مئی 2018ء تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل کر دی جائیگی

مئی 2018ء تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل کر دی جائیگی

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ 4 سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ملک کی ترقی اور معیشت کے استحکام بالخصوص توانائی کی قلت پر قابو پانے کے مسئلہ کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا۔مئی 2017ء تا مئی 2018ء تک قومی گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی مرحلہ وار شامل کردی جائے گی۔2025ء تک پاکستان کا شمار دنیاکی 25بڑی معیشتوں میں ہو گا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیرقیادت حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد حاصل کر رہی ہے اور عالمی بینک، اے ڈی بی پی اور آئی ڈی بی پی جیسے ادارے اقتصادی اور سماجی شعبوں میں موجودہ حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ موجودہ حکومت کے 4 سال کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی منصوبوں کے اعداد و شمارکے مطابق سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام شروع کردیا ہے ۔ موجودہ حکومت نے توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مختلف قلیل اور طویل مدتی منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے، چین کی معاونت سے آئندہ 8 سے 10 سال میں 21 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے نہ صرف لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ زراعت اور صنعتی شعبے کو بھی ترقی ملے گی۔ داسو ڈیم، دیامر بھاشا ڈیم، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، تربیلا فور توسیعی منصوبہ، نندی پور پاور پراجیکٹ، اوچ II پاور پراجیکٹ، گڈو پاور سٹیشن اور گڈانی پاور پراجیکٹ جیسے منصوبوں کی تکمیل سے ملک توانائی کے بحران کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد توانائی بحران کے خاتمے اور معاشی بحالی کو اپنا اولین ایجنڈا بنایا ہے اور اس مقصد کے لئے مختلف اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ توانائی کے بحران کے خاتمے کے لئے بجلی چوری کی روک تھام اور واجبات کی وصولی کے لئے ایک بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔

مزید : کامرس