جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر

وزیراعظم نواز شریف نے وزارتِ پانی و بجلی کو بجلی کی کمی پورا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی کا بہانہ قبول نہیں،عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد از جلد ازالہ کیا جائے اور بروقت منصوبہ بندی نہ کرنے والے اہلکاروں پر ذمہ داری عائد کی جائے تاکہ آئندہ ایسی صورتِ حال پیش نہ آئے۔انہوں نے یہ بات بجلی کی کمی کے حوالے سے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں بجلی کی پیداوار میں کمی کے عوامل کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے متعلقہ محکموں کی طرف سے کوتاہی برتنے پر عدمِ اطمینان کا اظہار کیا کہ انہوں نے موسم کی شدت اور ڈیموں میں پانی کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قبل از وقت منصوبہ بندی کیوں نہیں کی۔ وزیراعظم نے فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام کو پہنچنے والی تکلیف کا جلد ازجلد ازالہ کیا جائے۔ دوسری جانب بے قابو لوڈشیڈنگ پر کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں، لاہور میں بھی مظاہرہ ہوا جہاں بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی،لیکن یہ پھر بھی قابو نہ آیا، پیپلزپارٹی نے لوڈشیڈنگ کے خلاف مُلک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز 22 اپریل کو آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے ہو گا۔

مُلک میں اِس وقت جتنی بھی لوڈشیڈنگ یا لوڈ مینجمنٹ ہو رہی ہے وہ بنیادی طور پر بجلی کے اس شارٹ فال کی وجہ سے ہے جو طلب اور رسد کے درمیان موجود ہے، شارٹ فال میں اچانک اضافہ گرمی کی شدت بڑھنے سے ہوا اور دوسری وجہ دریاؤں میں پانی کی کمی بنی، پانی اِس لئے کم ہو گیا کہ مارچ کے مہینے میں ڈیموں سے زیادہ پانی ریلیز کر دیا گیا، اقتصادیات کا سادہ اصول ہے کہ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور ضروریات لامحدود، توازن وہاں قائم رہتا ہے جہاں وسائل سوچ سمجھ کر خرچ کئے جاتے ہیں مثلاً ہمارے پاس اگر ڈیموں میں پانی کم تھا تو دانشمندی کا تقاضا یہ تھا کہ اِس محدود پانی کو بچا کر رکھا جاتا، جب پانی کی ضرورت زیادہ پانی ریلیز کر کے پوری کر دی گئی تو ظاہر ہے ڈیموں میں تو کمی واقع ہونا تھی سو ہوئی۔

اب آپ اسے ناقص منصوبہ بندی کہہ لیں، بے تدبیری کہہ لیں یا اس کا کوئی اور اچھا بُرا نام رکھ لیں، بڑا ڈیم نہ بنا کر پاکستان سے بطور مُلک اور پاکستانیوں سے بطور قوم جو پہاڑ جیسی غلطی رونما ہو چکی ہے اس کا ازالہ چھوٹے موٹے اقدامات سے تو ممکن نہیں، بجلی کی پیداوار میں اضافہ تھرمل ذرائع سے بھی کیا جا سکتا ہے، سولر بجلی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ ونڈ انرجی بھی بجلی کی تھوڑی سی مقدار عطا کر سکتی ہے، انرجی سیونگ ڈیوائسز کے ذریعے بھی بجلی بچائی جا سکتی ہے،لیکن لوڈشیڈنگ پوری طرح اُس وقت ختم ہو گی جب ضرورت کے مطابق بجلی بنے گی۔ بڑا ڈیم بنا کر ہم نے پانی سٹور کرنے کی جو صلاحیت حاصل کرنی تھی وہ نہیں کر سکے وزارتوں کے سیکرٹریوں کی سرزنش سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، افسروں کی اکھاڑ پچھاڑ بھی اِس کام کے لئے مفید نہیں ہو سکتی، وزیراعظم یا اُن کا عملہ اگر کسی پر ناراض ہوتا ہے تو ہوتا رہے، پانی اور بجلی کا مسئلہ تو اُسی وقت حل ہو گا جب ڈیم بنے گا۔

جن دِنوں ہمارا مُلک سیلاب میں ڈوبا ہوتا ہے اُن دِنوں ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا، تو پانی کی کمیابی والے ایام میں آخر پانی کہاں سے آئے گا؟ہمارے بقراط اِس نتیجے پر تو پہنچ گئے کہ بڑا ڈیم نہیں بنانا، اب اِس بے تدبیری کی وجہ سے پانی کی کمی کا سامنا ہے تو پھر اسے برداشت تو کرنا ہو گا یا اِس کا حل نکالنا ہو گا۔اگر پانی کی کمی اور نتیجے کے طور پر بجلی کی قلت محض کسی افسر کی ڈانٹ ڈپٹ سے دور ہو سکتی ہے تو یہ کون سا مشکل کام ہے، صبح اُٹھ کر دو چار افسروں کو معطل کریں، چند ایک کی ڈانٹ ڈپٹ کریں، دو چار تبادلے کریں، مسئلہ حل ہو گیا! لیکن ایسے کبھی ہوا ہے نہ ہو گا۔

