گلیات میں ہوٹل مالکان م ڈیو یلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین پر عملدر آمد نہ کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے: پشاور ہائیکورٹ

گلیات میں ہوٹل مالکان م ڈیو یلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین پر عملدر آمد نہ ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ گلیات میں جن ہوٹلز کا نکاسی آب کانظام نہیں اور جو ہوٹل مالکان گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو قوانین پر عمل درامد نہیں کرتے ا ایسے ہوٹلوں کو سربمہرکرکے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ڈی جی گلیات نے یکم جون سے گلیات میں شاپنگ بیگ کے استعمال پر پابندی اور سیاحوں کو کپڑے کے شاپنگ بیگ مفت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس جسٹس قیصر رشید اور جسٹس محمد غضنفرخان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ڈی جی گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ گلیات میں ماحولیات کی بہتری کیلئے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے یکم جون سے گلیات میں پلاسٹک کے شاپنگ بیگ پر پابندی لگائی ہے سیاحوں کو کاٹن اور کپڑے کے بیگز مفت فراہم کر رہے ہیں 6 ہزار بیگز بنائے جا رہے ہیں کھانے پینے کے سامان کیلئے الگ بیگز بنائے جا رہے ہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گلیات میں نکاس آب کا نیا سسٹم بنانے کیلئے ڈیزائن مکمل کر لیا گیا ہے اس سلسلے میں ماہرین سے ملکر ایک بہترین ڈیزائن بنایا گیا ہے جس پر کام کا اغاز کر دیا گیا ہے تمام ہوٹلز مالکان کو بھی اس سلسلے میں اگاہ کر دیا گیا ہے گلیات میں 80 فیصد ہوٹلز والوں کے پاس نکاسی آب کا سسٹم نہیں جس کی وجہ سے بھی مشکلات ہیں مگر اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام ہوٹلز کو پائپ فراہم کریں گے اور جو ہوٹلز جی ڈی اے کے قوانین پر عمل درامد نہیں کرتے ان ہوٹلز کو سیل کیا جا رہا ہے اور اب تک 4 ہوٹلز کو سیل گیا ہے تمام ہوٹلز مالکان کو تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مین روڈز کے اطراف پر مخصوص کیبن لگائے جا رہے ہیں جبکہ 150 ڈسبن لگائے جا رہے ہیں جبکہ عوام کے سہولت کیلئے باتھ رومز بھی بنائے گئے ہیں اور باتھ روم کے استعمال کرنے والوں سے 30 روپے لئے جائیں گے جس پر جسٹس قیصر رشید کا کہنا تھا کہ ہر چیز پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں آپ غریب عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں اس کو عوام کی سہولت کیلئے بنائیں سیاحوں پر مزید بوجھ نہ ڈالیں 30 روپے کی بجائے 15 روپے ریٹ مقرر کریں فاضل بینچ نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے ہوٹلز کے خلاف سخت کاروائی کرنے اور رپورٹ 2 ہفتوں میں عدالت میں جمع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30 اپریل تک کیلئے ملتوی کر دی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر