پاناما! آج فیصلہ آجائے گا!

پاناما! آج فیصلہ آجائے گا!
 پاناما! آج فیصلہ آجائے گا!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ جو ہنگامہ برپا تھا اور ہے، یہ تو آج اپنی حد کو پہنچ ہی جائے گا، لیکن اس کے بعد جو کچھ شروع ہوگا وہ پھر ایک تاریخی۔۔۔ ہوگا، اگرچہ فریقین نے بظاہر کھلے دل سے عدالتی فیصلے کو قبول کرنے اور ماننے کا اعلان کیا ہوا ہے لیکن عمل یہ بتاتا ہے کہ جو بھی سامنے آئے گا اس کے مطابق ایک سیاسی رد عمل ضرور شروع ہو جائے گا، آج (جمعرات) پاناما کا فیصلہ ہے، لارجر بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا تھا کہ فاضل جج حضرات کو یہ فکر نہیں کہ کون کیا کہتا یا کیا کہے گا، فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا، اور ایسا تاریخی ہوگا کہ لوگ بیس سال تک یاد رکھیں گے، مسٹر جسٹس عظمت سعید نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ یہ فیصلہ عمر بھر کے لئے مثال ہوگا۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجربنچ نے بڑے تحمل سے پاناما گیٹ کی سماعت کی، فریقین کے دلائل سنے، سوالات کئے، دلچسپ ریمارکس بھی دیئے اور پھر فیصلہ یہ کہہ کر محفوظ کیا کہ مختصر فیصلہ نہیں سنایا جائے گا، یہ بات بڑی حد تک درست اور سب کو پسند آئی کہ جو کچھ ہونا ہے ایک ہی بار ہو، اور ایک انتظار سے دوسرے انتظار کی سولی نہ چڑھنا پڑے، چنانچہ آج تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جائے گا اور پھر فریقین کے لئے میدان کھلا کہ جو چاہے کہتے رہیں اگرچہ میڈیا کے دوستوں اور سیاست دانوں کے علاوہ تجزیہ نگار حضرات نے فیصلہ سے پہلے کئی قسم کے فیصلے سنادیئے حتیٰ کہ عدالت پر اعتماد کا اظہار کرتے کرتے عدم اعتماد جیسی گفتگو بھی کرگئے البتہ ہم اس سے گریز کریں گے کہ ہمارے نزدیک یہ توہین عدالت بھی ہوسکتی ہے درخواستوں کی سماعت کے دوران جو کچھ ہوتا رہا وہ اسی ذیل میں آتا تھا لیکن فاضل جج صاحبان کی فراخدلی سے نوٹس نہ لیا گیا بلکہ منع بھی نہ کیا گیاحالانکہ قانون اور عدالتی اصول کے مطابق مقدمات کے زیر سماعت ہونے کے دوران عدالتی اجازت کے بغیر کارروائی شائع یانشر نہیں ہوسکتی، ماسوا جو اس روز عدالت میں سماعت کے دوران ہو،نہ ہی کوئی تبصرہ اور تجزیہ کیا جاسکتا ہے، یہاں فاضل عدالت نے بہت ہی فراخدلی سے کام لیا اور کسی نوعیت کے عمل کو درخور اعتنا نہیں جانا، یہی وجہ ہے کہ آج تک بھی تبصرے اور تجزیئے ہوتے رہے ہیں۔

