پانامہ کا فیصلہ حکومت کے لئے تھپڑ ہے، نواز شریف پر کرپشن ثابت ہوگئی ، وزیر اعظم فوری طور پر مستعفی ہوں: سراج الحق

پانامہ کا فیصلہ حکومت کے لئے تھپڑ ہے، نواز شریف پر کرپشن ثابت ہوگئی ، وزیر ...

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اخلاقی طور پر آج کا فیصلہ حکومت کے لیے بہت بڑا تھپڑ اور سبق ہے کیونکہ 5 میں سے 2 ججز نے یہ کہا ہے کہ وزیر اعظم اب اہل نہیں رہے اور 5 ججز نے یہ بھی کہا ہے کہ کرپشن کی گئی ہے لیکن اس کی مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی ہونی چاہیے ، وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو کلین چٹ نہیں ملی ہے اس لئے وزیر اعظم فوری طور پر مستعفی ہوں ۔ہم نہ جھکے ہیں نہ تھکے ہیں نہ دبے ہیں اور انشا اللہ یہ سفر جاری رہے گا جب تک اس ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوتی۔

لندن فلیٹس کے علاوہ بھی شریف خاندان کی کروڑوں پاؤنڈ کی جائیدادیں ہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جماعت اسلامی کے قائدین اور قانونی مشیروں سے مشاورت کے بعداسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ عام طور پر جے ٹی آئی دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات کے لئے بنائی جاتی ہے، وزیر اعظم انویسٹی گیشن تک اپنے اختیارات کا استعمال نہ کریںاور اخلاقی طور پر عہدے سے مستعفی ہو جائیں ، اگر یہ سب کچھ کسی مغربی ملک میں ہوتا تو وہ استعفیٰ دے کر تحقیقات میں خود مدد کرتا، اس حوالے سے ہمارے ملک کا سارا نظام اندھا بھی ہے ، گونگا بھی ہے اور بہرہ بھی ہے ، میں سمجھتا ہوں یہ ایک بہت اہم اور بڑا کیس ہے ہم نے اس حوالے سے عوام میں شعور بیدار کیا ہے اور آج ملک کا بچہ بچہ ، ہماری بیٹیاں بہنیں بھی یہی سمجھتی ہیں کہ کرپشن ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری ، بدامنی، ڈپریشن اور بہت سے مسائل ہیں ، کرپشن چاہے اخلاقی ہو یا نظریاتی ہو کرپشن ہر برائی کی ماں ہے۔

پاناما کیس فیصلے میں اسحاق ڈار کو 10 نمبر کہہ کر مخاطب کیا گیا

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ آج سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان کی وفاقی حکومت کی اخلاقی ساکھ ختم ہوگئی ہے اور جن ججز نے وزیر اعظم کے بارے میں فیصلہ دیا ہے کے وہ ڈس کولیفائیڈ ہیں ، میں سمجھتا ہوں ججز نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے اور اب حکومت پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے کہ کیا وہ اخلاقی طور پر استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہے اس لیے کے لوگوں کی نظروں میں اس کیس کے نتیجے میں ان کی ساکھ ختم ہوئی ہے ، آج کے فیصلہ میں عوام جیت گئے ہیں اور کرپشن ہار گئی ہے اور جو تھوڑی بہت باقی ہے انشا اللہ ایک عوامی جد و جہد کے نتیجے میں یہ باقی مسئلہ بھی حل ہوگا .

پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں ہونے والا جلسہ منسوخ کر دیا

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ احتساب سب کا ہو اور جن لوگوں کے نام آف شور کمپنیوں اور قرضہ معاف کروانے والوں میں ہے ، جنہوں نے اداروں کو برباد کیا جن کے کالے کارناموں کی وجہ سے ہماری عوام کے ہاتھ میں قرض کی ہتھ کڑیاں ہیں ان سب کا احتساب کیا جائے۔ اس لیے آج اس کیس کے نتیجے میں عوام کو حوصلہ ملا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اگست سے لیکر فروری تک کیس یہاں پر چلا ہے اس کا ثمر عوام کو ملے گا اس کا فائدہ عوام کو ملے گا اور اس جد وجہد کے نتیجے میں ایک کرپشن فری پاکستان بنے گا اس سے آگے بھی بڑی عدالت ہے اور وہ اللہ کی عدالت ہے اور عوام کی عدالت ہے اور یقینی طور پر میں سمجھتا ہوں عوام کو جو شعور ملا ہے اس کے نتیجے میں باقی احتساب ووٹ ی صورت میں ہوسکے گا۔

عمران خان کا قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ، پاناما کیس کے فیصلے پر خطاب کریں گے

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ہم نے اسمبلیوں میں بل پیش کیے کہ کرپشن کا راستہ قانونی طریقہ سے روکا جائے، اداروں کو فعال کیا جائے،نیب کو بہتر بنایا جائے اور اس کے چئیرمین کی تقرری جو نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر کرتا ہے اس کا اختیار ان سے لیکر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حوالے کی جائے تاکہ کرپشن کے خاتمے کے لیے یہ ادارہ صحیح کردار ادا کر سکے۔ لیکن اسمبلی میں اعداد کی کمی کی وجہ سے ہمارا وہ بل منظور نہیں ہوا لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پانامہ سکینڈل کے آنے کے بعد ہم نے کمیشن کا بھی مطالبہ کیا اور جو موجودہ بینچ نے کہا کہ ہمارے پاس اختیارات کی کمی نہیں ہے اور ہم کرپشن کے خاتمہ کے لیے آخری حد تک جائیں گے تو ہم نے یہ کہا کہ ہمیں یہ بھی منظور ہے ۔

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...