ہم بھی تمہیں بتائیں کہ مجنوں نے کیا کیا

ہم بھی تمہیں بتائیں کہ مجنوں نے کیا کیا
 ہم بھی تمہیں بتائیں کہ مجنوں نے کیا کیا

ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ غالب اپنے آپ کو دنیا کے مشہور و معروف عاشقوں کی فہرست میں نمبر ایک پرشمار کیا کرتا تھا۔ اس کی نگاہ میں قیس و فرہاد اس سے کہیں ادنیٰ اور پست حیثیت، عشاق تھے۔ مثلاً قیس کو تو وہ صحراؤں اور ریگستانوں میں بیکار آوارہ گردی کا مرتکب سمجھتا تھا۔ دروغ برگردن راوی غالب کی کسی محبوبہ نے کہیں قیس کی تعریف کر دی تو یہ سن کر غالب نے فوراً فرمایا :

ہم بھی تجھے بتائیں کہ مجنوں نے کیا کیا

فرصت، کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے

یعنی یہ کہا ہمارا دل ایک ایسا وسیع و عریض اور بیکراں ریگستان ہے جس میں ہم ہر لمحہ سرگرداں پائے جاتے ہیں۔ اس صحرا میں بادِ سموم کے بگولے بھی اکثر رقص کرتے ہیں اور کالی آندھیاں بھی وقتاً فوقتاً اٹھتی رہتی ہیں اور وہ تمام لوازمات بدرجہء وافر موجود ہوتے ہیں جو گرم، خشک اور ویران ریگستانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہم دل کے انہی اندرونی صحراؤں میں روز و شب بھٹکتے رہتے ہیں۔ ہمیں اس بادیہ پیمائی سے فرصت ملے تو تمہیں بتائیں کہ مجنوں نے کیا کیا تھا۔ وہ تو صرف خارج کے صحراؤں ہی میں ٹکریں مارتا رہتا تھا۔ لیکن ہم جن ٹکروں اور ٹھوکروں سے صبح و شام و شب نبردآزما رہتے ہیں ان کا تعلق داخل سے ہے خارج سے نہیں۔ یہ حالت قیس وغیرہ جیسے کم ظرف عاشقوں کے نصیب میں کہاں؟۔۔۔ راوی نے اس کے بعد یہ جھوٹ بھی بولا تھا کہ غالب کی محبوبہ یہ وعظ سن کر خاموش ہو گئی تھی۔

میں سوچتا ہوں کہ شائد ایسا ہی ہو۔ اور اس کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ کالم نگاری کے صحراؤں میں پاکستان کے اندرونی حالات و واقعات پر اس تواتر اور کثرت سے خامہ فرسائی کی جاتی ہے کہ ایک نہیں سو غالب اس پر قربان کئے جا سکتے ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ٹاک شوز اور کالموں کے موضوعات کی اگر فہرست بنائی جائے تو ملک کے داخلی معاملات کا جمعہ بازار لگا ہوا ملے گا۔ کون سا ملک ہے جس میں اندرونی حادثات نہیں ہوتے؟ پاکستان بھی ان سے مستثنیٰ نہیں۔ مثلاً انہی دنوں مشعل خان کی مبینہ توہینِ رسالت اور اس کے قتل کا موضوع ہنوز زیر بحث تھا کہ بی بی نورین لغاری سامنے آ گئی۔ پہلے بتایا گیا کہ وہ اغوا کر لی گئی اور ملک شام میں دو ماہ گزارنے کے بعد پاکستان میں آکر داعش (ISIS)کی تائید و حمائت میں خودکشی کو گلے لگانے ہی والی تھی کہ دھر لی گئی ۔ اب وہ مکر گئی ہے اور کہتی ہے کہ سب کچھ خود کیا تھا۔ اللہ جانے حقیقت کیا ہے۔ وہ اب سیکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے، روزانہ اپنا بیان بدل رہی ہے اور میڈیا کو ایک نیا موضوع برائے بحث و مباحثہ دے رہی ہے۔ پہلے تو کہا جاتا تھا کہ پاکستان کے نیم خواندہ اور مذہبی مدرسوں میں تعلیم پانے والے رجعت پسند طلباء و طالبات ہی خودکش اور دہشت گردانہ کلچر میں رنگے جانے کا رجحان رکھتے ہیں لیکن مسماۃ نورین کے واقعے نے اور مردان میں مشعل خان کیس نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ نورین، ایم بی بی ایس سیکنڈایئر کی طالبہ ہے اور مشعل خان کو قتل کرنے والے گریجوایٹ اور پوسٹ گریجوایٹ کلاسوں کے طلبا تھے۔ کچھ پتہ نہیں کل کوئی اور انہونا واقعہ ایسا بھی اچھل کر سامنے آ جائے کہ ہم حیران رہ جائیں۔ ویسے پہلے ہی ڈان لیکس کے کیس پر ہم کافی حیران ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاناما لیکس کا کیس بھی اگرچہ تقریباً دو ماہ سے سردخانے میں ڈال دیا گیا ہے لیکن کوئی دن ہی جاتا ہوگا جب میڈیا پر اس کی ایسی گونج نہ سنائی دیتی ہو کہ صور اسرائیل یاد آ جائے !۔۔۔ تاہم آج بھی سارے کے سارے چینل ’’باجماعت‘‘ اسی موضوع کو رگیدتے چلے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی شائد فیصلہ کر رکھا ہے کہ اس وقت تک فیصلے کو ہوا نہیں لگانی جب تک پاکستانی میڈیا چپ ہو جانے کا فیصلہ نہیں کرتا!

