قلم    ہے  حق   کا   علَم

قلم    ہے  حق   کا   علَم
قلم    ہے  حق   کا   علَم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج سر شرم سے جھک گیا ہے – ایک انسان کا قتل انسانیت کا قتل ہے اور آج انسانیت ہی تو قتل ہوئی ہے – میرے ملک کے پڑھے لکھے کس روش پہ چل نکلے ہیں – واقعہ صفورا ہو تو دہشت گرد یونیورستٹیز کے پڑھے لکھے – کچھ دن پہلے پنجاب یونیورسٹی میں دست و گریبان تھے یہی  اعلی ٰ تعلیم کے حصول کے متمنی اور اب مردان یونیورسٹی میں ان پڑھے لکھوں نے تو ہر حد پار کردی ہے  – نہ کوئی ثبوت اور  نہ ہی  کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ کیا ہوا – بس جو آیا وہ ایسے برسا جیسے حق و باطل  کی جنگ کا یہی میدانِ کارزار ہے  - سوچتا ہوں علم اور جہالت میں کیا فرق ہے – آج ایک اصطلاح جو کافی عرصہ پہلے سنی تھی " پڑھے لکھے جاہل " آج سمجھ آرہی ہے- علم کیا ہے اس کی افادیت کیا ہے – علم کیسے دو دھاری تلوار ہے آج سمجھ آرہا ہے -بے شک  علم و عرفان ہی رضائے الہی ہے کیونکہ خدا نے جمے ہوئے خون  اور قلم سے  ہی انسان کو لکھنا سکھلایا  ہے - آگہی اور دانش کا وہ رستہ دکھلایا  ہے کہ جس کی منزلوں نے انساں کو پروردگار کا خلیفہ ٹھہرایا  ہے اور مخلوقات ِ خدا میں اشرف المخلوقات کے درجہ پہ فائزفرمایا ہے ۔ قلم کو ہدایت کا سر چشمہ بنایا ہے –قلم نے پھر پیامبر بن کے پیام ِربی پوری کائنات  کے کونے کونے میں پھیلایا ہے  جو آج بھی  روز اول کی طرح  لوح ِ عالم پہ محفوظ ہے- کون ہے جو  ضربِ قلم  سے انکار کر سکتا ہے ۔قلم تختوں پہ بٹھاتی ہے تو قسمت میں تختہ بھی لکھ دیتی ہے ۔ قلم برائی کے خلاف آواز ہے تو قلم برائی کا آغاز بھی ہے۔ قلم حیا و شرم ہے تو بے حیا اور بے شرم بھی ہے ۔ قلم پھول کی گفتار ہے تو بے رحم دو دھاری تلوار بھی ہے ۔ قلم اپنے قاری کو اگر راہ دکھاتی ہے تو اسے بے راہ رو بھی بناتی ہے ۔قلم کا  کاتب قطب بھی ہے اور قطعیت کی مغرور کتاب بھی ہے ۔قلم خدا کی رضا ہے تو شیطانی راہ بھی  -قصہ مختصر قلم وہ  اعجاز ہے جو صحراؤں میں پھول کھلا دے  یا گلستان کے ہر غنچہ کو آگ لگا دے-فرق صرف اتنا ہے کہ قلم ہے کس ہاتھ میں ۔قلم  جب  ہاتھ کا دست نگر ہے تو اس سے لکھنے والا اپنی تحریر کا ذمہ دار  بھی ہے  اور اپنے کاتب کےذہن کی آئینہ دار بھی ہے ۔کردار و  جذبات کی عکاسی کرنے والا  قلم  حسیں شخصیت کا غماز اور پرچار بھی ہے ۔ہم سب کم سنی ہی میں قلم پکڑنا   سیکھ لیتے ہیں لیکن قلم سے لکھنا کیا ہے شاید بڑھاپے کی لاٹھی پکڑتے تک نہیں جان پاتے ہیں۔ حروف لکھنا تو کم عمری  کا ہی مشغلہ ہے۔لیکن حروف پرونے کو ایک عمر چاہئے۔ قلم اگر بے باک ہے توایک خاموش زبان بھی  ہے جس کا زخم کسی بھی خنجر سے زیادہ کاری اور جان لیوا ہے ۔ خنجر تو ایک جان لیتا ہے لیکن قلم نسل در  نسل تباہ کر دیتی ہے۔ قلموں نے جہاں بہتے دریاؤں کے پانی کالے کئے ہیں تو وہاں ظالموں کے مسخ چہرے بھی صفحہ ہستی پہ عیاں کردیے ہیں جو مرے ہوئے ان سنگدلوں کے بھیانک کارناموں کو تا ابد زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں- اس لئے انتہائی احتیاط لازم ہے جس قوم کا قلم سچ ، حق اور انصاف لکھے وہ کامیاب و کامران ہوتی ہیں اور یہی قلم کسی قوم کا  سر  بھی کچھ اس  طرح ہی  قلم کرتی ہے کہ قصر مذلت ہی منزل ٹھہرتی ہے اور لکھنے والا قوم اور خدائی کا مجرم ۔ مشعل اٹھانا آسان اور مشعل راہ بننا بہت دشوار ہے۔                                                                    

