پاناما کیس، کسی نئے سیاسی منظرنامے کو جنم دے گا؟

پاناما کیس، کسی نئے سیاسی منظرنامے کو جنم دے گا؟

سپریم کورٹ آج20اپریل کو غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے عالم گیر شہرت حاصل کرنے والے پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سنائے گی۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے 2روز قبل سپلیمنٹری کاز لسٹ جاری کی تھی۔ عدالت عظمیٰ میں پاناما کیس کے پس منظر پرنظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمے کی دو مرحلوں میں 35 سماعتیں ہوئیں،تمام فریقین کا موقف سننے کے بعد عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ نے 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، پانچ رکنی بنچ کی سربراہی مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی جبکہ اراکین میں مسٹر جسٹس عظمت سعید شیخ،مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن، مسٹرجسٹس اعجاز افضل اور مسٹرجسٹس گلزار احمد شامل تھے ۔آج فیصلے کا اعلان کئے جانے کے موقع پر عدالت عظمی میں سیکورٹی کے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے اس حوالے سے باقاعدہ خصوصی سیکورٹی پلان بھی جاری کیا گیا ہے، عدالت میں داخلے کیلئے خصوصی پاس بھی جاری کئے گئے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے پانامہ لیکس انکشافات کے بعد وزیر اعظم کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔ تمام فریقین کا موقف سننے کے بعد عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ نے 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج 57دن بعد سنایا جا رہا ہے۔

اب تک اس کیس کی سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر 2مرحلوں میں 35سماعتیں کیں ، پہلے مرحلے میں جب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں لارجر بنچ نے 9دسمبر 2016ء کو کمیشن کے قیام کی تجویز دی تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت سے کہا کہ میرے موکل عمران خان کا موقف ہے کہ اگر کمیشن بنایا گیا تو تحریک انصاف اس کا بائیکاٹ کریگی،اسکے بعد سپریم کورٹ نے سما عت 2017ء تک ملتوی کر دی۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ پر بنچ ٹوٹ گیا اور عدالت نے قرار دیا کہ نیا بنچ پانامہ کیس کی اب نئے سرے سے سماعت کرے گا۔پھر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ بنا جس نے 3 جنوری 2017ء سے مسلسل سماعت کی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی طرف سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ لندن فلیٹس 1993ء سے 1996ء کے دوران خریدے گئے اور یہ فلیٹس شریف خاندان کی ملکیت ہیں ، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر میں جھوٹ بولا ہے اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔ سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی متفرق درخواست میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے وکیل کا کہنا تھا کہ تمام ثبوت عدالت کے سامنے آ گئے ہیں لہٰذا وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ سنایا جائے۔ اسی طرح ایک اور درخواست میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے ، جس عمر میں بچوں کے شناختی کارڈ نہیں بنتے، شریف خاندان کے بچے ارب پتی کیسے بن گئے۔ دوران سماعت وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں تقریر کوئی بیان حلفی نہیں تھا ، وزیر اعظم نے تقریر میں جھوٹ نہیں بولا ، وزیر اعظم کا نام پاناما لیکس میں نہیں آیا ، عدالت ٹھوس شواہد کے بغیر منتخب نمائندے کو نااہل قرار نہیں دے سکتی اور نہ ہی پارلیمانی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ محض پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر پر کسی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ویسے تو اصل صورتحال کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ہی واضح ہو گی لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پانامہ کیس پاکستان کی عدالتی کے ساتھ ساتھ سیاسی تاریخ کا بھی اہم حصہ بن چکا ہے ۔2روز قبل جب عدالت عظمیٰ کی جانب سے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تو سیاسی میدان بھی خاصا گرم ہو گیا ۔پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ق ، عوامی مسلم لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اجلاس طلب کر لئے اور متوقع صورتحال پر سیر حاصل بحث کی گئی ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آج آنے والا فیصلہ پاکستان کے آئندہ سیاسی منظر نامے کا تعین بھی کرے گا اور اس کے 2018ء کے عام انتخابات پر گہرے اثرات بھی پڑیں گے ۔اس حوالے سے سیاسی بصیرت رکھنے والے عام شہری سے دانشور تک ہر ایک کے ذہن میں کچھ سوال ضرور اٹھ رہے ہیں کہ کیا آج کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف بدستور وزیر اعظم رہیں گے یا نا اہل ہو جائیں گے؟وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور کیپٹن(ر) صفدر اپنی نشستیں برقرار رکھ سکیں گے یا نہیں؟ حدیبیہ پیپر مل کیس دوبارہ کھلے گا یا نہیں؟ نیب اور دیگر تفتیشی اداروں کے بارے میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے کوئی نیا حکم آئے گا یا نہیں؟ یا پھر عدالت کی طرف سے اپوزیشن کی تمام درخواستیں مسترد کردی جاتی ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر سطح پر کئے جا رہے ہیں۔ ویسے تو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے فیصلے کی تاریخ کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی اس حوالے سے ٹاک شو ، مذاکرے اور بحث و تمحیص شروع کر دی تھی اور خصوصی نشریات بھی جاری ہیں جن میں اہم نکتہ یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے کسی بڑے سیاسی اپ سیٹ کا امکان ہے یا نہیں۔ تجزیہ کار تو اس امر پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ شاید حکومت اس متوقع فیصلے سے ڈری اور سہمی ہوئی ہے اور اس امر کا غالب امکان ہے کہ آئندہ انتخابات 2018ء کے بجائے سال رواں یعنی2017ء کے اواخر میں کروا دیئے جائیں۔ اس کیس کے متوقع فیصلے کے حوالے سے بڑے پیمانے پر سٹے بازی بھی شروع ہو گئی ہے اور کرکٹ میچوں پر جواء لگانے والوں نے پانامہ بک بھی کھول دی ہے ۔بکئے بدھ کی رات گئے تک حکومت کو فیورٹ قرار دے رہے تھے اور انہوں نے اپوزیشن کی درخواستیں مسترد ہونے کا ریٹ 90پیسے نکالا تھا جبکہ درخواستیں منظور ہونے کا ریٹ 1روپے 20پیسے لگایا گیا ہے ۔یہ تو محض مفروضے ہیں لیکن عدالتی فیصلہ کیا آتا ہے اور اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں یا کہاں تک جاتے ہیں یہ اہم سوال ہے اور اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا ۔

