’اگر امریکہ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو پوری دنیا میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچے گا‘ معروف ترین سائنسدان نے اب تک کی سب سے خطرناک وارننگ جاری کردی، ٹرمپ کو واضح پیغام دے دیا

’اگر امریکہ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو پوری دنیا میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچے ...
’اگر امریکہ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو پوری دنیا میں ایک بھی شخص زندہ نہ بچے گا‘ معروف ترین سائنسدان نے اب تک کی سب سے خطرناک وارننگ جاری کردی، ٹرمپ کو واضح پیغام دے دیا

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)تیسری عالمی جنگ کے خدشات کا ذکر تو ہر روز سننے کو ملتا ہے لیکن ایک عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان نے اس کے انتہائی سنجیدہ خطرے اور ممکنہ نتائج کی منظر کشی کرکے پوری دنیا کو خبردار کر دیا ہے کہ ہم کیسی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ممتاز ترین جوہری تحقیق کار گریگ میلو کا کہنا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور اس کے دوران ایٹمی اسلحے کا اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے گا کہ ممکنہ طور پر اس دنیا میں موجود ہر زی روح لقمہ اجل بن جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے شام پر میزائلوں کے حملے کے بعد روس کے ساتھ اس کی کشیدگی میں بہت اضافہ ہوچکا ہے اور جنگ کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اگر امریکا کی جانب سے مزید کوئی ایسا قدم اٹھایا گیا تو جنگ یقینی ہے۔ روس کی جانب سے بھی خبردار کیا جاچکا ہے کہ امریکہ نے اگر شام پر دوبارہ حملہ کیا تو عالمی سلامتی کے لئے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

امریکی صدر کیلئے تاریخ کی سب سے بڑی شرمندگی، جن فوجیوں کو شمالی کوریا پر ’حملے‘ کیلئے بھیجا وہ دراصل کہاں جاپہنچے؟ جان کر پوری دنیا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئی

گریگ میلو کا کہنا تھا کہ اس وارننگ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ اگر امریکہ کی جانب سے شام پر مزید کوئی حملہ ہوا تو روس بھی کوئی بڑا قدم اٹھاسکتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ گریگ میلو نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روس اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ کی صورت میں وہ نظام تباہ ہوجائے گا جو اقوام عالم کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی شمالی نصف کرے میں انسانوں کی بڑی تعداد ہلاک ہوجائے گی جبکہ جنوبی نصف کرے پر یہ تباہی بعد میں مسلط ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ پر دو سے تین جوہری ہتھیاروں کا حملہ اس کی حکومت اور معیشت کا خاتمہ کردے گا۔ ایٹمی جنگ کی صورت میں رسد کے عالمی راستے کٹ جائیں گے جبکہ معاشی منڈیاں اور انٹرنیٹ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ اس جنگ سے صرف بین الاقوامی نظام ہی تباہ نہیں ہوگا بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں اندرونی سیاسی، معاشی اور ٹیکنالوجی کا نظام بھی برباد ہوجائے گا۔

گریگ میلو کے مطابق عالمی سطح پر ایٹمی جنگ کا مطلب دنیا کے الیکٹرونک، معاشی، حکومتی اور انتظامی نظام کی تباہی ہے۔ اگر ایٹمی ہتھیاروں کی بڑی تعداد استعمال کی جاتی ہے تو زمین کو تحفظ فراہم کرنے والی اوزون تہہ بھی تباہ ہوجائے گی۔ اس کی تباہی کے نتیجے میں صرف انسانوں کی ہی ہلاکت نہیں ہوگی بلکہ زمین پر پائے جانے والے چرند پرند اور حتیٰ کہ نباتاتی حیات بھی ختم ہوجائے گی۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...