سپریم کورٹ کے فیصلے میں حلیب دودھ کو صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا

سپریم کورٹ کے فیصلے میں حلیب دودھ کو صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا

لاہور(کامرس رپورٹر) حلیب ڈیری مصنوعات بنانے والے ادارے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہارون ایم کے لو دھی اور کوالٹی انشورنس کے سربراہ افتخار احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں حلیب دودھ کو صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے اور یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ حلیب کا دودھ اور وائٹنرمضر صحت ہے۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے گزشتہ روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں صحافیوں کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کیا ۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے حلیب سمیت ڈیری مصنوعات بنانے والوں کے خلاف ایک کریک ڈاؤن شرو ع کیا جس میں حلیب کے پلانٹ پر چھاپہ مار ا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد کیس سپریم کورٹ میں تھا اس لیے وہاں کمپنی نے اپنا موقف پیش کیا جس کے بعد حلیب کی مصنوعا ت کے تین لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دو لیبارٹریز کے ٹیسٹ درست جب کہ ایک حکومتی لیبارٹری کا ٹیسٹ غلط قرار دیا گیا لیکن جب سپریم کورٹ نے فیصلہ لکھا تو وہ حلیب کے حق میں تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ڈیری مصنوعات بنانے والی صنعت کے خلاف کریک ڈاؤن سے اس کا33فیصد کاروبار ختم ہو گیا جس سے صنعت کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی مصنوعات پر لکھا ہوتا ہے کہ ان کی پیکنگ میں کونسی کونسی اشیاء ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حلیب نے کبھی نہیں لکھا کہ وائٹنر دودھ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ وائٹنر صرف چائے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ دنیا بھر کی مصنوعات کی پیکنگ پر کہیں نہیں لکھا ہوتا کہ جو چیز اس میں پیک ہے وہ اس میں نہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گن پوائنٹ پر ان سے وائٹنر کے ڈبے پر لکھا دیا ہے کہ اس میں دودھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لکھ دیا گیا ہے اور نئے آنے والی پیکنگ پر لکھا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حلیب کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ صارفین کو اعلیٰ کوالٹی کی مصنوعات فراہم کی جائیں اور یہی وجہ ہے حلیب دودھ اکھٹا کرنے سے اس کو مختلف مراحل کے بعد پیک کرنے تک کوالٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا جس کی وجہ سے آج بھی حلیب پر صارفین کا بھر پوراعتماد برقرار ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی صحت مند گائے اور بھینسوں کا دودھ خریدتی ہے اور اس کو مزید حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ڈال کر صارف تک پہنچاتی ہے۔ ان کے مطابق لیب دودھ پیک کرتا ہے تو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیک کیا جاتا ہے۔ حلیب کے دودھ اکھٹا کرنے والے سارے پوائنٹس چیک کیے جا سکتے ہیں۔ دودھ کلیکشن سنٹر پر سات قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں کہ گوالے نے دودھ میں کچھ ملایا تو نہیں، دودھ خراب تو نہیں اور دودھ اس قابل ہے کہ اس کو استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کلیکشن سنٹر کے بعد دودھ جب مین پلانٹ پر آتا ہے تو وہاں23قسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں اور پھر اس کو چھ تہوں والے ڈبے میں پیک کیا جاتا ہے تاکہ اس کے خالص رہنے کی گرانٹی دی جا سکے اور اس میں کسی قسم کا بکٹیریا نہ بن سکے۔ اس ڈبے پر لکھ دیا جاتا ہے کہ ڈبے میں پیک دودھ میں کونسے کونسے انگریڈینٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حلیب ڈیری مصنوعات بنانے والے اداروں میں پاکستان میں اس کا پائنیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی معیار کے حامل اداروں کے دودھ کو تو اتنا چیک کیا جاتا ہے کبھی کھلا دودھ بیچنے والوں کو اس طرح چیک کیا گیا ہے۔ گوالے دھڑلے سے کئی قسم کی ملاوٹ ملا دودھ فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور جیسے شہر میں روزانہ40ہزار ملین لیٹر دودھ آتا ہے اور متعلقہ اداروں نے اتنی بڑی مقدار میں کبھی دودھ کی چیک نہیں کیا ہے۔ تقریب میں حلیب کمپنی کے اعلی افسر بھی موجود تھے۔

مزید : کامرس