اس متوقع فیصلے کے حوالے سے گہما گہمی خاصی دیکھنے میں آ رہی ہے اور کم و بیش سارے سیاسی قائدین اچانک سرگرم ہو گئے ہیں ۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نئے سیاسی سیٹ اپ کے لئے دوڑ دھوپ کی جا رہی ہو ۔ عدالت عظمی کی جانب سے مقدمے کے فیصلے کی تاریخ کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ 20 اپریل پاکستان کی کامیابی کاسورج طلوع ہوگا۔ عمران خان نے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعدکی صورتحال کے جائزے کیلئے گزشتہ روز پارٹی کااہم اجلاس بھی طلب کیاہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہناتھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ ملک کی صحیح راہ کا تعین اور کرپشن کے گرد گھیرا تنگ کرے گا۔جس نے بھی فیصلہ قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کی وہ مارا جائے گا۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ جج صاحبان نے خود کہا ہے کہ فیصلہ صدیوں یاد رکھا جا ئے گا،مگر ایسا اسی وقت ہوگا ،جب فیصلہ انقلابی ہو، کچھ لوگوں کو سزائیں ہوں اور اس کے نتیجے میں کرپشن کا خاتمہ ہو۔فیصلے سے عوامی اضطراب کا خاتمہ ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز آئینی و قانونی اعتزاز احسن نے کہا کہ پانامہ کیس میں نواز شریف کے دفاع میں کچھ نہیں ہے، قطری شہزادہ اگر عدالت میں پیش کیا جاتا تو خط مانا جا سکتا تھا۔ اثاثے چھپانے اور ذرائع سے زیادہ آمدن کے خلاف ملک میں قانون موجود ہے۔ پاناما کیس ایک شخص اور ایک خاندان سے متعلق ہے۔ بڑا فیصلہ آنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی ترجمان وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کاکہنا ہے کہ ہم پہلے دن سے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے پاناما کیس میں نام نہ ہونے کے باوجود خود کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ وزیر اعظم کی نسلوں کا بھی احتساب ہو رہا ہے۔ کیس میں الزام لگانے والوں نے کوئی ثبوت عدالت میں جمع نہیں کرائے۔ قطری خط اگر غلط تھا تو الزام لگانے والوں نے غلط ثابت کرنا تھا۔ کیس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق آئے گا۔ فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نہیں آئے گا۔ تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کورٹ کا فیصلہ حق اورسچ کی ترجمانی کرے گا،ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا موقف ہے کہ جس شخص کا نام پاناما پیپرز میں نہیں اس کے خلاف فیصلہ آنے کاامکان نہیں۔

***

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...