گندم خریداری کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع، کا شتکار رل گئے

گندم خریداری کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع، کا شتکار رل گئے

ملتان، کوٹ ادو، خانگڑھ ، بہاولپور، خانپور ، ٹھل حمزہ، چنی گوٹھ، خانقاہ شریف، بستی اللہ بخش، صادق آباد، راجن پور(سپیشل رپورٹر، نمائندگان) محکمہ خوراک ملتان ڈویثرن کی جانب سے گندم خریداری کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کر دی گئی دیگر ڈویثرنوں میں کسانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے کمپیوٹرائزڈ لسٹوں میں بھی خورد برد کا انکشاف ہوا ہے اس سلسلہ میں ملتان سے سپیشل رپورٹر کیمطابق ملتان ( سپیشل رپورٹر) محکمہ خوراک کی جانب سے گندم خریداری سکیم 2017ء کے تحت گندم خریداری کیلئے باردانہ اجراء اور خریداری شروع کرنے کی تاریخ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی گئی ہے ۔اس ضمن میں محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق موسم خشک رہنے کی صورت میں ملتان ڈوثیر ن کے گندم خریداری مراکز سے باردانہ کا اجراء 23اپریل سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ خریداری کا آغاز یکم مئی سے شروع کیا جائے گا ۔واضع رہے کہ اس سے قبل محکمہ خوراک نے باردانہ اجراء پہلے 15اور پھر 17اپریل سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی گئی ہے ۔ گندم خریداری سکیم 2017ء کے دوران کسانوں کو باردانہ فراہمی کا اختیار ضلعی حکومت کی جانب سے تعینات کئے جانے والے سنٹر کوآرڈنیٹر اور محکمہ خوراک کے انچارج گندم خریداری مرکز کے حوالے کردیا گیا ۔ پٹواری کا کردار ختم کرتے ہوئے محکمہ مال کی مرتب کردہ خسرہ گرداوری فہرستوں کے مطابق گندم کاشت کرنے والے کسانوں کو 10بوری فی ایکڑ کے حساب سے باردانہ جاری کیا جائے گا ۔تفصیل کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب نے گندم خریداری سکیم 2017ء کے تحت گندم کے کاشتکاروں کو باردانہ کی فراہمی کا نظام مزید آسان بنانے کیلئے پالیسی واضع کرتے ہوئے باردانہ اجراء کا اختیار ضلعی حکومت کی جانب سے تعینات کئے جانے والے سینٹر کوآرڈینیٹر اور محکمہ خوراک کے سینٹر انچارج کے حوالے کردیا ہے جو محکمہ مال کی مرتب کر دہ خسرہ گرداوری فہرستوں کے مطابق گندم کے کاشتکاروں کو 10بوری فی ایکڑ باردانہ فراہم کریں گے ۔نئی پالیسی کے مطابق گندم کے کاشتکاروں کو اب حلقہ پٹواری سے ٹوکن نہیں لینا پڑے گا۔اور وہ گندم خریداری مرکز پر آویزاں کی گئی فہرست میں موجود کاشت کے مطابق باردانہ حاصل کرسکیں گے ۔ کوٹ ادو ‘ خان گڑھ سے تحصیل رپورٹر ‘ نامہ نگار کے مطابق گندم کی خریداری کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے گا کسانوں بالخصوص چھوٹے کاشتکاروں کو باردانے کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، یہ بات ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ محمد سیف انور نے مختلف گندم خریداری مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق گندم خریداری کے عمل میں چھوٹے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی، انہوں نے سنٹر کواڈینیٹرز کو ہدایت کی کہ حقدار کو ا ن کا حق ضرور دیا جائے ، انہوں نے کہا کہ فہرستوں میں جو نام غلط ہیں ان کو بار دانہ فراہم نہ کیا جائے ، فہرستوں کو دوبارہ چیک کریں اور اس سلسلے میں کاشتکاروں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ بہاولپور سے بیورو رپورٹ کے مطابق چیئرمین ڈسٹرکٹ فوڈ کمیٹی بہاولپورحمادندیم میرانی نے کہاہے کہ کاشتکاروں اورزمینداروں کے حقوق پرڈاکہ زنی کی کسی کواجازت نہیں دی جائیگی کاشتکاروں سے گندم سرکاری نرخوں پرخرید کرانہیں آڑھتیوں اورمڈل مین کے استحصال سے نجات دلانا وزیراعلی شہبازشریف کاعزم ہے وہ مختلف مراکز خریدگندم کے معائنہ کے موقع پرگفتگو کررہے تھے انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کی ہدایت پرباردانہ کے اجراء میں شفافیت پیداکی گئی ہے اوراس کیلئے مانیٹرنگ کاعمل موثر بنایاگیاہے انہوں نے مراکز خریدگندم پرسی سی ٹی وے کیمرے نصب کیے گئے ہیں اورہرمرکز پرکاشتکاروں کوسہولیات کی فراہمی کویقینی بنایاگیاہے۔ خان پور سے نمائندہ خصوصی کے مطابق خان پور میں کرپٹ اہلکار چوہدری بوٹا کی بطور پاسکو پروجیکٹ منیجر تعیناتی کے خلاف کسانوں کا احتجاج،باردانہ کی فروخت کیلئے زمینداروں کے کم رقبہ جات کا اندراج،مکمل گندم کی فروخت کیلئے رشوت طلب،متاثرین کا ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔خان پور کے مضافات موضع واحد بخش سیال،موضع نویں آرائیں،موضع فیروزہاور موضع70عباسیہ کے کاشتکاروں محمد ارشد،محمد اسلم،ابراہیم،محمد شاہد۔اللہ وسایا،محمد اجمل،محمد سراج،عبد العزیز،محمد فیصل،محمد اظہر ،محمد انور ودیگر درجنوں افراد نے پریس کلب خان پور میں پاسکو پروجیکٹ منیجر چوہدری محمد بوٹا کو کرپٹ اور راشی قرار دیتے ہوئے اسکی یہاں تعیناتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اوراسکے خلاف شدید نعرے بازی کی،کاشتکار وں نے الزام عائد کیا کہ کرپٹ اہلکار نے تعیناتی ہوتے ہی زمینداروں کو کم باردانہ دینے کیلئے انکے نصف رقبہ جات کا اندراج کیا ہے ہم نے کیونکہ گندم مکمل طور پر پاسکو کو فروخت کرنی ہے تو اسکیلئے مزید باردانہ کیلئے حسب سابق سال مذکورہ اہلکار نے ابھی سے رشوت طلب کرلی ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ اہلکار کے پاس باردانہ وافر مقدار میں موجود ہے لیکن اسکی غیر منصفانہ تقسیم کرکے یہ کسانوں کا استحصال کررہا ہے جو نا قابل برداشت امر ہے ۔انہوں نے کہا کہ چوہدری کی پاسکو سنٹرز پرچھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں کے ساتھ باردانہ کی تقسیم میں ہونیوالی انصافیوں کو اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔احتجاج میں شامل زمیندار وتاجران چوہدری نعیم دادا،عبد النعیم،حفیظ الدین صدیقی،نواز علی پراچہ،چوہدری امتیاز حسین نے کہا کہ پچھلے سال کاشتکاروں کا باردانہ بڑے زمینداروں کو بیچا گیا اور چھوٹے کاشتکاروں کو باردانہ کے حصول کیلئے مشکلات پیش آئیں ۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر چوہدری بوٹا کو ملازمت سے برطرف نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کا دائرہ وسیع کردیں گے۔موقد دریافت کرنے کیلئے چوہدری محمد بوٹا کو بار بار فون کیا گیا مگر انہوں نے اپنا نمبر اٹینڈ نہ کیا۔ ٹھل حمزہ سے نمائندہ پاکستان کے مطابق ٹھل حمزہ کے کسان محمد اقبال ،ذوالفقار علی ،عاصم علی وغیر ہ نے صحافیو ں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ حکو متی نا قص پالیسی کی وجہ سے کسان بد حالی کا شکا رہو گئے ہیں اور فوڈ سنٹر میں با ر دانہ نہ ملنے کی وجہ سے آڑھتیو ں کے وارے نہارے ہو گئے ہیں آڑھتیو ں نے کسانو ں سے سستے دامو ں گندم خر ید کر ہزارو ں من گندم اڈوں پر سٹاک کر لیں ہیں انہو ں نے کہا کہ کمپیو ٹر لسٹو ں میں زمیندا روں کی زمینیں کم شو کی گئی ہیں 10ایکڑ والے زمیندار کاایک ایکڑ گندم شو کیا گیا ہے جو کہ کسانو ں کے ساتھ بڑا ظلم ہے انہو ں نے کہا کہ با ر دانہ وافر مقدار میں نہ ملنے پر ہزارو ں من گندم فصلوں میں ضائع ہو رہی ہے یا آڑھتیو ں کی لو ٹ ما جا ری ہے انہو ں نے انکشا ف کیا کہ محکمہ ما ل کی بنائی گئی لسٹیں آویزاں کی گئی تھی لیکنACلیاقت پور کی آڑھتیو ں سے ملی بھگت کی وجہ سے دوبا رہ کمپیوٹر لسٹیں بنا ئی گئی ہیں جس سے زمیند اروں کی زمینیں کم شو کر کسانو ں کو آڑھتیو ں کے ہا تھوں سستے دامو ں گندم فروخت کر نے پر مجبو رکیا جا رہا ہے ۔ چنی گوٹھ سے نامہ نگار کے مطابق محکمہ خوراک پی آر سینٹر چنی گو ٹھ کے انچارج فوڈانسپکٹرقاضی عبدالواحد نے کہا ہے کہ گندم کی خر یداری کے لیئے سینٹر پر 41ہزار خالی بوری پہنچ چکی ہے اور گندم کی خریداری 24اپر یل سے شروع ہو گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اخبار نو یسوں سے بات چیت کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امسال چنی گو ٹھ سینٹر پر ایک لا کھ بوری گندم خر ید کی جا ئے گی ۔