ہم عدالتی کارروائی سے اغماض برتتے ہوئے یہ گزارش ضرور کریں گے کہ ہمارے نزدیک اس فیصلے کے ملکی حالات اور سیاست پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں اور موجودہ محاذ آرائی کیا شکل اختیار کرسکتی ہے؟ جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو وہ درخواست گزار ہونے کے ناتے بھی ایک عملی فریق ہے اور اس کا بھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، چنانچہ عمران خان کی طرف سے فیصلے کے ممکنہ پہلوؤں پر غور کرنے کے لئے اجلاس بلالینا بے معنی نہیں ہے، اسی طرح پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری نے اگر مشاورت شروع کی ہے تو وہ بھی حیرانی کا ذریعہ نہیں کہ پیپلز پارٹی تازہ تازہ حقیقی اپوزیشن کی صورت میں سامنے آنا شروع ہوئی ہے، یوں بھی آصف علی زرداری کے چار قریبی ساتھی لاپتہ ہیں اور وہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان پر برہم ہیں جبکہ سندھ کی صوبائی حکومت اپنی جگہ بے چین اور پریشان ہے کہ وفاق تو وفاق عدلیہ بھی موافق نہیں اور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ سینے پر مونگ دل رہے ہیں،یہ عدلیہ ہی کے حکم سے ہے جبکہ وفاق بھی مرضی کا انسپکٹر جنرل دینے پر آمادہ نہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادلے کا بدلہ ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں پنجاب میں چیف سیکرٹری کے تبادلے پر ایسی ہی کشمکش ہوئی تھی اس کا تعلق عدلیہ سے نہیں، بلکہ براہ راست صوبے اور وفاق کا تھا تب بھی اختیارات کی تشریح بڑے پیمانے پر ہوئی تھی، اب یہ معاملہ سندھ اور وفاق کے درمیان ہے ۔

بات کہاں سے چلی اور کہاں نکل گئی مسئلہ تو اثرات کا تھا اور ہمارے تجربے کے نتیجے میں یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں محاذ آرائی میں بہت زیادہ شدت پیدا ہوجائے گی اور ابتری جیسے آثار ہوں گے کیونکہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی تحریک کی بات کرتی ہیں تو خود مسلم لیگ (ن) نے بھی سیاسی فیصلہ ہی کیا ہے اور منگل کی شب ہی وزیر اعظم محمد نواز شریف کے حق میں بینرز لگ گئے جو دو دھاری تلوار جیسے ہیں کہ بات خلاف گئی تو اور حق میں گئی پھر بھی احتجاج یا حمائت نہیں تو جشن اور بھرپور اعتماد کا اظہار، یہ تیاری موجود اور بہت پہلے سے کرلی گئی ہے، اس لئے اندیشہ ہائے دور دراز کے مطابق فضا میں تلخی گھلی ہوئی ہے اور جو محاذ آرائی چل رہی ہے اس میں مزید شدت پیدا ہوگی جس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اب اسے کیا کہیں کہ آج کے حالات میں کچھ غیر موافق بھی ہوا ہے، اور وہ یہ کہ پاناما پر شور ہنگامے ہی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار، ڈیموں میں پانی کے سٹوریج، موسم کی تبدیلی اور آنے والے وقت کوپیش نظر نہیں رکھا گیا، گرما گرمی کے ماحول میں لوڈشیڈنگ کو اپنے تئیں معقول حد میں رکھنے کے لئے پن بجلی کی پیداوار سے مستفید ہونے کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور ڈیموں سے پانی کے اخراج کا تسلسل برقرار رکھا کہ سستی اور زیادہ بجلی پیدا کی جائے، یہ احساس نہ ہوا کہ قدرت نے انسانوں کا اپنا کیا دھرا سامنے رکھ دیا ہے اور موسم میں غیر معمولی تبدیلی ہوچکی، اب ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ ڈیڈ لیول پر اور گرمی کی شدت اپریل میں جون سے بھی بڑھ گئی اور سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے بجلی کی پیدا وار اور کھپت میں ساڑھے سات ہزار میگاواٹ کا فرق آچکا ہے، آج بھکھی (شیخوپورہ) پاور پلانٹ کا افتتاح ہوگا تو بھی زیادہ فرق نہیں پڑے گا یہ یہاں سے صرف ایک ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی اور گیس کی کھپت میں اضافہ کسی نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے، یوں حالات تو موافق نہیں، احتجاج شدت اختیار کررہا ہے، معلوم نہیں حکمران جماعت کے لوگ کیوں مطمئن ہیں البتہ وزیراعظم ضرور مضطرب ہیں، اسی لئے تو انہوں نے نوٹس لیا اور ہدائت کی کہ لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جائے اور جن حضرات نے ان حالات کی پیش بندی نہیں کی ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔بہر حال جو بھی ہونا ہے، آج کے بعد سامنے آجائے گا، آرٹیکل 63-62اور ڈان لیکس کے مسائل زیادہ پیچیدہ ہیں۔

مزید : کالم