آج کل قلم  کہیں مذہب سکھا رہا  ہے تو کہیں کافر ہونے کا پروانہ لکھ رہا ہے ۔ قلم کہیں محبتیں بانٹتا شاعر ہے تو کہیں نفرتوں  کا بحر بھی ہے۔ کہیں  قلم دلوں کو  ملا رہا ہے تو کہیں اس کی حائل کی ہوئی خلیج  جان کی دشمن بن گئی ہے۔ کہیں تعمیری عمل میں ممد و معاون ہے  تو کہیں تخریبی تدبیر لکھی جا رہی ہے ۔ قلم ہے ناں تاریخ کے اوراق لکھنے والا ،شخصیت کو ابھارنے اور مٹا دینے والا  پھر اس کے بازار میں خریدار بہت اور بکنے والے قلمکار بسیار-پیسے میں تلُا لکھنے والا ، اندھی پٹی باندھے پھر کب جانتا ہے  کہ اس نے بھلائی کا عمل انجام دیا ہے یا تفریق کا کام اسے تو غرض ہے اس مشاہرے سے جو اس کی قلم کو درکار روشنائی اور راشن دے سکے ۔ روشنائی اور راشن پھر خود  وہ رستے ڈھونڈلیتے ہیں جو لفظوں کے کھیل میں قاری کو  کچھ ایسے الجھاتے ہیں کہ سچ چھپ جاتا ہے اور جھوٹ سچ کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے ۔جھوٹ کو سچ لکھتا قلم پیٹ کا ایندھن تو خرید لیتا ہے لیکن جو بک جاتا ہے شاید اس کا نقصان برسوں قوم کی جلی قسمت ادا کرتی ہے ۔ پیسوں پہ لکھتا بکتا یہ قلم کس کی خدمت کر رہا ہے  اور بہت سے سوالات بھی اٹھا رہا ہے ۔کسی کو حب الوطنی کی اسناد تقسیم کررہا ہے تو کسی پہ غداری کی دفعات لگ رہی ہے-کہیں قلم ملکی مفاد اور ملی اتحاد پہ ضرب لگا رہا ہے  اور لسانیت کی کچھ ایسی آگ بڑھکا رہا ہے کہ جس سے خدا کی پناہ –                                                                                                                                          

لکھنے والا اگر اپنی اہمیت نہیں پہچانے گا اور کالم لکھتا قلم ہر حرف پھونک پھونک کر نہیں لکھے گا تو گمراہی کی دلیل بن جائے گا۔دوبارہ رستہ ڈھونڈنے میں پھر عمریں لگتی ہیں ۔لکھنے والے کو جاننا ہے کہ اسے صرف وہ لکھنا ہے جو حق اور سلامتی کا راستہ ہے ۔قلم کو غیر جانبدار اور پسند و ناپسند سے آزاد ہونا ہے ۔قلم کو سزا و جزا کے فیصلے خود لکھنے کی بجائے یہ حق صرف قاضی کے قلم کو  سونپ دینا ہے جو اپنے منصب پہ بیٹھا  اپنے فرائض انجام دے رہا ہے- قلم  نے تو قوم کو الفتوں کی زنجیر سے باندھنا ہے ۔قلم کو قوم میں اتفاق پیدا کرنا ہے اور باہمی پیار  ومحبت اجاگر کرنا ہے ۔ ہر بات کی انتہائی پوزیشن لینے کی بجائے وہ رستہ چننا  ہے جو کہ در حقیقت عقلمندی کا تقاضا ہے ۔ نفرتیں اور نفاق تو ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے ۔ اپنا موقف مسلط کرنے کی بجائے اگر حقیقت پسندی اور ملکی مفاد پیش نظر ہوگا تو یہ ملک کی خدمت اور  اس سے وفاداری ہو گی ۔ درست سمت کا ادراک ہی قومی ضرورت ہے اور اس ضرورت میں قلم اپنا کردار بخوبی ادا کر سکتاہے ۔ قلم کی طاقت پہنچانیے اور حق کا ایک ستون بن جایئے  کہ جس کی روشنی ترقی کی راہوں کی ترجمان ہو –                      

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