ساتویں انٹرنیشنل حلال کانفرنس

ساتویں انٹرنیشنل حلال کانفرنس
ساتویں انٹرنیشنل حلال کانفرنس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دنیا میں پاکستان کا شمار تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہو رہا ہے۔ سی پیک منصوبوں کی تکمیل، گیس اور بجلی کے بحران کا خاتمہ قریب ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت کے بارے میں عالمی رائے عامہ مثبت آراء کا اظہار کر رہی ہے۔

ویسے تو پاکستانی معیشت میں نئی سرمایہ کاری آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے، لیکن دوشعبے ایسے ہیں، جن میں سرمایہ کاری سے معقول منافع یقینی ہے۔

ان میں سے ایک آئی ٹی کا شعبہ ہے تو دوسری طرف ’’حلال انڈسٹری‘‘۔۔۔ حلال انڈسٹری کا مستقبل بہت روشن ہے، کیونکہ پاکستان کا شمار اسلامی ممالک کے اہم ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور پاکستان اب اس قابل ہو چکا ہے کہ حلال مصنوعات کے ذریعہ سے صرف اسلامی دنیا ہی نہیں، بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی اپنی جگہ بنا کر سالانہ اربوں ڈالر کما سکتا ہے۔

اس ضمن میں پنجاب حکومت نے اس شعبے سے زرمبادلہ کمانے کے لئے باقاعدہ ایک ادارہ پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی قائم کیا،جس کے زیر اہتمام فلیٹیز ہوٹل میں ساتویں انٹرنیشنل حلال کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے اپنی ٹیم کی مدد سے بہت اچھے انتظامات کئے۔پچاس سے زیادہ سٹالز لگائے گئے اور درجن بھر سے زیادہ غیر ملکی نمائندوں نے شرکت کی اور باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔

پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان نے اپنے خطاب میں حلال انڈسٹری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ساتویں حلال کانفرنس اور نمائش سے پاکستان کی حلال انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ قازقستان، چین، روس، انڈونیشیا، ملائیشیا، ایران، ترکی اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک سے آنے والے وفود نے حلال انڈسٹری کے فروغ میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔


منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، حلال ریسرچ کونسل صوفی اور تارڑ رائس سمیت مختلف اداروں نے ساتویں انٹرنیشنل حلال کانفرنس کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے کانفرنس کے بعد بتایا کہ داؤد اسماعیل جن کا تعلق سعودی عرب سے تھا، جب وہ اسلامی چیمبر آف کامرس کے صدر تھے تو انہوں نے مجھے تاحیات اسلامی چیمبر کی رکنیت عطا کی تھی۔

اسی زمانے میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان حلال مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اپنا موثر کردار ادا کیوں نہیں کرتا تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں حلال مصنوعات کی جگہ بنانے کے لئے پاکستان کو انٹرنیشنل سرٹیفکیٹس کی ضرورت ہے۔

انہیں حیرت تھی کہ کئی سو ارب ڈالر کی حلال مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ آٹے میں نمک سے بھی کم ہے کیونکہ اس وقت بھی پاکستان کی حلال ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہے، لیکن اب سی پیک کی وجہ سے پاکستان میں زبردست انفراسٹرکچر وجودمیں آ رہا ہے۔

گوادر پورٹ کی وجہ سے نئی منڈیوں تک رسائی ہونا ممکن ہو گئی ہے تو اس وقت پاکستان کو چاہیے کہ وہ سینکڑوں ارب ڈالر کی مارکیٹ میں سے اپنا معقول حصہ وصول کرے۔


افتخار علی ملک نے مزید بتایا کہ ساتویں حلال کانفرنس سے پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک نیا دروازہ کھل رہا ہے۔ حلال بزنس ٹریننگ ورکشاپ کے علاوہ مختلف تکنیکی سیشن ہوئے جن میں حلال میٹ، پھل اور سبزیوں کے علاوہ دوسری حلال مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنے کے بارے میں بھی نئی حکمتِ عملی پر کھل کر بحث ہوئی، اب خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی حلال سرٹیفکیشن 3733اور 4990 کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ٹیکنیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر حامد جلیل نے بھی اس ضمن میں بہت محنت کی ہے۔


مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے جب پاکستان کے حلال گوشت کی شہرت ہوئی تو تھائی لینڈ اور ملائیشیا سے بزنس مین پاکستان آئے، تاکہ حلال گوشت پاکستان سے خرید سکیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف حلال میٹ کی پیداوار بڑھانے کی طرف توجہ دے، بلکہ ہائی برڈ فصلوں کے ذریعہ سے اپنی فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ کرے۔

پھلوں اور سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی ریسرچ کے نتیجہ میں اضافہ ہوا ہے مثلاً اسلام آباد ایگریکلچر ریسرچ فارم نے کیلے کا ایسا ہائی برڈ بیج اگانے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کے نتیجہ میں کیلے کی فی ایکڑ پیداوار نہ صرف زیادہ ہو رہی ہے، بلکہ کیلے کا سائز بھی عام کیلے سے ڈبل ہے اور ذائقے میں یہ کیلا انڈین کیلے سے بھی لذیذ ہے۔

سندھ میں اس کی کاشت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اب اس کیلے کو دوسرے صوبوں میں بھی کامیابی سے پیدا کیا جائے گا۔ حکومت پنجاب نے زیتون کی کاشت بڑھانے کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے۔

دراصل پاکستان اس لحاظ سے دنیا کا ایک انتہائی خوش قسمت جغرافیائی خطہ ہے جہاں ایک ہی وقت میں چاروں موسم دستیاب ہیں اور ہر قسم کے پھل، پھول اور سبزیاں پیدا کرنے کے لئے سازگار زمین اور موسم دستیاب ہیں۔

سی پیک منصوبہ کے پہلے مرحلہ کی تکمیل کے بعد جدید انفراسٹرکچر وجود میں آ چکا ہے۔ اب چین پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی پرکشش سرمایہ کاری سکیم کی وجہ سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

سرمایہ کاری کے خصوصی پیکچز کی وجہ سے حلال انڈسٹری کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس وقت غیر مسلم ممالک بھی حلال مصنوعات تیار کر رہے ہیں، لیکن دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے میں نے ان حلال مصنوعات کے بارے میں عالمی صارفین کو شک و شبہ میں مبتلا دیکھا ہے۔

اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اسلامی ممالک کو یقین ہے کہ اگر پاکستان بین الاقوامی سرٹیفائیڈ مصنوعات پوری دنیا میں بھیجے تو وہ دوسرے ممالک کے مقابلہ پر پاکستانی حلال مصنوعات کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔

اس لئے میری رائے میں پاکستان کے لئے یہ بہتیرن وقت ہے کہ وہ تیزی سے اپنی حلال مصنوعات کی عالمی منڈی میں سے اپنا جائز حصہ وصول کرے اور دیگر مصنوعات کی ایکسپورٹ سے زیادہ زرمبادلہ کما کر پاکستان کو خوشحال کرے۔

مزید :

رائے -کالم -