ای او بی آئی22 ارب روپے کی پنشن ادا کر رہا ہے:خاقان مرتضیٰ

ای او بی آئی22 ارب روپے کی پنشن ادا کر رہا ہے:خاقان مرتضیٰ

فیصل آباد( بیورورپورٹ) ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن( ای او بی آئی) کو صوبوں کو منتقل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں متفقہ فیصلے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بہت جلد ہو رہا ہے۔ یہ بات ای او بی آئی کے چیئرمین خاقان مرتضیٰ نے فیصل آباد چیمبر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت یہ محکمہ صوبوں کو منتقل ہونے والی کانکرنٹ لسٹ میں شامل تھامگر دو صوبوں نے کہا کہ وہ اس محکمے کو وفاق کے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ سندھ نے اپنا ای او بی آئی ایکٹ پاس کر لیا ہے جبکہ پنجاب نے پہلے اس سلسلہ میں سپریم کورٹ میں کیس کیا جبکہ اب اس نے بھی اپنے موقف میں نرمی پیدا کر لی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس محکمے کی صوبوں کو منتقلی سے ان کے ورکرز کا نقصا ن ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم نے اس مألے کو حل کرنے کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں وزیر اعظم کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شرکت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی اس وقت 15 ارب کی کنٹری بیوشن کے بر عکس 22 ارب روپے کی پنشن ادا کر رہا ہے اور اس فرق میں آنے والے چند سالوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں 3 لاکھ 62 ہزار بزرگ ورکروں کو پنشن کی ادائیگی کیلئے اے ٹی ایم کارڈ جاری کر دیئے گئے ہیں تا کہ وہ اپنی مرضی سے جب اور جہاں سے چاہیں پنشن حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر وہ ان کارڈز کیلئے الفلاح بینک کے علاوہ کسی دوسرے بینک کی اے ٹی ایم استعمال کرتے ہیں تو ان کے 17 روپے کاٹ لئے جاتے ہیں۔ ا نہوں نے بتایا کہ ان کے محکمے نے سٹیٹ بینک سے درخواست کی ہے کہ ان پنشنروں کو بغیر فیس کے کسی بھی اے ٹی ایم سے مفت پنشن نکلوانے کی اجازت دی جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ای او بی آئی کاموجود بورڈ آف ٹرسٹیز ختم ہو چکا ہے اور نئے بورڈ کی تشکیل کا عمل جاری ہے تاہم اس بورڈ کی منظوری وزیر اعظم دیتے ہیں۔ اس لئے بورڈ میں فیصل آباد چیمبر کے صدر کی نامزدگی کیلئے وزیر اعظم سے رابطہ کیا جائے۔ فیصل آباد کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے 5 ہزار ممبر ہیں مگر کنٹری بیوشن دینے والوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔ اسی طرح کئی ادارے 500 ورکروں کی کنٹری بیوشن دے رہے ہیں مگر ان کے ہزار ورکر پنشن لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کنٹری بیوشن کیلئے وفاقی حکومت کوئی مالی امداد نہیں دیتی۔ اس کیلئے آجر5 فیصد فی ورکر جبکہ ایک فیصد ورکر کی تنخواہ سے کاٹ دیتا ہے۔ کنٹری بیوشن کے 3 مختلف ریٹوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کا تعین ورکرز کی کم از کم تنخواہ کے حساب سے کیا جاتا ہے۔

مزید : کامرس