بھوک ہڑتالی فلسطینیوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، اسرائیل

بھوک ہڑتالی فلسطینیوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، اسرائیل

مقبوضہ بیت المقدس(اے پی پی)ا سرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردان نے بھوک ہڑتال کرنے والے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں سے بات چیت نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔اسرائیلی جیلوں میں قید سینکڑوں فلسطینیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اجتماعی بھوک ہڑتال کررکھی ہے ۔ ان سے جیل میں قید مقبول فلسطینی لیڈر مروان البرغوثی نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے اپنے مطالبات کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے اور اسرائیلی حکام سے بہتر طبی سہولتوں سے لے کر ٹیلی فون مہیا کرنے تک مختلف مطالبات کیے ہیں۔بھوک ہڑتال شروع ہوتے ہی مروان البرغوثی کو قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر نے نفرت انگیز لہجے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی دہشت گرد اور قاتل ہیں اور یہ جس چیز کے حق دار ہیں وہ انھیں دی جارہی ہے اس لیے ان کے ساتھ مذاکرات کا جواز نہیں ہے۔واضح رہے کہ فتح تحریک کے رہ نما مروان البرغوثی فلسطینیوں میں بہت مقبول لیڈر ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ جیل میں قید ہونے کے باوجود فلسطینی صدارت کا انتخاب بھی جیت سکتے ہیں۔ اسرائیل کے غیر انسانی نو آبادی نظام اور فوجی قبضے کا مقصد قیدیوں اور ان کی قوم کے عزم اور جذبے کو توڑنا ہے۔انھیں جسمانی تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اوران کے خاندانوں اور آبادیوں سے جدا کیا جاتا ہے اور انھیں دبانے کے لیے جبر وتشدد کے انسانیت سوز حربے آزمائے جاتے ہیں لیکن اس طرح کے سلوک کے باوجود ہم جھکیں گے نہیں۔فلسطینی اتھارٹی کے قیدیوں کے امور کے سربراہ عیسیٰ قرق نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ قریباً 13 سو فلسطینی قیدی بھوک ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں اور یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ایک غیر سرکاری تنظیم فلسطینی قیدی کلب نے بھوک ہڑتالی قیدیوں کی تعداد 15 سو بتائی تھی۔اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قریباً ساڑھے 6 ہزار فلسطینی مختلف الزامات کی پاداش میں قید ہیں ۔ ان میں62 خواتین اور 3 سو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔

مزید : عالمی منظر