عمران کیساتھ اتحاد ممکن ، پاناما کیس فیصلہ سے زیادہ توقعات نہیں : زرداری

عمران کیساتھ اتحاد ممکن ، پاناما کیس فیصلہ سے زیادہ توقعات نہیں : زرداری
 عمران کیساتھ اتحاد ممکن ، پاناما کیس فیصلہ سے زیادہ توقعات نہیں : زرداری

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے پانامہ لیکس فیصلے کا شدت سے انتظار ہے، فیصلے پر احتجاج کسی کیلئے بھی اچھا نہیں ہوگا ،حکمران شہنشاہ بن کر پارلیمنٹ کو چلا رہے ہیں اور جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی، بجلی نہ آنے پر بڑھکیں مارنیوالے شریف برادران آج سوچ سمجھ کر باتیں کریں، حکمرانوں نے تیل سستا ہونے کے باوجود بجلی سستی نہیں کی،آج کسان کے پاس پانی ہے نہ بجلی، لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کریں گے ،مہنگائی وبیروزگاری کے خاتمے تک ہماری تحریک جاری رہے گی ،میں مینارپاکستان اوربلاول مزارقائد پربیٹھیں گے اورلوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کریں گے،ملک کی بہتری کیلئے عمران خان کا ساتھ دے سکتا ہوں لیکن میاں نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں کروں گا ، وہ فون بھی کریں تو کال نہیں اٹھاؤں گا، ملک میں ہی رہوں گا ، 13 سال جیل کاٹی اس وقت دباؤ میں نہیں آیا ، اب کیا آؤں گا۔ انہیں پانامہ کے فیصلے سے زیادہ تو قعات نہیں ہیں تاہم پانامہ فیصلے کے بعد ہی وہ اس پر ردعمل دیں گے، تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملا کر لائحہ عمل طے کیا جائیگا ۔ قومی اسمبلی کی نشست پرسندھ سے ا نتخاب میں حصہ لوں گا اور اگرہماری حکومت آئی تو حسین حقانی کوکوئی نہ کوئی سزاضروردینگے ۔گزشتہ روز اپنی اور بلاول بھٹو کی زیرصد ار ت پا کستان پیپلزپارٹی کے مشاورتی اجلاس سے خطاب اور قبل ازیں نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویودیتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا میرے سا تھیو ں کوکیوں اٹھایا جارہا ہے یہ تواٹھانے والے ہی جانیں،جب میں جیل میں قید تنہائی میں تھاتب کسی دباو میں نہیں آیا تواب کیا آوں گا۔میں نے اپنے سامنے پرویزمشرف کونکالنے اوراداروں کوبنانے کا مقصد رکھا تھا۔شہبازشریف کومیں اپنی سوچ کے قریب بھی نہیں سمجھتا، جس نے دھرتی سے وفانہیں کی وہ اپنی ماں سے بغاوت کرتاہے ،ایسا کرنیوالا کچھ بھی کرسکتا ہے۔پاناما کیس کے فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار ہے ، نوازشریف کو کسی فیصلے کو ماننے کی عادت نہیں اسلئے معلوم نہیں کہ وزیراعظم پاناما کیس فیصلے کے بعد کیا کریں گے ۔14ء میں حکومت کوسیاسی شہید نہیں ہونے دیا لیکن اب نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہی ہوگی جبکہ حکومت بھی قبل ازوقت الیکشن پرجاسکتی ہے اور ہم بھی جاسکتے ہیں۔ وفاق اورصوبے کی لڑائی بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتی ہے لیکن وفاق تنازعات کو سیاسی معاملہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ حکمران روڈ بنواسکتے ہیں اور کمیشن لے سکتے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے جبکہ میں نوازشریف سے بہتر مینجمنٹ کر سکتا ہوں۔

مزید : صفحہ اول