’’آواز‘‘سے ’’آہنگ‘‘ تک

’’آواز‘‘سے ’’آہنگ‘‘ تک

خواتین و حضرات! برصغیر میں ریڈیو کی ابتدا کی تاریخ جتنی پرانی ہے، اتنی ہی پرانی اور دلکش ریڈیو کے رسالے کی روایت بھی ہے۔ جب اس خطے میں یکم جنوری 1936ء کو دہلی سے ریڈیو شروع ہوا تو گویا برصغیر میں رابطے، یعنی کمیونیکیشن کے حوالے سے ایک انقلاب آ گیا۔ اس انقلاب کی دلکش اور دلچسپ تفصیل و تاریخ کے لئے زیڈ اے بخاری کی ’’سرگزشت‘‘ ہی بہترین حوالہ ہے۔ پاک و ہند میں ریڈیو کی ابتدا کے دو سال کے اندر اندر ریڈیو کا رسالہ ’’آواز‘‘ کے نام سے منظرعام پر آ گیا، جس میں پروگراموں کی تفصیل، مضامین، انٹرویو اور تصاویر وغیرہ شامل ہوتے تھے۔تقسیم ہند کے بعد جب ریڈیو‘’’آل انڈیا ریڈیو‘‘ سے ’’ریڈیو پاکستان‘‘ میں تبدیل ہوا تو فوراً ہی ریڈیو کے رسالے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یوں 1948ء سے ریڈیو کا رسالہ ’’آھنگ‘‘ کے نام سے شائع ہونا شروع ہوا۔ سائنس کی ترقی، بالخصوص ذرائع ابلاغ میں انقلابی ترقی نے آج رابطے کی دنیا کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے۔ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، فیس بک اور ٹیویٹر وغیرہ نے ریڈیو سنے جانے کی اہمیت اور ضرورت کو کم کر دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو کا رسالہ ’’آھنگ‘‘ جو ہمارا اصل موضوع ہے، اسے بھی پس منظر میں دھکیل دیا گیا، تاہم ایف ایم چینلز کے آ جانے سے ریڈیو کے سنے جانے میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔آج ریڈیو پر بے شمار ایف ایم چینلز کام کر رہے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ ایف ایم چینلز نے ریڈیو کو نئی زندگی عطا کی ہے، تو غلط نہ ہو گا۔ریڈیو دوبارہ ذوق و شوق سے سنا جانے لگا ہے۔ ایک جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دنیا میں ریڈیو سننے کے لئے انٹرنیٹ اور موبائل فون پر انحصار بہت بڑھ گیا ہے۔ایف ایم چینلز کے لئے 62فیصد پاکستانی سامعین موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ 40فیصد ریڈیو کے سامعین ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے بھی اپنے پروگرام ایف ایم چینلز سے شروع کر دیئے ہیں جو وقت کی ضرورت بھی تھی۔

ریڈیو پاکستان اور اس کا رسالہ ’’آھنگ‘‘ لازم و ملزوم رہے ہیں۔ یہ بہت شوق سے پڑھا جانے والا ماہنامہ ہے جو نہ صرف ریڈیو کے پروگراموں سے آگاہ رکھتا ہے،بلکہ دیگر ادبی موضوعات پر بھی تحریریں شامل کرتا ہے۔’’آھنگ‘‘ ریڈیو کی تاریخ ہے اور اس کے پرانے پرچوں سے آپ کو ماضی میں ریڈیو کے مقبول پروگراموں سے آگاہی ہوتی ہے، بلکہ اس دور کے فنکار،صداکار، گلوکار، موسیقار اور رائٹرز سے بھی تعارف ہوتا ہے۔’’آھنگ‘‘ میں بڑے ادیب اور نامور لکھاریوں کی تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔پاکستان میں جب کبھی ریڈیو پاکستان کی تاریخ مرتب کی جائے گی تو یہ ’’آھنگ‘‘ ہی سب سے بڑا ذریعہ اور حوالہ ہو گا جو پروگراموں سے لے کر فنکاروں، قلم کاروں اور فنی ماہرین، یعنی انجینئرز اور ریکارڈنگ کرنے والے اور صوتی اثرات کا جادو جگانے والوں سے تعارف کرائے گا۔ ’’آھنگ‘‘ میں پاکستان کے علاوہ دیگر ملکوں اور دیگر زبانوں میں پیش کئے جانے والے پروگراموں اور خبروں کی تفصیل بھی درج ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ’’آھنگ‘‘ باقاعدہ ایک ادبی مجلہ بھی ہے جس کی ادارت اور نگارشات میں نامور ادیب اور شاعر شامل رہے ہیں۔اس پرچے میں شائع ہونے والے انٹرویو، بالخصوص تصاویر، ہمارے ریڈیو ہی کی نہیں، بلکہ ادبی دنیا کی بھی تاریخ بیان کرتی ہے۔ یوں ’’آھنگ‘‘ ’’آواز خزانہ‘‘ کی ایک تحریری تاریخ بھی ہے۔اسی پرچے کی بدولت ماضی کے مقبول پروگراموں، ان کے لکھاریوں اور صداکاروں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والی پالیسی ساز شخصیات کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ پرانے ’’آھنگ‘‘ میں شائع ہونے والی صداکاروں کی تصاویر ایک مکمل تاریخ اور خزانہ ہے، جس میں پاکستان بھر کے ریڈیو سٹیشنوں کے فنکاروں کو دکھایا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ وقت کے جدید تقاضوں سے ہم ’’آھنگ‘‘ کرتے ہوئے ریڈیو پاکستان نے اپنے بیشتر میڈیم ویوز اور شارٹ ویوز چینلز ایف ایم پر بھی چلانے شروع کئے ہیں جس کی ایک مثال ریڈیو پاکستان لاہور کا 630 کلومیٹرز کے ساتھ ساتھ ایف ایم 93 پر چلنا شامل ہے ۔۔۔اسی طرح اب ریڈیو کے رسالے ’’آھنگ‘‘ کو بھی جدید خطوط پر اور لوگوں کی آسان رسائی میں لانا ضروری ہے۔

ہمیں بہت اچھی طرح یاد ہے جب ہم نے بھی آج سے 20سال قبل ریڈیو پر لکھنا شروع کیا تو ’’آھنگ‘‘ رسالہ مقبولیت کی بلندیوں پر تھا۔ لوگوں کو اس کا انتظار رہتا تھا اور یہ پرچہ آسانی سے کتابوں رسالوں کی دکانوں سے دستیاب ہوتا تھا، آج آپ کسی اخبار رسالے کی دکان پر ’’آھنگ‘‘ طلب کریں تو وہ آپ کی شکل دیکھنے لگے گا کہ یہ کس پرچے کا نام لے رہاہے۔’’آھنگ‘‘ بہت سستا اور سستے کاغذ پر شائع ہو کر بہت کم قیمت میں بآسانی دستیاب تھا۔ جس طرح کبھی محکمہ اطلاعات ونشریات کا ہفت روزہ ’’پاک جمہوریت‘‘مقبول و معروف تھا اور اس تک آسان رسائی تھی، لیکن اب یہ ’’پاک جمہوریت‘‘ بھی ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔اسی طرح ریڈیو کا رسالہ ’’آھنگ‘‘ بھی ماضی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اس وقت میرے سامنے ’’آھنگ‘‘ مارچ 2017ء کا شمارہ ہے۔اس کی پرنٹنگ، کاغذ، تصاویر اور تمام تر اشاعتی معیار و مواد پاکستان کے کسی بھی اول درجے کے رسالے سے کم نہیں،تاہم اس کی قیمت200روپے بہت زیادہ ہے۔ ہم بہت ضروری خیال کرتے ہیں کہ ’’آھنگ‘‘ کو پہلے کی طرح سستے کاغذ پر کم قیمت کے ساتھ بک اسٹال پر رکھاجائے۔ یہ پرچہ سب کی دسترس اور استطاعت میں ہو۔ اب جبکہ ایف ایم چینلز مقبول ہو رہے ہیں تو ’’آھنگ‘‘ بھی مقبول ہوگا۔ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ اس پرچے کی تشہیر کی جائے۔

کم از کم ریڈیو پاکستان کے تمام چینلز اور اس کے ایف ایم چینلز پر تو اس کی بلامعاوضہ تشہیر کی جا سکتی ہے۔جیسا کہ پہلے کبھی ہوتا تھا ۔’’آھنگ‘‘۔۔۔ دو روپے میں نت نئے رنگ۔ریڈیو کا رسالہ ’’آھنگ‘‘۔۔۔ ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ ذرائع ابلاغ جتنی بھی ترقی کر جائیں، اخبار اور رسالے کی اہمیت برقرار رہے گی اور ریڈیو کا رسالہ ’’آھنگ‘‘ جس میں معلوماتی مضامین، ریڈیو پاکستان کے مختلف سٹیشنوں کے بارے میں ان کے پروگرام اور فنکار لکھاریوں کے بارے میں بھی لوگ دلچسپی سے پڑھیں گے۔آخر میں ایک تجویز یہ بھی پیش کرنا ہے کہ جس طرح ریڈیو پاکستان اپنے پرانے پروگراموں کے چند مقبول حصے ’’آواز خزانہ‘‘ کے تحت سناتا ہے، اسی طرح ’’آھنگ‘‘ میں بھی ’’آھنگ‘‘ کے پرانے رسالوں میں سے تحریریں اور تصاویریں شائع کی جائیں اور اسے ایک باقاعدہ حصہ یا کالم بنایا جائے جو ہر ماہ اس میں شامل ہو۔برصغیر میں ریڈیو کی آمد کے ساتھ اس کا رسالہ ’’آواز‘‘ بھی شائع ہونے لگا تھا، اسی طرح 1948ء سے ریڈیو پاکستان بھی ’’آھنگ ‘‘ شائع کر رہا ہے، تاہم عوام اس سے بے خبر ہیں۔ریڈیو کومقبول کرنا ہے ‘ اس کے پروگراموں کو مقبول کرنا ہے تو ’’آھنگ‘‘ کو بھی مقبول کرنا ہو گا۔ ہمیں ’’آواز‘‘ سے ’’آھنگ‘‘ تک کا سفر کامیابی سے جاری رکھنا ہو گا اور اس کے لئے ایک مؤثر حکمتِ عملی اور ’’آھنگ‘‘ کو عوامی بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...