فیصلے کا انتظار

فیصلے کا انتظار
 فیصلے کا انتظار

آج پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔پانامالیکس کے فیصلے نے اس بار 20اپریل کو عام دنوں سے الگ کر کے خاص دن بنا دیا ہے۔ چہ میگوئیوں اور پیش گوئیوں کے سیلاب میں آج پوری قوم دوپہر دو بجے اس کیس کا فیصلہ سنے گی۔فیصلہ لکھا جا چکا ہوگااور اب صرف سنائے جانے کے مرحلے میں ہے۔ 57 دن بعد اپنے محفوظ فیصلے کو سنانے والے پانچ جج صاحبان پر آج قوم کے ہر فرد کی نظریں ہیں۔خود ان کی کیا کیفیت ہوگی، اللہ ہی جانتا ہے ۔ جس شام سپریم کورٹ نے سپلیمنٹری کازلسٹ جاری کی،اسی شام لاہور میں وزیراعظم نواز شریف کے حامیوں نے بینر لگا دیئے۔ اس کامطلب تو یہی ہے کہ بینر پہلے سے تیار تھے اور اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی کہ اِدھر فیصلہ سنانے کی تاریخ آئے گی تو اُدھر بینرز لگا دیئے جائیں گے۔ اس عمل سے ماحول میں سیاسی کشیدگی کا تھوڑا سا احتمال پیدا ہوا۔ میرا خیال ہے ان بینروں کی ضرورت نہیں تھی ،کیونکہ جو فیصلہ لکھا جا چکا ہے، اسے بہرحال سامنے آنا ہے اور اب شاید اس کی تبدیلی کا کوئی موقع موجود بھی نہیں ۔۔۔لیکن یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ یہ بینر حکومتی ایما پر ہی لگے ہیں، کچھ چیزیں لوگ اپنی سطح پر اپنی سوچ و فہم کے مطابق بھی کر جاتے ہیں۔حکومت کی طرف سے باربار یہی کہا جا رہا ہے کہ فیصلہ جو بھی آئے اسے من و عن تسلیم کیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں اس کے سوا کسی کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ لوگ چونکہ ماضی کے ایک واقعہ کو آج بھی یاد رکھے ہوئے ہیں، جب نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگی کارکنوں اور رہنماؤں نے سپریم کورٹ پرحملہ کر دیا تھا،اس لئے بینر لگنے کے عمل کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، حالانکہ اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ عدلیہ بہت منظم اور مضبوط ہے اور دوسرا قوم بھی پوری طرح عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے، پھر خود نوازشریف سپریم کورٹ پر حملہ کیس کو کبھی دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، وہ اس کے اثرات کو بہت دیر تک بھگت چکے ہیں۔

اصل میں یہ تاثر وزراء کے بیانات سے بھی پیدا ہوا، جو نواز شریف کی حمایت میں دیئے گئے اور ان کا لب لباب یہ تھا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی۔۔۔ پھر ججوں کے بعض ریمارکس پر بھی پریس کانفرنسیں کی گئیں، جن سے یہ خدشات پیدا ہوئے کہ مسلم لیگ (ن) پاناماکیس میں نواز شریف کے خلاف فیصلے پر احتجاج کی راہ اختیار کرے گی۔۔۔سپریم کورٹ کے پانچ سینئر ترین اور قابل جج ایک طویل انتظار کے بعد پاناماکیس کا فیصلہ سنانے جا رہے ہیں، تو اس سے بھی بخوبی اندازہ ہو جانا چاہئے کہ یہ فیصلہ کس قدر گہرے مطالب کا حامل اور دورس اثرات کا منبع ہو گا۔اس فیصلے کو صرف کسی کی نااہلی تک محدود رکھنا زیادتی ہو گی۔ جب یہی جج صاحبان کہہ چکے ہیں کہ فیصلہ برسوں یاد رہے گا تو اس کا صاف مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ اس میں ایسے اصول و ضوابط اور معیارات طے کر دیئے جائیں گے، جو ان مٹ نقوش چھوڑیں گے۔ ایسے فیصلے واقعی صدیوں میں لکھے جاتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کا جو گند ہے،وہ کسی صورت صاف ہونے میں نہیں آ رہا،ممکن ہے اس فیصلے سے کئی داغ دھل جائیں۔پاناماکیس کی اول و آخر برائی کرپشن ہے، کیونکہ پامانالیکس میں حکومت کی طرف سے نہیں، بلکہ حکمرانوں کی طرف سے لوٹی گئی دولت کو بے نقاب کیا گیا تھا۔۔۔مگر جس طرح کے پاکستانی حالات ہیں، ان میں کرپشن کو صرف کرپشن کی حد تک نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس سے جڑے بے شمار ایسے معاملات ہیں جو ہماری سیاست اور انداز حکمرانی کو گدلا کئے ہوئے ہیں۔آئین کی شقوں62-63 کی تعریف و اطلاق کا معاملہ سب سے اہم ہے۔یہ آئین کی بنیادی شقیں ہیں،مگر انہیں ہمیشہ عضو معطل بنا کر رکھا گیا ہے۔اب اگر سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں ان شقوں کے اطلاق کی کوئی حتمی شکل واضح کر دیتی ہے تو آنے والے انتخابات میں بہت سے ایسے لوگوں سے قوم کی جان چھوٹ جائے گی جو سیاست کے نام پر برائی کا ایک دھبہ ہیں۔

فیصلہ کیا آئے گا؟اس پر بحث باقیاس آرائی کرنے کا یہ وقت نہیں۔فیصلہ تو اب چند گھنٹوں کی دوری پر ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ اس فیصلے کو ہر فریق، بلکہ قوم کا ہر فرد خوش دلی اور پوری دیانتداری سے قبول کرنے کا عہد کرے۔جنہوں نے اس پر عملدرآمد کرانا ہے، یا کرناہے، انہیں بھی خدا یہ توفیق دے کہ وہ اس فیصلے کو اس کی روح کے مطابق، جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے، وہاں نافذ کر دیں۔اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ سپریم کورٹ فوری طور پر وزیراعظم کی نا اہلی کا حکم نہ دے،کیونکہ اس وقت پورے ملک کی فضا یہی ہے کہ اس فیصلے سے وزیراعظم نا اہل ہو سکتے ہیں یا اہل قرار دیئے جا سکتے ہیں، حالانکہ یہ اس مقدمے کا صرف ایک پہلو ہے۔مسلم لیگ(ن) کے زعماء تو یہ کہہ رہے ہیں کہ جب وزیراعظم نواز شریف کا پاناما کیس میں نام ہی نہیں تو فیصلہ ان کے خلاف کیسے آ سکتا ہے؟اب ایسے بیانات اور تاویلیں بھلا کس کے حق میں جاتی ہیں۔ایسی خبروں پر حیرانی ہو رہی ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے پاناماکے فیصلے کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی اپنے اجلاس طلب کئے اور لائحہ عمل بنایا۔ یہ کیا احمقانہ روش ہے، لائحہ عمل بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ایک فیصلہ آنا ہے، جو اپنی جگہ خود بنائے گا۔سڑکوں پر جشن منانے یا مٹھائیاں بانٹنے کی کیاضرورت ہے، اس سے تو انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے، ردعمل میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اس صورت حال سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کارکنوں کو مختلف جگہوں پر اکٹھا ہونے کی کال دینے کی بجائے انہیں یہ پیغام دیں کہ فیصلے کو گھروں میں بیٹھ کر تحمل و برداشت سے سنا جائے اور اس پر ماہرین قانون کی رائے کا انتظار کیا جائے۔ بے تدبیری کے ذریعے جو صورت حال بن رہی ہے، وہ کسی بھی طرح جمہوریت اور شہری امن کے لئے مناسب نہیں، اس فیصلے کے حوالے سے کسی بھی جگہ کوئی بینر نہیں لگنا چاہئے۔ اس سے محاذ آرائی کا خطرہ ہے، جس کے ہم کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔

اللہ کرے کہ یہ ایک بڑا فیصلہ ہو، پاکستان میں نئے عمرانی نظریئے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ سسٹم میں قوم کے مسائل کو حل کرنے کی سکت نہیں۔ پاکستان میں ہر شخص تبدیلی کا خواہاں ہے، کیونکہ استحصالی نظام نے اسے زندہ درگور قسم کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ لوگوں کو توقع تھی کہ مسلسل سیاسی عمل سے بہتری آئے گی، انتخابی جمہوریت اچھی قیادت کو سامنے لانے میں مدد دے گی، مگر اب تک کے حالات یہی بتاتے ہیں کہ اصلاحات کے بغیر موجودہ سیاسی و جمہوری اور انتخابی نظام میں اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ ’’سٹیٹس کو‘‘کو توڑنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اس نظام میں عوام کے لئے جھوٹ، مکرو فریب اور دھوکہ دہی کے سوا اور کچھ نہیں۔آپ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے نام پر لوگوں سے ووٹ لیں اور چار سال حکومت کرنے کے بعد بھی پہلے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کر کے ان کی زندگی اجیرن کر دیں اور پھر بھی اعلیٰ کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹیں کہآپ سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی۔آئین میں اس حوالے سے جو شقیں ہیں، انہیں عملاً معطل کر کے ایک صالح قیادت کو ابھرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے تو بہتری کہاں سے آسکتی ہے؟مجھے یقین ہے کہ سپریم کورٹ آج جو تاریخی فیصلہ دینے جا رہی ہے، وہ قوم کے بہت سے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا روزن ثابت ہو گا۔ ملک میں سیاست، جمہوریت، طرز حکمرانی اور عوامی نمائندگی کے معیار کی نئی حدیں مقرر کر ے گا۔ جسٹس اعجاز الحسن کا یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صدیوں یاد رہے گا، ایک بہت اہم اشارہ ہے۔کسی شخص کی اہلیت یا نااہلیت کے بارے میں کیا جانے والا فیصلہ کبھی صدیوں یاد نہیں رہ سکتا، صرف وہی فیصلہ صدیوں زندہ رہ سکتا ہے جو قوم کے حالات کو بدلتا اور اس کے مسائل کا ایک ایسا حل پیش کرتا ہو، جس کا عوام برسوں سے خواب دیکھ رہے ہوں۔۔۔ اللہ کرے یہ خواب آج چند گھنٹوں بعد شرمندۂ تعبیر ہوجائے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...