2018 ء تک پنجاب کے ہر بچے کے سکول داخلے کا ہدف حاصل کرلیں گے

2018 ء تک پنجاب کے ہر بچے کے سکول داخلے کا ہدف حاصل کرلیں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم ترقی، خوشحالی اور کامیابی کی کنجی ہے۔ انتہاپسندی، غربت اور بیروزگاری جیسے مسائل کا حل بھی فروغ تعلیم میں مضمر ہے۔ پنجاب حکومت نے فروغ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے اور تعلیم کی روشنی عام کرنے کیلئے انقلابی نوعیت کے اقدامات کئے گئے ہیں۔

محمد عامر اعجاز مسلم لیگ (ن) سے وابستہ سرگرم کارکن ہیں۔ کواڈینیٹر ٹومیاں حمزہ شہباز شریف اورسینٹرل آرگنائزر ینگ ورکر مسلم لیگ (ن) کی حیثیت سے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔حال ہی میں انہیں چیئرمین سکول ایجوکیشن پنجاب کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

عامر اعجاز ایک متحرک اورفعال مسلم لیگی اور محب وطن پاکستانی ہیں۔ سکول ایجو کیشن کو مزید فعال بنانے کے لئے شبانہ روز محنت کررہے ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ محمد عامر اعجاز کی شمولیت سے محکمہ سکول ایجوکیشن ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا۔ روز نامہ پاکستان ‘‘ نے محمد عامر اعجاز ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

***

س:چیئرمین سکول ایجوکیشن پنجاب کی جو نئی ذمہ داری آپ کو دی گئی ہے اس کے حوالے سے کیا کہیں گے؟

ج:میں ایک مسلم لیگی کارکن ہوں ۔ میرا اوڑھنا بچھونا مسلم لیگ (ن) ہے۔ یہ میاں حمزہ شہباز شریف کا مجھ پر اعتمادہے کہ انہوں نے یہ ذمہ داری مجھے سونپی ہے ، اس حوالے سے پُر جوش بھی ہوں اورپُر اُمید بھی ہوں اور للہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ مجھے سُرخرو ہوں ۔

س: حکومتِ پنجاب کا تعلیم کے حوالے سے کیا وژن ہے؟

ج: محکمہ تعلیم پنجاب کا وژن سوفیصد بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے پنجاب حکومت دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔

پنجاب حکومت نے 2018 تک تعلیم کے میدان میں اہداف کے حصول کیلئے شاندار پروگرام مرتب کیا ہے۔ اصلاحاتی پروگرام کے اہداف کے حصول کیلئے محنت اور جذبے سے تسلسل کے ساتھ کام کرنا ہے۔ معیاری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور پنجاب حکومت بچوں کو یہ حق دے رہی ہے۔

س:ِ صوبے میں فروغ تعلیم کے لئے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں؟

ج: معیاری تعلیم کا فروغ ہمارا مشن ہے جسے ہر قیمت پر پورا کریں گے اور اس ضمن میں پنجاب حکومت نے پہلے بھی وسائل فراہم کئے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے۔ ہر سال ہزاروں اساتذہ کی میرٹ پر تقرری ،اساتذہ کا تربیتی پروگرام، سکولوں و کالجوں کی تعداد میں اضافہ ،سائنس و کمپیو ٹر لیبارٹریوں ،نمایاں کارکردگی کے حامل اساتذہ اور طلباء وطالبات میں لیپ ٹاپ کی تقسیم،غیر ملکی مطالعاتی دورے ،اربوں روپے کی مراعات سمیت کئی لازوال اور انقلابی اصلاحات مسلم لیگ( ن) کی موجودہ حکومت کی علم دوستی کی روشن مثالیں ہیں۔سرکاری سکولوں کے ایک کروڑ دس لاکھ بچوں کو پہلی کلا س سے لے کر دسویں تک مفت کتابیں مہیا کی جا رہی ہیں۔اس سہولت سے پیف سکولوں کے ساڑھے اٹھارہ لاکھ بچے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔اس وقت پنجاب حکومت کے تحت صرف سرکاری سکولوں میں ہی مفت تعلیم نہیں دی جا رہی بلکہ باعث افتخار امر یہ ہے کہ اس وقت صوبہ بھر کے ہزاروں پرائیویٹ سکولوں میں 25 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات حکومت پنجاب کی مالی معاونت سے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ مالی معاونت ان سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔

پانچ ہزار سکولوں میں سولر انرجی کی فراہمی کے منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں کے پیش نظر جدیدانٹر ایکٹیوڈیجیٹل بورڈ اور ڈسٹ فری گرین بورڈز کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔مختلف سرکاری سکولوں میں ڈیجیٹل بورڈز کی تنصیب سے منصوبے کا باقائدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات متعارف کروائی جارہی ہیں جس کے تحت سکول میگزین کے اجراء کا بھی اصولی فیصلہ کیاگیا ہے جس پر پیش رفت جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف تعلیمی شعبے میں ہونیوالی پیش رفت کی نگرانی بذات خود کرتے ہیں۔ سکولوں کی مخدوش عمارات کی بحالی کا کام مکمل کیا جارہا ہے ۔ برطانیہ کے اداراے DFIDکے تعاون سے دو برسوں میں چھتیس ہزار اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جارہے ہیں جس پر 50ارب روپے خرچ ہوں گے۔ منصوبہ کے پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں میں 10,227 اضافی کمرے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے سات ہزار سرکاری سکولوں میں دس ہزار ای سی ای کلاس رومز مہیا کریگا۔پی سی ون کے تحت اگلے سال تک ایک ہزار سکولوں میں ارلی چائلڈ ہڈ کلاس رومز بنائے جائیں گے ، پنجاب بھر کے ایک ہزار دو سوپچیس پرائمری سکولوں میں ای سی ای کمرہ جماعت تیار کئے جاچکے ہیں۔منصوبے کے تحت پرائمری سکولوں میں چالیس ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے جن میں سے ای سی ای کے اساتذہ مخصوص ہوں گے۔

س:بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کن تعلیمی پروگرامز پر کام ہو رہا ہے؟

ج: پنجاب حکومت جدید تعلیم کی فراہمی کیلئے دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کیلئے برٹش کونسل اور DIFDکی مشترکہ فنڈنگ سے گلوبل ایجوکیشن پروگرام برائے سکولز کے تحت ’’کنیکٹنگ کلاس رومز‘‘پروگرام کا آغازتعلیم کے شعبہ میں پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات کے تسلسل ہی کی ایک کڑی ہے۔کنیکٹنگ کلاس رومز پروگرام کے تحت پانچ سو سکولوں کو ٹریننگ دی جار ہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں سکولوں کی تعداد بڑھا کر 20,00 کر دی جائے گی۔ کنیکٹنگ کلاس رومز پروگرام سے تعلیم کے شعبہ میں ایک عظیم انقلاب آئے گا اور یہ پروگرام شعبہ تعلیم میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔اس پروگرام سے طلبہ کی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوں گی اور وہ دنیا بھر میں اپنے ہم عصروں سے نہ صرف رابطے میں رہیں گے بلکہ ان کیلئے مطلوبہ معلومات کا حصول اور ریسرچ ورک تک آسان رسائی ممکن ہو سکے گی۔ کچھ عرصہ قبل برٹش کو نسل کے تعاون سے یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے پنجاب کے مختلف سرکاری سکولوں کا دورہ کیا تھا۔یونیورسٹی کالج لندن کے وفدکے دورے کا مقصد سکولوں میں اساتذہ کے کام کے طریقہ کار کا مشاہدہ اور طلباء سے تبادلہ خیال کرنے کے بعدسکول ایجوکیشن میں معیار تعلیم مزید بہتر کرنے کے لئے تجاویزاورسفارشات پیش کرنا تھا۔یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے لاہو ر کے مختلف سرکاری سکولوں کے کلاس رومز کا مشاہدہ کیا اور وہاں کے اساتذہ اورطلباء سے بات چیت کے بعدای ڈی او،ڈی ای اوز ، ہیڈ ٹیچر ز اور ٹیچر ایجوکیٹرز سے اہم موضوعات پر فوکسڈگروپ ڈسکشن کی اور مختلف تجاویز تیار کرنے کے بعد پیش کیں۔یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے سکول ریفارمزتجاویز میں بہتر تعلیمی نصاب، تعلیمی اصلاحات اوراساتذہ کی استعدادِ کارمیں اضافے سمیت پروفیشنل ڈویلپمنٹ سے متعلق تجاویز تیار کیں ہیں۔