ہم نے سستی بجلی کا راستہ دانستہ چھوڑ دیا اور بہت سوچ سمجھ کر مہنگی بجلی کی جانب چلے گئے،لیکن یہ مہنگی بجلی بھی تو ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں، اس وقت تو عوام اِس بات پر خفا ہیں کہ بجلی مل نہیں رہی، فرض کریں کسی کرشمے کے نتیجے میں بجلی ملنا شروع ہو جائے تو پھر اِس بات پر احتجاج ہو گا کہ یہ مہنگی کیوں ہے؟پانی سے سستی ترین بجلی حاصل ہو سکتی ہے۔جنرل(ر) پرویز مشرف نے اس صدی کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ کالا باغ ڈیم بھی بنائیں گے اور بھاشا ڈیم بھی، ان دونوں ڈیموں کی تکمیل کی تاریخیں بھی انہوں نے دی تھیں اُن کا خیال تھا کہ2013ء یا 2014ء میں یہ دونوں ڈیم بن جائیں گے اور قوم کی خدمت کر رہے ہوں گے،لیکن یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، خوابوں کا کیا ہے پورے ہوئے ہوئے، نہ ہوئے نہ ہوئے۔ انہوں نے دونوں ڈیم بنانے کے لئے کون سا عملی کام کیا تھا؟ گر کوئی کیا تھا تو آج بھی سامنے لانے کے لئے موجود ہیں وہ بتا سکتے ہیں، وہ خیالی پلاؤ پکاتے پکاتے رخصت ہو گئے اور اب واپس آنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،اُن کے جانشین بھی پانچ سال حکومت کرتے رہے اور زیادہ نہیں تو اتنی ہی لوڈشیڈنگ ہوتی رہی جتنی اب ہو رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں کتنی بجلی کا اضافہ کیا، اُن کے دفتر میں اعداد و شمار تو ہوں گے وہ عوام کے سامنے لائیں۔

موجودہ حکمرانوں کو چار سال حکومت کرتے ہوئے ہو گئے ہیں، کالا باغ ڈیم کی تعمیر یہ بھی شروع نہیں کر سکے، بھاشا ڈیم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں لیکن بات زمین کی خریداری سے آگے نہیں بڑھ سکی، علمِ اقتصادیات کے فارمولے کے مطابق اگر باقی معاملات جوں کے توں رہتے ہیں اور مزید بگڑتے نہیں ہیں تو بھی بھاشا ڈیم اگر پوری رفتار سے آج شروع کر دیا جائے تو جلدی سے جلدی دس سال میں مکمل ہو گا،لیکن آج ڈیم کون شروع کر رہا ہے اس لئے اگر دس سال کی بجائے بارہ پندرہ بیس سال بھی لگ جائیں تو حیرت کی کوئی بات نہیں اِس دوران متبادل ذرائع سے بجلی کے حصول کی خاطر چھوٹے منصوبے تو بنتے رہیں گے،جیسے آج بھکھی میں 1180 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا افتتاح ہو گیا، نوری آباد (سندھ) میں نجی شعبے کے منصوبے کو گیس مل جائے تو ایک سو میگاواٹ بجلی بنانا شروع کر سکتا ہے، اسی طرح باقی منصوبے ہیں،لیکن اگر ضرورت بڑھے گی تو لوڈشیڈنگ بھی بڑھے گی۔

لوڈشیڈنگ مستقل ختم کرنی ہے تو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا، درست اور دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے جو دور رس نتائج کے حامل ہوں۔ اگلے چند سال میں پانی کا بحران بھی منہ کھولے نظر آ رہا ہے، زیر زمین پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، دریاؤں پر بھارت بند باندھے چلا جا رہاہے اور ہم ہیں کہ فروعات میں الجھ کر زندگی کے اصل حقائق اور چیلنجوں سے منہ موڑ کر بیٹھے ہیں اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ پانی و بجلی کے افسر تبدیل کرتے رہنے اور سرزنش کرنے سے یہ سب مسائل حل ہو جائیں گے، نہیں جناب ایسا نہیں ہو گا، نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ اب ہو گا، فیصلے بولڈ اور ٹھوس کریں، دانش اور تدبیر کا استعمال کریں، نمائشی اقدامات کو چھوڑیں حقائق کا سامنا کریں، چھ سات ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال سرزنش سے پورا ہونا ہوتا تو یہ بہت آسان حل تھا، اس کی بھول بھلیوں سے نکل کر زندگی کے حقائق کا سامنا کریں اور اُن کے مطابق فیصلے کریں۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...