میں عرض یہ کرنے والا ہوں کہ ہمارے میڈیا نے اپنے ناظرین و سامعین اور قارئین کو کشاکشِ ’’غم پنہاں‘‘ میں اس حد تک الجھا رکھا ہے کہ وہ ’’غمِ پیدا‘‘ کی طرف نگاہ اٹھا کر کم کم ہی دیکھتے ہیں۔۔۔ اگلے روز میں نے ’’بموں کی ماں‘‘ پر کالم لکھا تھا۔ اس میں خوارج کے ایسے موضوعات کی طرف چند اشارے اور حوالے دیئے تھے ۔اس پر بہت سے قارئین نے فون کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان موضوعات کی ابجد کیا ہے۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ ہم نہ صرف بین الاقوامی اور علاقائی موضوعات و معاملات سے بے خبر محض رہتے ہیں بلکہ اندرونِ خانہ حالات پر مسلسل فوکس نے بیرونِ خانہ حالات کو ہماری نگاہوں سے یکسر اوجھل کر دیا ہے۔ میں نے زیر بحث کالم میں یہ بھی لکھا تھا کہ 14اپریل (2017ء) کو ماسکو میں ایک کانفرنس افغانستان کے موضوع پر بھی ہو چکی ہے جس میں گیارہ ممالک نے حصہ لیا اور جس میں امریکہ شامل نہیں تھا۔ سوال اگر یہ ہو کہ افغانستان میں امن و امان کی صورتِ حال کو سنبھالا کیسے دیا جائے اور اس میں امریکہ شامل نہ ہو تو اس ایکسرسائز کو فضول اور بے مقصد ہی کہا جائے گا!۔۔۔ لیکن ہرچند کہ ماسکو میں ہونے والی یہ تیسری کانفرنس تھی جس میں پاکستان، افغانستان، چین، ایران اور اس خطے کے دوسرے کئی ممالک نے شرکت کی تھی، لیکن امریکہ نے شمولیت سے انکار کرکے جو پیغام دیا ہے وہ یہ ہے کہ : ’’جب تک ہم نہیں چاہیں گے، روس، چین، پاکستان اور خواہ افغانستان بھی چاہے تو افغانستان میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکے گا۔‘‘

