قانون میں کسی کو ایڈیشنل چارج دینے کی گنجائش موجود نہیں ہے: لاہور ہائیکورٹ

قانون میں کسی کو ایڈیشنل چارج دینے کی گنجائش موجود نہیں ہے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین واپڈا اور تین ممبران کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر وزارت پانی و بجلی کو جواب داخل کرانے کے لئے18مئی تک آخری مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں یہ تعیناتیاں غیر قانونی ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے آصف کھوکھر کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین واپڈا مزمل حسین، ممبر واپڈا شاداب خان، انوار الحق اور نصیر رفیق تعیناتی کے لئے کوئی اخبار اشتہار بھی نہیں دیا گیا۔ اسی طرح حکومت نے ممبر فنانس واپڈا انوار الحق کو دو برسوں سے ایڈیشنل چارج دے رکھا ہے، عدالت ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کرے، وفاقی حکومت اور واپڈا کی طرف سے وکلاء نے جواب داخل کرانے کے لئے مہلت کی استدعا کی، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 18مئی تک ملتوی کردی اور ریمارکس دیئے کہ یہ آخری مہلت ہے، عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ بادی النظر میں چیئرمین واپڈا اور ممبرز کی تعیناتیاں غیرقانونی ہیں، قانون میں کسی کو ایڈیشنل چارج دینے کی گنجائش موجود نہیں ہے، عدالت نے چیئرمین واپڈ اور تینوں ممبرز کو بھی جواب داخل کرانے کے لئے آخری مہلت دے دی۔

مزید : صفحہ آخر