یہ بچے کلاس میں اپنی شرٹس اتار کر کیوں بیٹھے ہیں؟ وجہ ایسی کہ پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک جائیں گے

یہ بچے کلاس میں اپنی شرٹس اتار کر کیوں بیٹھے ہیں؟ وجہ ایسی کہ پاکستانیوں کے ...
یہ بچے کلاس میں اپنی شرٹس اتار کر کیوں بیٹھے ہیں؟ وجہ ایسی کہ پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک جائیں گے

  

کمالیہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گرمی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے اور اس سے ناصرف بڑے،بوڑھے بلکہ بچے بھی تنگ دکھائی دیتے ہیں اور بڑھتی ہوئی گرمی کی شدت کے پیش نظر پنجاب حکومت نے سرکاری اور نجی سکولوں کے اوقات کار بھی تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن گرمی کے ساتھ بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔

”ہائے میرے اللہ، اس نے خود کیساتھ کیا کر لیا۔۔۔“ مشہور ڈرامہ سیریل الفا، براوو، چارلی کی خوبصورت شہناز کی نئی تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کو ”جھٹکا“ دیدیا، دیکھنے والوں کی تو ”جان“ ہی نکل گئی

پنجاب کاچھوٹا شہر کمالیہ جو کہ دریائے راوی پر واقع ہے ایک سکول میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اساتذہ نے بچوں کی شرٹس اتراودیں۔”ڈیلی پاکستان گلوبل“ کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسی تصویر منظر عام پر آئی ہے جس میں کمالیہ کے ایک سکول میں لوڈشیڈنگ اور درجہ حرات 45 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھنے کے باعث سکول کے اساتذہ نے کلاس روم میں موجود بچوں کو گرمی کی شدت سے بچنے کیلئے اپنی شرٹس اتارنے کا کہا جس کے بعد بچے شرٹس کے بغیر ہی کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سکول کی انتظامیہ اور اساتذہ نے بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث لوڈشیڈنگ میں اضافے کو وجہ سے طلباء کے وقت کے ضیاع پر تحفظات کا اظہاربھی کیا ہے۔جیسے ہی گرمی میں اضافہ ہورہاہے تو پورے ملک میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ کر 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے اور کئی شہروں میں 6 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور کمالیہ جیسے چھوٹے قصبے میں 10 سے 12 گھنٹے روزانہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ 2012 ء میں کمالیہ کے ہی لوگوں نے لوڈشیڈنگ بڑھنے کی وجہ سے مسلم لیگ ق کے رہنما ریاض فتیانہ کے گھر پر حملہ کیا تھا جبکہ ایم این اے کے محافظوں کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ حکومت پنجاب نے بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں قبل ازوقت گرمیوں کی تعطیلات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید : چنیوٹ