چراغ سب کے بجھیں گے

چراغ سب کے بجھیں گے
 چراغ سب کے بجھیں گے

لاحول ولا قوۃ، کسی برائے نام مسلمان سے بھی اس انتہائی رذیل امر کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کوئی خلافِ ادب بات بھی کرے، چہ جائیکہ وہ جو خود کو صوفی کہتا ہو۔ 13 اپریل کی صبح مردان کی یونیورسٹی عبدالولی خان میں،جو باچا خان بابا کے فرزند اور آزاد منش خدائی خدمتگار ولی خان اور آپ کے والد کی نظریاتی وراثت کو دوام بخشنے کے لئے قائم کی گئی تھی، دن دیہاڑے جدید تعلیم سے آراستہ نوجوانوں کو جمِ غفیر نے ایک آزاد طبیعت صوفی منش نوجوان مشال خان کو انتہائی اندوہ ناک طریقے سے قتل کر دیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک واضح اور دلیرانہ قتل ہے، اس کو شہادت جیسی مخصوص فقہی اصطلاح میں پرو کر لاقانونیت کو جواز بخشنے سے گریز کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ توہینِ رسالت کا سہارا لینے سے یکسر گریز کیا جائے، کیونکہ فی نفسہِ یہ الفاظ روحانی اذیت سے کم نہیں۔ رسالت رحمتِ عالم ہے۔ ہدایتِ عالم ہے اس مقدس اور انتہائی ارفع اصطلاح کے ساتھ توہین جیسا لفظ لگانا احمقانہ حرکت ہے۔

محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات صوفیوں کی روح کا مرکز ہے، لہٰذا توہینِ رسالت جیسی اصطلاح ہمارے لئے سوہانِ روح ہے۔ اس اصطلاح کو بولنے اور لکھنے سے یکسر گریز کرکے اس کی متبادل اصطلاح" خلافِ ادب" لکھی اور بولی جائے اور اس ضمن میں یہ بلاسفیمی ولاسفیمی لکھنا بولنا بھی ترک کر دیا جائے۔ انگریزی کی اس اصطلاح کا مطلب بھی انتہائی کراہت آمیز ہے۔

مقتول نوجوان مشال خان، جس پر محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خلافِ ادب گفتگو کا الزام لگایا گیا تھا، سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے بعد اب یہ الزام ایک بہتان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس واقعہ کا بنیادی تعلق دراصل ایک سیاسی فضا سے مربوط ہے، مگر اس معاملے کو جس بے دردی اور دیدہ دلیری سے ایک بہتان کی شکل دی گئی، اس کی مثال تو بہرکیف کہنے دیجئے کہ صرف ہمارے معاشرے میں ہی مل سکتی ہے۔پڑھے لکھے نوجوانوں کے جمِ غفیر نے مشال خان پر جس بے رحمی اور بے دردی سے وار کئے۔ شاید ہماری یادداشت میں ایسا انتہائی اندوہناک قتل کہیں نہیں ہوا کہ ایک بے گناہ شخص کی روح لکڑی کے تختے اور پکی مٹی کے گملے مار مار کر نکالی گئی ہو اور اسی پر بس نہیں، بلکہ مقتول کی لاش پوری طرح مسخ کر دی گئی ہو۔ پڑھے لکھے مسلمان کفر اور اسلام کی جنگ کا یہ بنیادی اصول اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ کسی مستند کافر کی لاش کا بھی مثلہ نہیں کیا جا سکتا، یعنی قتل کے بعد اس کی لاش کو مسخ نہیں کیا جائے گا، پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں اور کہاں کے تربیت یافتہ ہیں، اقبال نے بالکل بجا فرمایا تھا :

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مطفوی

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

پاکستان میں قانون کی رٹ تو اب ایک افسانہ بن چکی ہے۔ یعنی حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہا، ہمارے تعلیمی ادارے جہاں ہمارے بچوں کی علمی و اخلاقی تربیت ہونا چاہئے تھی، وہاں جہالت، درندگی اور لاقانونیت پروان چڑھ رہی ہے، جبکہ ریاست لمبی تان کر سو رہی ہے بلکہ باہر ڈو ناٹ ڈسٹرب کا نوٹس بھی لگا چکی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی جرم اس وقت تک صرف الزام ہی رہتا ہے جب تک کسی ملک کی عدالت اسے ثابت نہ کر دے، چنانچہ ثابت ہوتے ہی عدالت سزا کا فیصلہ سنانے کا اختیار رکھتی ہے۔ الزام لگانے والا ایک فریق کی حیثیت سے اپنا مقدمہ پولیس سٹیشن میں درج کرواتا ہے تاکہ پولیس عدالت سے مدعی کے Behalf پر باقاعدہ اجازت نامہ( اریسٹ وارنٹ) لے کر ملزم کو بحفاظت پکڑ لے۔ اس دوران اگر ملزم فرار ہو جاتا ہے تو عدالت کو اختیار ہے کہ وہ ملزم کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کر دے ۔ اگر ملزم پکڑ لیا جاتا ہے تو مدعی کو پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے لگائے گئے الزامات کا اعادہ کرے، اسی دوران مدعا علیہ کو بھی اس بات کا مکمل حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کا مدلل جواب دے۔ عدالت کو کلی اختیار ہوتا ہے کہ وہ فریقین کے بیانات سن کر کسی حتمی نتیجے پر پہنچ کر اپنا فیصلہ سنائے۔۔۔ایسا دنیا میں تو ہوتا ہے، ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں جو کچھ ہوتا رہا ہے، اس کے متعلق مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، فیض مرحوم کی زبانی سن لیجئے :

بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی منصف بھی

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

ولی خان یونیورسٹی میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے جمِ غفیر کی درندگی کا نشانہ صرف مشال خان نہیں بنا، بلکہ ملک کی انتظامیہ، سیکیورٹی، قانون، عدالت اور پورا معاشرہ اس کی زد میں آ چکا ہے۔ یہ وہ لوگ نہیں جو کسی فرسودہ حال مدرسے یا مکتب کے متعلم رہ چکے ہوں، بلکہ آج کے جدید ترین تعلیمی اداروں کے پروردہ ہیں۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیجئے کہ انتہائی ناپسندیدہ رویہ کس شدت سے پورے معاشرے میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے۔۔۔ چنانچہ اب اس زعم میں نہ رہئے گا کہ انتہا پسندی صرف مدارس میں ہی پنپتی ہے اور صرف مذہبی نوعیت کی ہوتی ہے۔ آپ نے سیاسی، بالخصوص نسلی انتہا پسندی کا مشاہدہ نہیں کیا ،لیکن چونکہ اس وقت ملک میں رائج صرف مذہبی انتہا پسندی ہے، اس لئے دیگر تمام تر انتہا پسندانہ معاملات اسی میں ضم کر دیئے جاتے ہیں، کیونکہ اس کا ایفیکٹ فوری اور مسلسل ہے۔ بے فکر مت رہئے، یہ رنگا رنگ انتہا پسندی اب صرف ایک ہی نوعیت میں آپ کے گھر تک پہنچے گی، وہ دن دور نہیں، جب لوگ اپنی انفرادی خباثت کو مذہبی انتہا پسندی کی تلوار میں ڈھانپ کر آپ کا گلا کاٹ دیں گے۔ اپنے چراغ کی لو پر نازاں نہ ہوں، آپ کا چراغ بھی بجھا دیا جائے گا، کیونکہ یہ ہوا کسی کی نہیں :

مَیں آج زد میں اگر ہوں تو خوش گماں نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...