مودی دورِ حکومت میں رام مندر کی تعمیر

مودی دورِ حکومت میں رام مندر کی تعمیر

لکھنو، پونا اور دیگر بھارتی شہروں میں انتہا پسند ہندوؤں نے رام مندر کی حمایت میں بڑے بڑے اشتہاری بورڈ لگا دیئے، جبکہ بھوجپوری میں بابری مسجد پر متنازع فلم تیار کر لی، جس پر سنسر بورڈ نے پابندی لگا دی۔ان پوسٹروں پرہو جنم بھومی پر مندر تعمیر، مسلمانوں کا بھی ہے یہی ارمان، جیسے نعرے درج ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی طرف سے لگائے گئے اشتہاری بورڈ میں مسلمان علماء کے فوٹو شامل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ علماء اور مذہبی شخصیات گویا ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر بنانے کی حمایت کر رہے ہیں۔ان مذکورہ پوسٹروں پر مزید چھ ایسے افراد کے نام اور تصویریں ہیں جو مسلم کمیونٹی کی معروف شخصیات ہیں۔ انہی میں مولانا کاظمی کا بھی نام تھا۔پونا کے مولانا شہاب احسن کاظمی نے بتایا کہ پوسٹر میں ان کی مرضی کے بغیر ان کی تصویر لگائی گئی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ پوسٹر پر میری تصویر ہے تو میں پریشان ہو گیا۔ مجھ سے پوچھے بغیر ہی میری تصویر اور نام کا استعمال کر لیا گیا۔ میں ان لوگوں کو جانتا تک نہیں۔

جب یہ معاملہ کورٹ میں ہے تو پھر اس مسئلے پر میں کون ہوتا ہوں کچھ بھی کہنے والا۔انہوں نے اس معاملے کی شکایت پولیس کمشنر سے کر دی ہے۔ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس میں ایک شاخ مسلمانوں پر بھی مشتمل ہے ’’مسلم راشٹر منچ‘‘ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا حامی ہے۔ اس کے صدر اعظم خان سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان پوسٹروں میں علماء کی تصاویر لگوانے میں ان کا ہاتھ ہے۔ لکھنو میں ریاستی اسمبلی کے باہر اور اہم چوراہوں پر یہ بورڈ راتوں رات لگائے گئے ہیں۔ انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ایما پر رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بھارت میں فضا ہموار کرنے کے لئے بابری مسجد پر متنازع بھوجپوری فلم تیار کر لی گئی۔ ’’بابری مسجد‘‘ نامی اس فلم پر بھارتی فلم سنسر بورڈ نے پابندی لگا دی۔ فلم کی ہدایت دیوپانڈے نے دی جبکہ بھوجپوری معروف اداکار کھسیری لال نے ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ہندو انتہاپسند کارکنوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا اور اس کے ملبے پر اب ایک عارضی مندر تعمیر ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور اسی کی سماعت کے موقعے پر اس طرح کے پوسٹر یو پی سمیت مُلک کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے آتے ہی انتہاپسندی کو فروغ دینا شروع کر دیا اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی ہدایت دے دی۔تاریخ میں پہلی بار بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکمراں جماعت بی جے پی کا وزیر اعلیٰ منتخب ہوا تو اپنی پہلی ہی میٹنگ میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کرنے کی ہدایت کی،جس کے بعد بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے اعلیٰ عدلیہ سے بابری مسجد کو لے کر مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان جاری تنازع کے حل کرنے کے لئے قبل ازوقت سماعت کی درخواست کردی۔ جس پر بھارتی چیف جسٹس جے ایس کھیہار نے فریقین کو معاملہ مذاکرات کے ذریعے عدالت سے باہر حل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ متنازع معاملات کو بات چیت سے حل کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے چیف جسٹس نے اپنی ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

ایودھیا کا تنازعہ بھارتی وزیراعظم مودی کی انتظامی صلاحیت کی اہم آزمائش بنتا جا رہا ہے۔نریندر مودی ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے لئے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایودھیا بھارت کا قدیم شہر ہے۔ تاہم کچی سڑکوں اور سیوریج کے کھلے نظام والے اس خستہ حال شہر میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی ہندو افراد کا مطالبہ ہے کہ یہاں مندر تعمیر کیا جائے۔ ایودھیا مندر مہم کے سربراہ نرتیا گوپال داس نے نریندر مودی کے حوالے سے کہا، ’’ہم امید رکھتے ہیں کہ مندر انہی کے دور اقتدار میں تعمیر کیا جائے گا‘‘۔ ایودھیا شمالی بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ہے،جہاں متنازعہ مقام پراب فوجیوں کا پہرہ ہے اور چاروں جانب حفاظتی مینار بنا دیئے گئے ہیں۔مودی ان ہندو انتہا پسندوں کو بھی ناراض نہیں کر سکتے جو ان کی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بھارتی وزیر اعظم کو اپنے ان سخت گیر ہندو حمایتیوں کے ہاتھوں مُلک کے معاشی ایجنڈے کو پٹری سے اترنے سے بھی بچانا ہے۔ بی جے پی کے اتر پردیش میں ریاستی سربراہ کاشو پرساد موریا سے جب ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے مطالبے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’ہم ہر جمہوری ادارے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس قضیے کو عدالت میں طے ہونا چاہئے‘‘۔

مغل دور میں قائم کی جانے والی تاریخی بابری مسجد کو 1949ء میں متنازع قرار دے کر بند کروادیا گیا تھا۔ انتہا پسند ہندؤں کا دعویٰ ہے کہ بابری مسجد ’رام‘ کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے اور اسی بنیاد پر چھ 6دسمبر1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔ 24برس قبل بابری مسجد کے انہدام نے بھارت کے آزاد ہونے کے بعد سب سے خونریز فسادات کو جنم دیا اور مذہبی تقسیم کو مزید پروان چڑھایا جو آج بھی قائم ہے۔ ایودھیا کا تنازعہ بھارتی وزیراعظم مودی کی انتظامی صلاحیت کی اہم آزمائش بنتا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں پھوٹنے والے فسادات کے نتیجے میں لگ بھگ 1000 افراد ہلاک ہو گئے تھے،جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...