’’بموں کی ماں‘‘ والے اس کالم کو پڑھنے کے بعد دوستوں نے یہ سوال بھی پوچھا کہ یہ تو درست ہے کہ پاکستان، چین اور ایران وغیرہ کے مفادات افغانستان میں مستقل امن سے وابستہ ہیں لیکن روس کے مفادات کیا ہیں؟۔۔۔ روس کیوں چاہتا ہے کہ افغانستان کی صورت حال سنبھلے اور اس میں دیرپا استحکام آئے۔۔۔ کیا روس پاکستان کی مدد کرنی چاہتا ہے؟۔۔۔ کیا وہ افغانستان سے امریکی فوج کے 100% انخلاء کا متمنی ہے؟۔۔۔ کیا چین اور پاکستان کے سی پیک (CPEC) منصوبے میں اس کو کوئی دلچسپی ہے؟۔۔۔ اور اگر ہے تو کیوں ہے؟۔۔۔ اور کیا افغانستان میں ایک نئی ’’گریٹ گیم‘‘ کا آغاز ہونے جا رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔

میں اپنے ان دوستوں کا ممنون ہوں جنہوں نے یہ سوال پوچھے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں کئی قاری ایسے بھی ہیں جو ’’میڈیا اور پاکستان‘‘ کے حصار سے باہر نکل کر ’’میڈیا اور احوالِ عالم‘‘ پر بھی آگاہی کی خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان کے چند اندرونی معاملات پر میڈیا کی روزانہ کی جگالی سے شائد تنگ آکر وہ چاہتے ہوں گے کہ ملک کے اندرونی تنگ دائرے سے نکل کر باہر کی کھلی فضاؤں کی طرف بھی جھانکا جائے کہ کیا ہو رہا ہے اور ہمارے اس خطے میں واقع دوسرے ممالک کے مفادات کا کیف و کم کیا ہے۔۔۔ ذیل کی سطور میں مختصراً اسی بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام میں روسی مفادات کی حدود کیا کیا ہیں۔۔۔ میرے خیال میں افغانستان میں امن کے ساتھ روس کے درج ذیل مفادات وابستہ ہیں:

1۔ داعش کے شدت پسندوں کو جنوبی روس کی طرف سے روس کے اندر داخل ہونے سے روکنا

2۔افغانستان سے روس آنے والی منشیات کے بہاؤ کو کم کرنا

3۔روس کا دائرۂ اثر پاکستان سے آگے اور بحر ہند کے ساحلی ممالک (Littorals)تک پھیلانا۔

آیئے درج بالا روسی مفادات کو ذرا پھیلا کر دیکھتے ہیں۔۔۔ جہاں تک داعش کا تعلق ہے تو خیال کیا جاتا ہے کہ افغان طالبان کا ایک چھوٹا سا گروپ داعش کا حامی ہے جبکہ طالبان کی اکثریت داعش کو اپنی ’’چودھراہٹ‘‘ کے لئے ایک خطرہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، طالبان کی اس اکثریت کی حمائت کر رہا ہے اور افغانستان میں امن و امان کی کوئی دیرپا صورت حالِ دیکھنے کا خواہاں ہے۔ وہ داعش کی طرح کی اس سسٹر تحریک (Sister Movement)کا بھی مخالف ہے جو ایک عرصے سے اس سے نبردآزما ہے اور چیچنیا میں آپریٹ کرتی ہے۔

1991ء میں روس کی وہ ریاستیں جو آجکل وسط ایشیائی ریاستیں (CAR) کہلاتی ہیں آزاد کردی گئی تھیں۔ ان میں تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔ اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (IMU) بھی ایک عرصے سے روس کے خلاف صف آرا ہے اور روس اس کے خلاف لڑتا رہتا ہے۔ صدر پیوٹن کو خطرہ ہے کہ اس تحریک کے ساتھ اگر (افغانستان کی راہ) داعش کے شدت پسند بھی شامل ہوگئے تو وہ روس کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں تیز کرسکتے ہیں۔ پیوٹن طالبان کی اکثریت سے بہتر تعلقات چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے طالبان سے راہ و رسم بڑھانا چاہتا ہے جو داعش کے خلاف ہیں۔ ایران اور روس کے باہمی تعلقات پہلے ہی دوستانہ ہیں اور ایران بھی داعش کو اپنے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ مفادات کی اس مشترک اور یک مقصدیت نے روس کو افغان معاملات میں ایک نئے زاویئے سے شریک ہونے کی طرف راغب کیا ہے۔

