پاناما لیکس ، آج تاریخی فیصلے کا دن ، پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک پر

پاناما لیکس ، آج تاریخی فیصلے کا دن ، پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کے کمرہ ...

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک / ایجنسیاں ) آج تاریخی فیصلے کا دن ہے،پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک پر مرکوز ہونگی،سپریم کورٹ کی طرف سے پاناما لیکس کیس کے فیصلے کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی ریڈ الرٹ ہوگی،ریڈزون میں عام افراد کا داخلہ بند ہوگا۔،بغیرپاس سپریم کورٹ کی عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی،ایس پی سکیورٹی سپریم کورٹ احمد اقبال نیمسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماؤں سے رابطہ کرکے عدالت آنے والوں کی فہرست حاصل کرلی ہے،بڑی سیاسی جماعتوں کو 15,15پاسز دیئے جائیں گے،سیاسی جماعتوں کو کارکنوں کو عدالت کی طرف نہ لانے، امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھنے اور قانون کو کسی صورت ہاتھ میں نہ لینے کیلئے کہا گیا ہے،ریڈ زون اور سپریم کورٹ کی عمارت کی سکیورٹی پر پولیس اور رینجرز کے 1500سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود پاک فوج کے دستے اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے طلب کیے جاسکتے ہیں،سکیورٹی صورتحال کی مانیٹرنگ سیف سٹی کمانڈ اینڈکنٹرول سنٹر میں ہوگی۔ ،سیاسی جماعتوں کی طرف سے دیئے گئے ناموں کے مطابق کمرہ عدالت کیلئے پاسز جاری ہوں گے،احاطہ عدالت میں بھی سیاسی کارکنوں کے داخلے پر پابندی ہوگی،صرف وہی شخص عدالت جاسکے گا،جس کوپاس دیاجائے گا،عدالت کے اندر اور باہرسکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہوں گے،احاطہ عدالت میں بھی پولیس اور رینجرز اہلکار ہوں گے عدالت کی عمارت کے اندر پولیس کی سپیشل برانچ کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جاسکے،سپریم کورٹ کی عمارت اور ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلئے پولیس اور رینجرز تعینات ہوں گی جو آج علی الصباح اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ جائیں گی،مجموعی طور پر 1500سے زائد اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹیاں دیں گے،ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر ریڈزون کی عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے پاک فوج کے دستے تیار رہیں گے،تمام سینئر پولیس افسرسکیورٹی ڈیوٹیاں خود چیک کریں گے۔ایس پی سکیورٹی احمد اقبال نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو عدالت کی طرف نہ آنے دیں،دوسری طرف آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں پولیس،انتظامیہ اور رینجرز کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں سپریم کورٹ اور ریڈزون کی سکیورٹی سے متعلق پلان کو حتمی شکل دی گئی،تمام افسروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ موقع پر موجود رہیں اور سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیں۔سیاسی جماعتوں کو پابند کریں کہ وہ امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھیں اور کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے گا۔پاناما کیس کے فیصلے کے کے پیش نظر کسی بھی ممکنہ رد عمل سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ،ریڈ زون اور اہم عمارتوں کی سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ہے۔ عدالت کے احاطے میں صرف وہی لوگ آ سکیں گے جن کے مقدمات زیر سماعت ہوں گے اور مکمل تلاشی کے علاوہ فون لے جانا بھی منع ہوگا۔ جلسے جلوس یا ریلیوں وغیرہ کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار، رینجرز اور ایف سی کے دستے معاونت کریں گے اورپولیس حکام سپریم کورٹ سکیورٹی انتظامات کا جائرہ لیں گے۔

سپریمکورٹ بفیصلہ

مزید : کراچی صفحہ اول