لاہور گرینڈ بازار میں تھوک کی فروخت کیلئے چینی تاجروں نے دکانیں بک کروالیں

لاہور گرینڈ بازار میں تھوک کی فروخت کیلئے چینی تاجروں نے دکانیں بک کروالیں

 لاہور(خبر نگار خصوصی) ایل ڈی اے لاہور سے منظور شدہ4 سو کنال مجوزہ اراضی پر شاہ عالم مارکیٹ ، انارکلی بازار، اعظم کلاتھ مارکیٹ ، برانڈتھ روڈ سے بہتر لوکیشن پر بننے والی تھوک کی مارکیٹ لاہور گرینڈ بازار میں چائنیز تاجروں کے وفد نے اپنی مصنوعات کی تھوک فروخت کیلئے آؤٹ لیٹس(دکانیں)بک کرائیں۔ میاں محمد نواز شریف نے سی پیک کے خواب کو عملی شکل دی جس کی وجہ سے چائنیز سرمایہ کار اب پاکستان میں نظر آرہے ہیں۔ اس موقع پر چائنیز تاجروں کے وفد کا کہنا تھا کہ وہ گرینڈ بازارمیں بیٹھ کرنا صرف پاکستان کے دوسرے شہروں کو مال فروخت کریں گے بلکہ واہگہ بارڈر سے ہندوستان کی سوا ارب کی آبادی کو بھی اپنی مصنوعات فروخت کریں گے اس کے علاوہ افغانستان اور ایران کے تاجر بھی یہاں سے اپنی مصنوعات آسانی سے خرید سکیں گے۔ انہوں نے لاہور گرینڈ بازار کی سینکڑوں دوکانوں کی مناسب قیمت پر فروخت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور شہر میں دوکانیں تو کروڑوں روپوں میں ہیں مگر مناسب قیمت پر بکنگ حاصل ہوگئی ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر سیلز لاہور گرینڈ بازار عاصم محمود نے کہا کہ پاکستانیوں اور خصوصاً لاہوریوں کو چاہیے کہ وہ بھی تھوک کا کاروبار کرنے اور ایسی شاندار سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانے کے لئے جلداز جلد آسان اقساط پر اپنے لئے آؤٹ لیٹس بک کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ ناصرف گوادر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ مرکز بنا ہواہے بلکہ لاہور بھی اپنی جغرافیائی لوکیشن کی وجہ سے دنیا کی 2 ارب کی آبادی کو اپنی مصنوعات بغیر سمندری راستہ استعمال کئے بغیر ترسیل کر سکے گا۔ چائنیز وفد نے امامیہ کالونی پھاٹک سے دوکلومیٹر کے فاصلے کے بعد اور کالاشاہ کاکو انٹر چینج سے پہلے بننے والے لاہور گرینڈ بازار کی لوکیشن کو نہایت ہی بہتر قرار دیا ہے۔کیونکہ یہاں ٹرکوں کے ذریعے مال دن رات آسانی سے لوڈان لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پراجیکٹ میں تھوک کے کاروبار کے لئے موجود سہولتوں مثلاً ریمپ تاجروں کیلئے ویئر ہاوسز اور کھلی سڑکوں کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ ایل ڈی اے نے 42 کنال پر بننے والے بلاک کی تعمیر کے لئے منظوری کے مراحل بڑی تیزی سے مکمل کئے کیونکہ وہ اسے عوام کی دلچسپی اور تھوک کے کاروبار کیلئے باقائدہ پلاننگ سے بننے والی پہلی مارکیٹ قرار دے رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ سے ناصرف لاہور کا ٹورازم بحال ہوگا بلکہ ثقافتی ورثہ جو کے اندرون شہرمیں تھوک کے کاروبار اور ٹرک اڈوں کے بے ہنگمی کاشکار تھا بحال ہوجائے گا اور لاہور یوں کو اربوں روپے غیر ملکی ٹورسٹ کے آنے سے فارن ایکسچینج کی شکل میں ملیں گے جس سے ہمارے نوجوان طبقے کو روزگارکے وسیع مواقع بھی مہیا ہونگے اور اس سے قیمتی ثقافتی ورثے کے بحال ہونے سے اندرون شہرکی پراپرٹی کی ویلیو2 سوگناہ مزید بڑ ھ جائے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1