انہوں نے کہا کہ حکو متی پا لیسی کے مطا بق کا شتکاروں سے فائلیں وصول کی جارہی ہیں ۔واضح رہے کہ دو روز قبل فوڈ سینٹر پر 51ہزار خالی باردانہ جو کہ ابھی کا شتکاروں کو تقسیم ہو نا تھا اس سے قبل ہی اس کو اچانک آگ لگ گئی تھی اور وہ جل کر خا کستر ہو گیا تھا اور اب نیا بارادنہ یہاں پہنچ چکا ہے ۔ خانقاہ شریف سے نامہ نگار کے مطابق پہلے آئیں پہلے پائے خانقاہ شریف فوڈسنٹرپر باردانہ کی تقسیم کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔بعدازاں کوآرڈنییڑ حافظ محمد مسعود نے پہلے روز 400چار سو فائلیں جمع ہوئی ان میں سے اگلے دن 92فائلز کا بارادانہ تقسیم کر دیا گیا اس میں کسی قسم کی سفارش ہرگز قبول نہیں کی جاے گی دوسر ے روز اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بھاولپور رانا محمد سلیم افضل، ا سسٹنٹ کمشنر بہا و لپور صدر حسنین خا لد سنپا ل اور نا ئب تحصیلدار ملک عبد ا لحمید ۔گرداور ملک ارشاد گھلو کا خا نقا ہ شر یف فو ڈ سنٹر پر ا چا نک دورہ سنٹر پر کیے گئے انتظا ما ت کا معا ئنہ کیا۔انہیں پینے کے لیے ٹھنڈ اپانی اور بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہکا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔خانقاہ شریف فوڈ سنٹرپرسکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی موجود ہیں۔ بستی اﷲ بخش سے نامہ نگار کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر جتوئی کی ملی بھگت سے پاسکو سنٹر ڈمروالہ شمالی میں کسانوں کا بار دانہ بیوپاریوں کو فروخت سنٹر انچارج نے بڑے بڑے بیوپاریوں کو رات کے وقت بار دانہ تقسیم کرنے لگا۔ چھوٹے کسانوں اور کاشتکاروں کا پاسکو سنٹر ڈمروالہ شمالی کے انچارج بسم اللہ کیخلاف شدید احتجاج نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ صادق آباد سے نامہ نگار کے مطابق صادق آباد میں گندم کی خریدرای کیلئے انتظامات نہ ہونے سے خریداری کا عمل شروع نہ ہوسکا مقامی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی عدم توجہی سے کاشتکار کم نرخوں میں اپنی گندم بیوپاریوں،آڑھتیوں اور فلور ملوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں حکومت پنجاب کی جانب سے گندم خریداری کے سلسلے میں ہر سال 15اپریل تک ہی تمام انتظامات مکمل ہوجاتے ہیں مگر صادق آباد تحصیل میں جہاں خریداری سنٹرز تو قائم ہیں مگر ان میں ابھی اتک خریداری تو درکنار باردانہ کی چلت کا سلسلہ بھی شروع نہ ہوسکا ہے اس ضمن میں معلوم ہوا ہے کہ جن غلہ منڈی کے آڑھتیوں،بیوپاریوں ،اور مڈل مینوں یا فلور ملز مالکان نے چھوٹے اور قرضے کے شکار غریب کاشتکاروں سے نہ صرف سستے داموں گندم خرید کی ہے بلکہ انکے حصے کے سرکاری باردانہ کی چلت کیلئے ان سے اتھارٹی لیٹر یا انکی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ باردانہ بھی گندم خریداری کرنے والوں کو پہنچائیں تاکہ 800روپے سے 1100روپے تک خرید کی جانے والی گندم سرکاری باردانے میں محکمہ خوراک کو 1300روپے فی من فروخت کی جاسکے ۔ راجن پور سے ڈسٹرکٹ رپورٹر کے مطابق راجن پور میں آج سے محکمہ خوراک کے سنٹرز فعال ہوں گے ،پہلے آئیں پہلے پائیں کی بنیاد پر باردانہ کااجراء ہو گا سنٹر کوآرڈنیٹرز ودیگر عملہ تعینات کردیا گیا ہے خریداری کے عمل کو ہرصورت صاف اور شفاف بنائیں گے فوڈسنٹرز پر کسانوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیاں اور شامیا نے لگا دیئے گئے ہیں ہوا کی فراہمی کے لئے ہر سنٹرز پر پنکھوں اور جنریٹرز کاانتظام بھی مکمل کرلیا گیا یہ باتیں اسسٹنٹ کمشنر راجن پور شاہد محبوب نے اپنے دفتر میں ایک ملاقات کے دَوران کہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...