قانون ناموس رسالت میں تبدیلی ناقابل برداشت ہے،علماء

قانون ناموس رسالت میں تبدیلی ناقابل برداشت ہے،علماء

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوشش ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان میں ہر قانون کا غلط استعمال ہو تا ہے تو صرف توہین رسالت کے قانون پربحث بلا جواز ہے۔ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بناکر قانون ہاتھ میں لینے کی روش روکی جاسکتی ہے۔ مردان واقعہ کی آڑ میں مذہب او ر اہل مذہب پر تنقید بلاجواز ہے۔ قانون اور ریاست سے مایوس لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ہیں ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی،مولانا عزیزالرحمن ثانی،مولانا قاری ظہورالحق،مولانا عبدالنعیم،مولانا خالدمحمود،مولانا وقار سعید،مولانا قاری محمدطفیل،مولانا خالدعابد نے ایچوگل لاہورمیں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عقیدہ ختم نبوت اسلامی تعلیمات کی اساس ، امت میں اتحاد کی فضا قائم کرنے کے لیے مینارہ نور ہے۔ کسی شخص کو انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی آڑ میں گستاخی رسول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جاناپاکستان کی نیشنل اسمبلی کا جرأت مندانہ فیصلہ ہے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کا فیصلہ صرف علماء کرام اور مفتیان عظام نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیشن کورٹس ، ہائیکورٹس ، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے لے کر کینیا، رابطہ عالم اسلامی ، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ اور گمبیاکی عدالتوں نے بھی قادیانیوں کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے آزادی اظہار کی آڑ میں شعائر اسلام کا مذاق اڑانا سنگین جرم ہے۔ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے والے اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ حکومت قانون ناموس رسالت پر عمل در آمد کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے آئین کی اسلامی دفعات ختم کرنے کی کو ئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اہل حق 295-C کے دفاع کیلئے متحد ہو جائیں تحفظ ناموسِ رسالت ؐ ایکٹ 295/C،اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کاتحفظ تمام امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے ہرمسلمان حرمت رسولؐ پر جان قربان کرنابہت بڑی سعادت سمجھتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1