ دینا ہے ۔نہ جانے کیوں میں آلہ سماعت سے الر جک ہوں ، جبکہ عینک میں گزشتہ تیس سا ل سے لگا رہا ہوں جس کی کوئی تکلیف یا پریشانی نہیں ۔لیکن آلہ سماعت لگانے پر ابھی ذہنی آمادگی نہیں ہے ۔ گزشتہ اتوار کو ایک انگریزی اخبا ر میں اسلا م آباد سے صالح ظافر کی ایک رپور ٹ نظر سے گزری ۔ہمارے بہت پرانے دوست صالح ظا فر کی اس لائق تعریف رپورٹ کی تفصیل یوں ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی والدہ محترمہ کوسماعت میں مشکل پیش آرہی تھی جس کا علاج کرانے کیلئے وفاقی دارالحکومت کے ایک سرکاری ادارے سے وابستہ ماہر معا لج ای این ٹی ڈاکٹر محمد عرفان کی خدمات حاصل کی گئیں ،جنہوں نے بڑے انہما ک سے ان کا علاج کیا تقریباً تین ہفتے کے علاج معالجے کے بعد وزیر اعظم کی والدہ محترمہ مکمل طور پر تندرست ہوگئیں اور ان کی قوتِ سماعت بھی بہتر ہوگئی ۔اسی اخبا ر کا تراشا ساتھ لیکر میں کل ایک با ر پھر ثریا عظیم ٹرسٹ میں وقت مقر ر کر کے شام کو ڈاکٹر احمد شکیل صاحب کے پاس گیا انکوائری سے معلو م ہو ا کہ ڈاکٹر صاحب شام چھ سے آٹھ بجے تک مریض دیکھتے ہیں ۔مجھے سب سے آخری ٹائم دیا گیا اور اب فیس بھی چار سو روپے سے بڑھا کر ہزارروپے کر دی گئی ہے ،تاہم دیگر پرائیویٹ ہسپتالوں کی نسبت اب بھی کم ہے ۔بعض ہسپتا لوں میں یہ فیس تین ہزار روپے تک ہو چکی ہے میں نے جانے سے پہلے اپنا آڈیو ٹیسٹ بھی کروالیا تھا اوراسکی رپورٹ بھی ساتھ رکھ لی تھی میں نے ڈاکٹر صاحب کو اخبار کا تراشا دکھایا اور ان سے پوچھا کہ اسلا م آباد کے ڈاکٹر نے کس طرح بذریعہ علاج وزیراعظم کی والدہ محتر مہ کی قوت سما عت بحال کردی ہے ۔اگر یہ ممکن ہے تو پھر مجھے بھی یہ ٹریٹمنٹ دیں ۔علاج تو دنیا بھر میں ہر جگہ یکساں ہی ہوگا ۔

ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کی والدہ صاحبہ کی قوتِ سماعت کان میں کسی خرابی کے باعث ہو ئی ہوگی جس کا انہوں نے علاج کر دیا مگر میرا دوبارہ معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ آپ کے کان با لکل ٹھیک ہیں اس لئے کوئی علاج کا رگر نہیں ہوگا آپ کا علاج صرف آلہ سماعت ہے، اب آپ وہ لگوا لیجئے آپ کو بہت اچھا سیٹ ہو جائیگاآپ کے کان مکمل طور پر تندرست ہیں ،جب میں اجازت چاہنے لگا تو انہوں نے ایک سلپ پر لکھ کر مجھے دیا کہ ان کے کانوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اس لئے انہیں فیس واپس کر دی جائے یہی الفاظ انہوں نے 2011 میں بھی استعمال کئے تھے 2011 اور 2016 میں پانچ سال کے دوران ہمارے رویوں میں کتنی تبدیلی آچکی ہے ،مہنگائی کتنی بڑھ چکی ہے ، سوچ کتنی بدل چکی ہے لیکن جذبہ ایمانی جہا ں موجود ہوتا ہے وہا ں انسان وحشی نہیں بن سکتے بلکہ ایسے لوگ روشنی کے مینار ہیں ،جن کی چمک سے معاشرہ روشن ہے ایسے ڈاکٹر وں کو اللہ جزادے ۔ڈاکٹر صا حب آپ جیسے لوگوں کی بدولت ہی اس مقدس پیشہ کا تقدس برقرار ہے

مزید :

کالم -