ایک ہزار غیر قانونی مذبحہ خانے ، گوشت کے نام پر بیماریاں

ایک ہزار غیر قانونی مذبحہ خانے ، گوشت کے نام پر بیماریاں

لاہور( جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں غیر قانونی مذبحہ خانے گلی گلی میں دوبارہ کھل گئے ہیں۔ جہاں بیمار لاغر اور کم عمر جانور سرعام ذبح کر کے مضر صحت گوشت شہریوں کو کھلانے کا دھندہ ایک مرتبہ پھر عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بکری منڈی ،شیزان، سبزہ زار ،ب یدیاں روڈ، چونگی امر سدھو، شاہدرہ ، شالامار ، ہربنس پورہ اور جلو کے علاقے غیر قانونی مذبحہ خانوں کے گڑھ بن گئے ہیں جہاں گوشت کے ناغے کے دونوں دن منگل اور بدھ کو بھی کم عمر، لاغر اور ٹوٹی ٹانگوں والے جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور گوشت شہر کے ہوٹلوں، تکہ کباب ، برگر پوائنٹس پر فروخت کیا جاتا ہے۔ لاری اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کی کنٹینوں اور ہوٹلوں پر بھی ناغے کے روز بڑے جانور بچھڑے، گائے بھینس کا گوشت سپلائی کیا جا رہا ہے۔ محکمہ میں ہونے باوجود پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ فوڈ نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے سپیشل برانچ نے رپورٹ مرتب کر کے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر غیر قانونی مذبحہ خانے جو بند کئے گئے تھے ان کے قصابوں نے جگہیں تبدیل کر کے دوبارہ قائم کر لیے ہیں اور دھندہ شروع کر دیا ہے۔ ان پرائیویٹ اور غیر قانونی مذبحہ خانوں کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کے بعض افسروں اور محکمہ فوڈ اور تھانوں کے ایس ایچ اوز کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان غیر قانونی مذبحہ خانوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے، جس سے زیادہ غیر قانونی سلاٹرنگ اقبال ٹاؤن اور نشتر ٹاؤن کی حدود میں ہو رہی ہے۔ جہاں صبح کی اذان سے قبل سے دھندہ شروع ہو جاتا ہے اور صبح 10 بجے تک کام تمام کر لیا جاتا ہے جہاں کھلے عام چھوٹی عمر کے ایک سے تین ماہ کی عمر کے بچھڑے اور کٹے ذبح کر کے شہریوں کو کھلائے جا رہے ہیں۔ تازہ گوشت کے نام کم عمر اور لاغر جانور ذبح کرنے کا دوسرا مرکز کنٹونمنٹ اور عزیز بھٹی ٹاؤن کے علاقے میں بیدیاں روڈ ، مصطفے آباد، سولنگ روڈ نظام آباد کنٹونمنٹ بورڈ کی آبادیاں ہیں جہاں غیر قانونی سلاٹرنگ ہورہی ہے۔ تیسرے نمبر پر راوی ٹاؤن کے علاقے شاہدرہ، شاد باغ،بادامی باغ، ماچس فیکٹری، جیا موسیٰ، یوسف پارک اور دیگر علاقے ہیں۔ شالامار ٹاؤن ، واہگہ ٹاؤن ، داتا گنج بخش ٹاؤن، سمن آباد ٹاؤن میں بھی 270 مقامات پر غیر قانونی مذبحہ خانے ہیں ۔ اس حوالے سے پرائیویٹ مذبحہ خانوں میں جانور ذبح کرنے پر پابندی عائد ہے مگر اس پابندی کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 50 فیصد سے زائد غیر قانونی مذبحہ خانوں سے منتھلیاں لی جاتی ہیں ۔ ٹاؤنوں کے ٹی او آرز اور ان کا ماتحت عملہ بھی ان مذبحہ خانوں سے نذرانے وصول کرتا ہے۔ایس ایچ اوز بھی منتھلی لیتے ہیں۔ اس پر صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مذبحہ خانوں میں جانور ذبح کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈی جی فوڈ ، ڈی جی فوڈ اتھارٹی ، میئر لاہور اور ڈپٹی کمشنر ، ڈائریکٹر لائیو سٹاک کو حکم دوں گا کہ اپنا اپنا کردار ادا کریں ورنہ کارروائی کریں گے۔ ایسے مذبحہ خانوں کو فوری طور پر سیل کیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1