کسی فیصلے کا انتظار نہیں ، سیاسی نو وارد جھوٹ بولتے ، دھرنے دیتے اور الیکشن ہار جاتے ہیں : نواز شریف

کسی فیصلے کا انتظار نہیں ، سیاسی نو وارد جھوٹ بولتے ، دھرنے دیتے اور الیکشن ...

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی فیصلے کا انتظار نہیں ،ہمیں عوام نے فیصلوں کے انتظار کے لیے نہیں کام کرنے کیلئے منتخب کیا ہے ، مسلم لیگ (ن )نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لیا اور آئندہ بھی شاندار کارکردگی کا مظا ہرہ کرے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق پاناماکیس کے فیصلے کی تاریخ کے اعلان کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی ۔اس موقع پر ایک رہنما نے پاناما کے فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ فیصلے کے بعد سب بہتر ہو جائے گا جس پر وزیر اعظم نے برجستہ کہاکہ ہمیں کسی فیصلے کا انتظار نہیں ہے ،عوام نے ہمیں اس لیے منتخب نہیں کیا کہ فیصلوں کا انتظار کریں بلکہ کام کرنے کے لیے عوام نے منتخب کیا ہے ۔ فیصلہ جو بھی آئے ،عام انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے ،کارکن فعال ہو جائیں،پارٹی رہنما ترقیاتی کاموں کو تیز کردیں ۔ کوئی بھی کام کے بغیر منتخب نہیں ہوسکتا ،ترقیاتی کاموں کو وقت پر ختم کرنا ہے ۔اس موقع پر چودھری نثار نے کہا کہ زرداری ٹولے نے سندھ میں کوئی کام نہیں کیا ،ان کے کام بھی وفاقی حکومت کو ہی کر نے پڑ رہے ہیں۔دریں اثناء اسلام آباد میں پارٹی کے سندھ کے عہدیداروں کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں عوام کی تائید حاصل ہورہی ہے روشن پاکستان کا پیغام سندھ کے ہر شہر اورگاؤں تک پہنچ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ ہماری جانب دیکھ رہے ہیں ۔ مخالفین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو پورا حق ہے پنجاب سمیت جہاں جانا چاہیں شوق سے جائیں جب کسی نے سندھ میں کام نہیں کیا تو نتائج کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے صوبہ سندھ جانا ہمارا حق ہے لوگ آپ کی اور ہماری کارکردگی میں فرق دیکھ رہے ہیں ۔ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے سندھ کے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں مسلم لیگ ن کو مزید فعال اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ صوبہ سندھ جانا ہمارا حق ہے اور اگر کسی نے سندھ میں کام نہیں کیا تو اْسے نتائج کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے، ہمارے سیاسی مخالفین کو بھی پورا پورا حق ہے کہ وہ پنجاب سمیت جہاں جانا چاہیں، بڑے شوق سے جائیں، عوام ہماری کارکردگی دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کے کام بھی عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے ہیں اور آئندہ بھی شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کریں گے وزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پارٹی ارکان کو تاکید کی کہ وہ عوام سے مسلسل رابطہ رکھیں اور ترقی ، خوشحالی اور روشن پاکستان کا پیغام سندھ کے ہر شہر ، گاؤں اور گوٹھ کے عوام تک پہنچائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں عوام کی تائید حاصل ہورہی ہے اور پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مسلم لیگ (ن) کے پارٹی اراکین کوکہا کہ اگر آپ محنت کرتے رہیں گے تو انشاء اللہ بہت اچھے نتائج حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بابو سرفراز خان جتوئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عوامی رابطے کا پروگرام جلد ترتیب دیں تاکہ صوبہ سندھ میں بھی عوامی رابطے اور سیاسی سرگرمیوں کا جلد آغاز کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے سندھ کے شہروں کی حالتِ زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اْن کا عزم ہے کہ سندھ کے عوام کو جدید شہری ، طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سندھ کے عوام کا معیارِ زندگی بہتر سے بہتر ہوسکے۔ قائد ایوان سینیٹ راجہ ظفر الحق ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،گورنر سندھ محمد زبیر ، وزیراعظم کے مشیر جام معشوق علی ، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل ، وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور ڈاکٹر آصف کرمانی ، مریم نواز ، چیئرمین بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ماروی میمن ،صدر مسلم لیگ (ن) سندھ بابو سرفراز خان جتوئی ، نائب صدر مسلم لیگ (ن) سندھ شاہ محمد شاہ ، سینیٹر نہال ہاشمی ، سینیٹر پرویز رشید ، سینیٹر مشاہد اللہ خان ، سینیٹر نزہت صادق ، سینیٹر بیگم نجمہ حمید ، سینیٹر سلیم ضیاء ، کپٹن (ر)محمد صفدر ، صدر اقلیتی ونگ مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر درشن لال ، سید ایاز علی شاہ شیرازی ، جعفر اقبال ، بیگم عشرت اشرف ، چیئرمین متروکہ املاک صدیق الفاروق ، آرگنائزر خواتین ونگ زاہدہ بھند ، صدر اقلیتی ونگ مسلم لیگ (ن) سندھ ڈاکٹر شام سندھر اڈوانی، جنرل سیکرٹری اقلیتی ونگ کھیل داس کوہستانی ، زین انصاری ، صدر یوتھ ونگ سندھ راجہ خلیق الزمان انصاری ، سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ (ن) سندھ اسلم ابڑو ، بیگم صورت تھیبو اور چوہدری طارق اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے تین برسوں میں اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے اور اب خطے کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے ۔ انہوں نے یہ بات چین کی ای کامرس کمپنی " علی بابا" گروپ کے صدر مائیکل ایونزسے بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم نے بتایاکہ انہوں نے اس سال کے شروع میں ڈیووس میں عالی اقتصادی فورم کے موقع پر پاکستان میں ای پلیٹ فارم کے قیام کے لئے دستیاب مواقع کے حوالے سے علی بابا گروپ کے ایگزیکٹو چیئرمین جیک ما سے نہایت مفید بات چیت کی تھی پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے ، صنعت کو بلاتعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے اور انفراسٹرکچر کی بے مثال ترقی کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے میدان میں انقلابی وسعت آئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات ، بہتر اسلوب حکمرانی اور ٹیکس ڈھانچے کی بہتری پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ۔ مائیکل ایونز نے پاکستان مدعو کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں گزشتہ روز مختلف وفاقی وزراء کے ساتھ اپنی بامقصد ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا سبدھ کے حواکے سے اجکاس کے درانوزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاناما کا جو بھی فیصلہ آئے گا ہمیں منظور ہے کیونکہ ہمارا دامن صاف ہے اور ہم ملک کو آگے لے کر جانا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں عوام کی تائید حاصل ہورہی ہے اور پذیرائی میں اضافہ ہو رہا ہے،وزیراعظم نوازشریف نے سندھ سے شہروں کی حالتِ زار پر افسوس کاا اظہار کرتے ہوئے کہا ان کا عزم ہے کہ سندھ کے عوام کو جدید شہری، طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم ?ی جائیں

نواز شریف

بھکی،شیخوپورہ(اے پی پی) وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کو اندھیروں سے نکالنے، ترقی و خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے اور اقوام عالم میں باعزت مقام دلانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلنے والے اور لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار آج احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ان کا بویا ہوا آج ہم کاٹ رہے ہیں، اندھیرے میں دھکیلنے والوں سے سوال کیا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ دوسری طرف سیاسی نو وارد جھوٹ بولتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں لیکن الیکشن ہار جاتے ہیں۔حکومت دہشت گردی، انتہا پسندی، توانائی کی قلت سمیت درپیش چیلنجوں سے موثر انداز میں نبردآزما ہو رہی ہے پاکستان مشکلات سے نکل رہا ہے، جون 2018ء تک قریبا 10 ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہو گی، ہماری نظر 2018ء پر نہیں بلکہ آئندہ 25 سال کی ترقی پر مرکوز ہے۔ انہوں نے یہ بات شیخوپورہ کے نزدیک ایل این جی چلنے والے 1180 میگاواٹ کے بھکی پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں پنجاب کے گورنر رفیق رجوانہ، وزیراعلیٰ شہباز شریف، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی، چینی سفیر سن وی ڈونگ، سفارتکاروں، ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کا بیڑہ غرق کرنے والے آج بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں ’18 اہ کی قلیل مدت میں منصوبہ مکمل کیا جس میں ایک گھر بھی نہیں بنتا، پاکستان میں ایک سال کے کام کو 10 برس میں کرنے کی روایت ہے اس لیے قلیل مدت میں منصوبے کی تکمیل روایت کے خلاف ہے۔ ’آج ملکی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہورہا ہے، قلیل مدت میں منصوبے کی تکمیل پاکستان میں نئی تاریخ کا آغاز ہے، ہم ایک سال کے منصوبے میں 10 برس ضائع نہیں کرتے، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف توجہ نہ دیتے تو یہ منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہوجاتا۔ ’آج ملک میں لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں، احتجاج کی بات کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے، اگر انہوں نے بجلی کے بروقت منصوبے تعمیر کیے ہوتے تو آج ملک کا میں لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی۔‘ ’ہم اقتدار سنبھالتے ہی لوڈ شیڈنگ سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے، مئی میں چشمہ پاور پلانٹ کا افتتاح کریں گے، حویلی بہادر شاہ منصوبے سے جون میں بجلی ملنے لگے گی اور اب ہر ماہ بجلی کے نئے منصوبے افتتاح کریں گے۔ ’پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ دسمبر سے 660 میگاواٹ بجلی دے گا، تربیلا فور میں فروری سے ایک ہزار 410 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، جبکہ مجموعی طور پر جون 2018 تک 8 ہزار 946 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔ ’ملک میں لوڈ شیڈنگ کی بڑی وجہ دریاؤں اور جھیلوں میں پانی کی کمی ہے، بجلی کی طلب میں ہر سال 7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود جتنی بجلی گزشتہ 70 سالٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ میں پیدا کی گئی اتنی ہم نے 3 سال میں پیدا کی۔ ’ہماری حکومت سے پہلے کسی کو لاہور سے آگے موٹروے لے جانے کی توفیق نہیں ہوئی، تاہم اب سڑکوں پر ایک ہزار ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں، سندھ میں کام کرکے خوشی ہو رہی ہے، کچھ صوبائی حکومتوں کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیئے تھی اور اگر وہ کچھ کرتیں تو نظر آتا۔‘ انہوں نے پلانٹ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا جہاں انہیں اس ماحول دوست منصوبے کی استعداد کار کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ بھکی پاور پلانٹ حکومت پنجاب کا ایک کلیدی منصوبہ ہے جو ایل این جی سے 1180میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا حامل ہے ۔شیخوپورہ کے قریب بھکی پاور پلانٹ اٹھارہ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے، اتنی کم مدت میں منصوبے کی تکمیل عالمی ریکارڈ ہے۔ منصوبے سے فوری طور پر 717 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائیگی۔ بھکی پاور پلانٹ سے حاصل ہونے والی بجلی سات روپے سینتیس پیسے فی یونٹ دستیاب ہوگی۔منصوبے میں شفافیت سے53 ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ بھکی پاور پلانٹ کم ترین قیمت میں تیار کیا جانے والا بہترین کارکردگی کا منصوبہ ہے جس سے ملک میں بجلی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ 18 ماہ قبل اس جگہ پر آیا اور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، آج اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہا ہوں۔ یقین نہیں آتا کہ اتنا بڑا منصوبہ اتنی کم مدت میں مکمل ہو گیا ہے۔ 18 ماہ میں ایک گھر نہیں بنتا ایک مکان بنانے کیلئے اڑھائی تین سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ بھکی پاور پلانٹ کیلئے فیول ٹینک سمیت بھاری مشینری لگائی جانا ایک بڑا کام تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ منصوبہ ایک نئے باب کا اضافہ کرے گا ان منصوبوں میں برسوں ضائع ہوئے۔ علاوہ ازیں منصوبوں کی لاگت بھی کئی گنا بڑھ جاتی،10 ارب کے منصوبے پر 100 ارب روپے لگ جاتے۔ نیلم جہلم نندی پور اور دیگر منصوبوں میں ایسا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ پنجاب بھکی پاور پلانٹ کے منصوبے پر ذاتی نگرانی نہ کرتے تو شائد اس میں بھی 15 سال لگ جاتے تاہم ان کی کاوشوں سے یہ منصوبہ ریکارڈ کم مدت میں مکمل ہوا جس میں 53 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ اگر تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری رہتاتو ہم دنیا کی بڑی طاقت بن چکے ہوتے۔۔ چیلنجوں کے باوجود یہ ملک آگے بڑھتا رہے گا، غریب عوام خوشحال ہونگے۔ پاکستان دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے گا۔ ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کمر ٹوٹ چکی ہے، ہم نے صوبوں میں بھی ترقیاتی کاموں میں مدد دی۔ خنجراب سے گوادر تک شاہرات تعمیر کی جا رہی ہیں، لاہور موٹروے کو کراچی تک بڑھایا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر پر خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جہاں سی پیک کے علاوہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ہوائی اڈے اور موٹرویز تعمیر ہو رہے ہیں۔ ملک میں ریلوے کے نظام کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ ہم مشکل وقت میں ساتھ دینے پر چین کے مشکور ہیں جس کے تعاون سے توانائی سمیت مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بجلی کی ڈیمانڈ میں7 فیصد اضافہ ہوا ہے، کارخانے لگ رہے ہیں، بیرون ملک سے مشینری آ رہی ہے، نئے گھروں کی تعمیر ہورہی ہے۔ پاکستان کی معیشت ترقی کی طرف جا رہی ہے۔ ان حالات میں ہم زیادہ بجلی پیدا کرنے کا انتظام کر رہے ہیں۔ بھاشا ڈیم اور داسو پراجیکٹ سے 9 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں ہم نے آتے ہی توانائی کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دی اسی سال پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ مکمل ہو گا۔ خنجراب سے گوادر تک 2 ہزار کلو میٹر کے فاصلے میں بہترین شاہرات اور موٹرویز تعمیر کی جا رہی ہیں، ہمارا رابطہ چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا سے ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم صرف 2018ء نہیں بلکہ آئندہ 25 سالوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے موٹرویز کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ جی ٹی روڈ کافی ہے حالانکہ اگر موٹروے نہ ہوتی تو جی ٹی روڈ کی صورتحال بہت خراب ہوتی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مخالفین اپنے پراپیگنڈے اور جھوٹ کے باوجود تلہ گنگ کے ضمنی انتخاب میں 22 ہزار ووٹوں کے مارجن سے ہار جاتے ہیں جو ان کی بڑی شکست ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت پورے ملک کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے، کراچی میں امن و امان اور پانی کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد دی، گرین لائن بس، لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کی حالانکہ یہ کام صوبائی حکومت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور۔ملتان اور راولپنڈی ہم نے میٹرو بس سروس کا آغاز کیا۔ اسلام آباد میں عالمی معیار کا نیا ایئر پورٹ اس سال مکمل ہو جائے گا جو میٹرو بس سروس سے منسلک ہو گا۔ لاہور ایئرپورٹ کو بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ آج بلوچستان پرامن صوبہ بن رہا ہے، سیاسی استحکام آ رہا ہے۔ بلوکی منصوبہ 54 ارب روپے میں مکمل ہو گا جس میں 52 ارب روپے کی بچت ہو گی، بلوکی پلانٹ بھی اگست میں پیداوار شروع کر دے گا، اللہ کے فضل سے آنے والے مہینوں میں نئے منصوبوں کا افتتاح کرینگے، حویلی بہادر شاہ سے اگلے ماہ، تربیلا 4 سے فروری میں، نیلم جہلم سے مارچ میں پیداوار شروع ہو جائے گی۔تقریب سے قائداعظم تھرمل پاور پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چینی کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بھی خطاب کیا۔

نواز شریف۔ پاور پلانٹ افتتاح

مزید : صفحہ اول