موصل بدترین انسانی بحران کے دہانے پر ہے: اقوام متحدہ کا انتباہ

موصل بدترین انسانی بحران کے دہانے پر ہے: اقوام متحدہ کا انتباہ

موصل(این این آئی)اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موصل کی لڑائی کے دوران شہر کے قدیمی حصے میں پھنسے ہوئے شہریوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ ہے جبکہ اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر اثر موصل کے مغربی حصے اور اس کے گرد و نواح میں موجود شہریوں کی تعداد بھی پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔عراقی شہر موصل کو داعش سے آزادی دلانے کی عسکری کارروائی کے دوران لاکھوں شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال بد ترین انسانی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی عراق کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد کی رابطہ کار لیزے گراند نے بتایاکہ گر ان علاقوں کا محاصرہ کیا جاتا ہے، تو ہزاروں افراد کی اشیائے خوراک تک رسائی نہیں ہو گی اور یہ بہت بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورت میں ایک ایسے انسانی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جو اس تنازعے کا اب تک کا بدترین بحران ہو۔لیزے گراند نے کہا کہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے، ہمیں چار لاکھ کے قریب انسانی زندگیوں کی فکر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے گواہوں نے بتایا ہے کہ موصل سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے بہت سے افراد کو گولی مار دی گئی۔ یہ سب کچھ بہت خوفناک ہے۔موصل کے قدیمی حصے سے کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہونے والے افراد نے بتایا کہ وہاں کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...