س:کیا حکومت کی تعلیمی پالیسیاں صرف شہری علاقوں تک محدود ہیں یا دیہی علاقے بھی اس سے مستفید ہو رہے ہیں؟

ج: ایسا بالکل نہیں ہے ۔حکومت پنجاب شہری اور دیہی علاقوں سمیت صوبے کے تمام حصوں کی یکساں اور متوازن تعمیر و ترقی پر یقین رکھتی ہے۔اس لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع میں سیکنڈری سکولز کی سطح تک بچیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تعلیمی نظام میں موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے چھٹی سے دسویں جماعت کی بچیوں کیلئے ماہانہ وظیفے کی رقم دو سو روپے سے بڑھا کرہزارروپے کر دی گئی ہے۔اس پروگرام سے ان پسماندہ اضلاع کی تقریباً چار لاکھ بچیاں مستفید ہورہی ہیں۔فروغِ تعلیم کے لئے پنجاب کے جنوبی اضلاع سے سرکاری سکولوں کے طلبا و طالبات کو فری سکول بیگز کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

س: اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے؟

ج: حکومت پنجاب سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے اس مالی سال کے دوران تما م پرائمری سکولوں کیلئے متعین کردہ سہولیات کے مطابق 75ہزار اضافی ٹیچرز مہیاکیے جائیں گے۔ اس طرح ہر پرائمری سکول میں تدریسی خدمات سر انجام دینے کیلئے کم از کم تین اساتذہ کرام کی موجودگی یقینی ہوجائے گی۔ ان بھرتیوں میں میرٹ کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کے علاوہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان اساتذہ کرام کا تعلق انہی مقامی علاقوں سے ہو جہاں انہوں نے اپنی تدریسی خدمات سر انجام دینی ہیں۔

س: ٹیچرز ٹرینگ کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟

ج: تمام بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ کو تدریس شروع کرنے سے پہلے لازمی ٹریننگ فراہم کی جا رہی ہے۔تعلیمی نظام میں بہتری، مہارت ، بہترین شرح خواندگی کے حصول اور خصوصاََکامیاب ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کیلئے دوست ملک سری لنکا کے تعلیمی نظام اور مہارت سے استفادہ کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر کام جاری ہے۔پاک کینیڈا ڈیٹ سویپ پراجیکٹ کے تحت خواتین ٹرینی ٹیچرز کیلئے ڈیپارٹمنٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ میں 9کروڑ روپے کی لاگت سے 52کمروں پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ4سٹوری ٹیچرز ٹریننگ ہاسٹل کی تعمیرپنجاب حکومت کی تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

س: مستحق طلبہ و طالبات کی مالی معاونت کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟

پنجاب کا کوئی ذہین اور باصلاحیت طالب علم محض مالی مشکلات کی وجہ سے اعلیٰ اور معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ہماری حکومت نے پانچ سال پہلے طلباء کی تعلیمی معاونت اور ترغیب کے لئے مستقل بنیادوں پر پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا ہے۔ یہ فنڈ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف فروغ تعلیم کے لئے میرٹ کی بنیاد پر صرف کیا جاتا ہے۔پنجاب حکومت نے کم وسیلہ خاندانوں کے ہونہاربچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ قائم کیا ہے جس کے ذریعے ہزاروں پیف سکالرز تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔اس تعلیمی فنڈ سے اب تک ایک لاکھ 75 ہزار طلبا و طالبات کو وظائف دیئے جاچکے ہیں جبکہ مارچ میں یہ تعداد 2 لاکھ ہو جائیگی اوراس فنڈ کا حجم 20ارب روپے ہوجائے گااوریہ برصغیرکاسب سے بڑا تعلیمی فنڈہے۔ تعلیم کے فروغ میں مصروف عمل ا ہیں تعلیم ہی سے معاشی ترقی و خوشحالی ممکن ہو گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل ہو گی ۔

یوں تو گزشتہ پانچ برسوں میں خادم اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ہماری حکومت نے فروغ تعلیم کے لئے انقلابی اقدامات کئے ہیں۔ ایک طرف تو دانش سکولوں کے قیام کا منصوبہ حکومت پنجاب کے اعلیٰ اور معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے وعدے کی طرف ایک اہم قدم ہے تو دوسری طرف ہم نے تمام سرکاری سکولوں میں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی اہم اقدامات کئے ہیں۔

س:دانش سکولز کے متعلق آپ کو مخالفت کا سامنا کیوں ہے؟

ج:بد قسمتی سے سیاسی مخالفیں نے دانش سکول جیسے انقلابی منصوبے کو بھی سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور اس کی افادیت پر سوال اٹھایا۔ شاید معاشرے کے غریب طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولتیں مہیا کرنا ہمارے ناقدین کو گوارہ نہیں۔ حکومت پنجاب اس منصوبے کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے۔ صوبے کے طول و عرض میں قائم چودہ دانش سکولز فروغ تعلیم کے جذبے سے اس محروم طبقے کے طلباو طالبات کو جدید معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کر رہے ہیں جن کیلئے معیاری تعلیم کا حصول ایک خواب سے کم نہ تھا۔ نئے مالی سال کے میزانیے میں منکیرہ ضلع بھکر اور تونسہ ضلع ڈی جی خان جیسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں چار مزیددانش سکول قائم کرنے کیلئے تین ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ٹبہ سلطان ضلع وہاڑی میں طلبا و طالبات کیلئے زیر تعمیر دانش سکولوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔یہ منصوبہ معاشی اور سماجی ناہموار یوں کے شکاربے وسیلہ مگر ذہین اور قابل طلبہ کو نئے مستقبل کی نویددے رہے ہے۔

حکومت پنجاب نے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ پنجاب بھر میں بھٹہ مزدورں کے ہزاروں بچے بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو ایک ہزار روپے فی کس ماہانہ جبکہ داخلے کے وقت 2 ہزار روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے۔

س:کیا پنجاب کے انقلابی تعلیمی منصوبوں سے دیگر صوبے بھی استفادہ کررہے ہیں؟

ج:پنجاب حکومت نے اپنے تعلیمی پروگراموں میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بچوں کوبھی شامل کیا ہے۔بلوچستان کے پسماندہ علاقہ گوادر کے بچے بچیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر’’خادم پنجاب ماڈل سکول گوادر‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ دانش سکولوں اور انڈوومنٹ فنڈ میں بلوچستان کے ہونہار طلبا و طالبات کیلئے خصوصی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کی بدولت گوادر میں ترقی و خوشحالی آئے گی اور برادر صوبہ تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔’’خادم پنجاب ماڈل سکول گوادر‘‘ منصوبہ بلوچستان کے علاقے گوادر کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔اس احسن اقدام سے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور اخوت کا پیغام عام ہوا ہے۔

ماضی میں تعلیم کے نام پر زبانی جمع خرچ کیاگیا جس سے تعلیمی نظام تباہی کا شکار ہوالیکن اب وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت ملکر تعلیم کے شعبے پر بھر پور توجہ دے رہی ہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...