اپریل پاکستان کے کئی وزرائے اعظم کیلئے بھاری

اپریل پاکستان کے کئی وزرائے اعظم کیلئے بھاری

لاہور: (مانٹیرنگ ڈیسک) اپریل کی ستمگری کے شواہد بھی کئی ہیں اور اس کے زخم بھی کاری ہیں۔ کئی وزرائے اعظم پر یہ مہینہ بھاری رہا ہے۔ ایک کو پھانسی، دو کو سزا اور ایک کی حکومت ختم ہوئی۔ پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا پر عملدرآمد اپریل میں ہوا۔ انہیں 4 اپریل 1979ء کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ستمگر مہینے کا ایک اور ظلم 18 اپریل 1993ء کو سامنے آیا جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم نواز شریف کو گھر بھیج دیا۔اپریل نواز شریف پر ایک ستم اور ڈھا چکا ہے۔ 6 اپریل 2000ء4 کو خصوصی عدالت نے انہیں طیارہ سازش کیس میں عمر قید کا حکم سنایا۔ یوسف رضا گیلانی کو بھی اپریل نے گہرا زخم دیا۔ سپریم کورٹ نے 26 اپریل 2012ء کو انہیں توہین عدالت پر سزا دی۔ ان کی حکومت بھی اسی تاریخ سے ختم کی گئیَعجب اتفاق ہے کہ پانامہ لیکس اپریل میں منظر عام پر آئیں اور سپریم کورٹ اس مقدمے کا فیصلہ بھی اسی مہینے میں سنا رہا ہے۔ آج یہ راز کھلے گا کہ اپریل اس بار بھی ستمگری کی تاریخ دہرائے گا یا ماضی کے برعکس وزیر اعظم کے لئے خوشیوں کا پیغام لائے گا۔

مزید : صفحہ اول