تاریخ میں پہلی بار موسمیاتی تبدیلی سے دریا کا رخ بدل گیا

تاریخ میں پہلی بار موسمیاتی تبدیلی سے دریا کا رخ بدل گیا
تاریخ میں پہلی بار موسمیاتی تبدیلی سے دریا کا رخ بدل گیا

ٹورانٹو(مانیٹرنگ ڈیسک)جدید تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دریا نے اپنا رخ تبدیل کیا ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی وجہ آب و ہوا میں تبدیلیاں (کلائمیٹ چینج) ہے۔گزشتہ برس کے وسط میں کینیڈا کے علاقے یکون میں ایک بہت بڑا برفانی گلیشیئر کھسکا تھا اور اس سے بہنے والا وہ پانی جو ایک دریا میں جاتا تھا اب دوسرے دریا میں ملنے لگا۔ اس سے یکون کی سب سے بڑی جھیل کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی اور سارا میٹھا پانی اب بیرنگ سمندر کی بجائے الاسکا کے جنوب میں بحرالکاہل میں گرنے لگا ہے۔ماہرین نے اس عمل کو’’دریا کی فوری ضبطگی‘‘ قرار دیا ہے اور ماضی میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن اتنی تیزی سے دریا کا بہاؤ بدلنے کا کوئی واقعہ تاریخ کے علم میں اب تک نہیں آسکا۔دریا پر کام کرنے والے مرکزی سائنسداں کا کہنا ہے کہ یکون کے علاقے میں واقع رخ بدلنے والے اس دریا کا نام ’’سلمس ریور‘‘ ہے۔ اب یہ گلیشیائی بہاؤ کی وجہ سے اپنا رخ بدل چکا ہے۔ اس میں پانی کی سطح مسلسل کم ہورہی ہے اور کنارے کے پتھر اور ریت واضح ہورہے ہیں۔نیچرجیوسائنس میں شائع رپورٹ کے مطابق سلمز دریا میں پانی کی رکاوٹ سے اس علاقے کی سب سے بڑی اور خوبصورت جھیل کی بقا کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ گزشتہ اگست جھیل کا پانی کم ترین درجے پر تھا جس سے وہاں رہنے والی دو آبادیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...