جہاں تک منشیات کا تعلق ہے تو پاکستان کی طرح دنیا کے تقریباً سارے ہی ممالک کو یہ فکر لاحق ہے کہ ان کی جوان نسل دن بدن نشے کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔ افغانستان ، دنیا بھر میں ہیروئن پیدا اور فروخت کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ یہ منشیات نہ صرف پاکستان بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں کی راہ سے روس کو بھی سمگل کی جاتی ہیں۔ روس کے ایک تحقیقاتی ادارے نے 2015ء میں یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ روس میں 20لاکھ نوجوان نشے کے عادی ہیں اور ہر سال ایک لاکھ کے قریب اموات منشیات کے استعمال سے ہوتی ہیں۔ (یہ یاد رہے کہ ان منشیات میں شراب شامل نہیں۔) روس میں افیون، ہیروئن اور ان سے بنی ہوئی دوسری نشہ آور اشیا پر سالانہ 80ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں جن میں 20فیصد نشہ آور اشیاء افغانستان سے آتی ہیں۔ یعنی 16 ارب ڈالر سالانہ کی افیون اور ہیئروئن وغیرہ افغانستان سے روس سمگل کی جاتی ہے۔ روس اس سمگلنگ کو بند کرنے کا خواہاں ہے اور اسی لئے افغانستان میں طالبان کی وہ رٹ دیکھنا چاہتا ہے جو اپنے دور میں (1995ء تا2001ء) ملک میں نشہ آور فصل (پوست) کو تباہ کرنے میں تقریباً کامیاب ہوگئی تھی۔

1980ء کے عشرے میں افغان جہاد میں دس لاکھ سے زیادہ افغان سویلین اور فوجی روسیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے، کئی لاکھ زخمی ہوئے تھے اور لاکھوں مہاجرین ہمسایہ ممالک میں کوچ کرگئے تھے ۔ پاکستان کے حصے میں بھی جو 3لاکھ افغان آئے تھے ان میں سے اب بھی ایک بڑی تعداد ہمارے ہاں مقیم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب امریکہ (اور بعد میں ناٹو) افغانستان میں آیا تو عام افغان شہری نے اس کا زیادہ برانہ منایا۔لیکن گزشتہ 15برسوں میں امریکہ نے جو کچھ افغانستان میں کیا ہے وہ روس 1980ء کے عشرے کی یلغار میں نہیں کرسکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ افغانوں کی اکثریت روس اور امریکہ دونوں سے بیزار ہے۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ افغانستان میں مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تعمیرو تشکیل اور افغان عوام کی خوشحالی کے لئے جس قدر سرمائے کی ضرورت ہے وہ فراہم نہیں ہو سکا۔ امریکہ نے اگرچہ اب تک افغان دار میں ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کر دئے ہیں اور ایک سو ارب ڈالر افغانستان کی تعمیر و ترقی پر بھی صرف کئے ہیں تاہم یہ تمام امریکی سرمایہ کاری اور مغربی ٹروپس کی جانوں کا ضیاع وغیرہ بے فائدہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے 2014ء میں اپنے ٹروپس واپس بلا لئے تھے اور صرف ایک ٹوکن فورس(8400) کا بل میں رہنے دی تھی۔۔۔ روس اب اس خلا کو پر کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اپنے ٹروپس دوبارہ افغانستان بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس لئے آج بھی روس افغانستان کو کئی تعمیراتی منصوبوں میں امداد دے رہا ہے اور عسکری سازو سامان بھی فراہم کررہا ہے۔ ایم آئی۔ 17اور ایم آئی۔ 35ہیلی کاپٹر اس میں پیش پیش ہیں۔

روس اگرچہ کھل کر اس کا اعتراف نہیں کررہا لیکن اسے چین کے سی پیک منصوبے سے جو دلچسپی ہے اسی کا ثبوت ماسکو میں ہونے والی اس کانفرنس سے عیاں ہے جو 14اپریل 2017ء کو ہوئی۔ اس کا اعلامیہ اگرچہ پوری طرح سامنے نہیں آیا لیکن ’’عقبی دروازوں‘‘ کی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ معلوم ہو رہا ہے کہ جوں جوں CPEC کو فروغ ہوگا توں توں پاک۔ روس اور روس۔ افغانستان تعلقات بھی فروغ پائیں گے!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...