جماعت اسلامی کا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے جائز مطالبات کی حمایت کا اعلان

جماعت اسلامی کا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے جائز مطالبات کی حمایت کا اعلان

پشاور( سٹی رپورٹر)جماعت اسلامی خیبرپختونخوانے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے جائز مطالبات کی حمایت کااعلان کر تے ہوئے لوکل گونمنٹ ایکٹ میں ترامیم اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے نظام میں رد وبدل کامعاملہ صوبائی اسمبلی میں اٹھانے کافیصلہ کیاہے اورموقف اپنایاہے کہ صوبائی حکومت ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آتھارٹیز کے قیام کی آڑ میں سرکاری ہیلتھ سہولیات کو پرائیوٹائز کررہی ہے ایم ٹی آئی ایکٹ کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کامستقل داؤ پر لگادیاگیاہے صوبائی حکومت اوجھلت میں فیصلے کرکے سرکاری اداروں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے ان خیالات کااظہار جماعت اسلامی کے صوبائی امیراور سینیٹرمشتاق احمدخان نے پشاورپریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر رکن اسمبلی عنایت اللہ اور جماعت علی شاہ بھی موجود تھے مشتاق احمدخان نے بتایاکہ اس وقت محکمہ صحت کے اندر بہت سے مسائل چل رہے ہیں حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری نہیں نبھا رہی ہے تعلیم و صحت اور امن امان قائم رکھنے کی ذمہ داری میں حکومت ناکام ہو چکی ہے بد قسمتی سے تعلیم اور صحت کو بوجھ سمجھا جانے لگا ہے حکومت صحت کے محکمے سے جان چھڑانا چاہتی ہے اسلئے اسکو پرائیوٹایز کیا جارہا ہے ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاز سے بتدریج محکمہ صحت کو سرمایہ داروں کے ہاتھ میں دینے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے کے نفاز کے طریقے سے پرایوٹایزیشن کا عمل مکمل کیا جارہا ہے ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ سے لے کر اب تک اسکا جائزہ لیا جانا چاہیے تھاایم ٹی آئی ایکٹ آر ایچ اے اور ڈی ایچ اے کے ذریعے اضلاع تک پھیلایا جارہا ہے جبکہ ڈاکٹر ز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے ڈاکٹروں میں ایم ٹی آئی ایکٹ کی وجہ سے تشویش پائی جارہی ہے ایل آر ایچ میں کارڈیالوجی وارڈ کے ڈاکٹرز کے خلاف میڈیا میں مہم چلائی گئی ڈاکٹرز مجبوراً کارڈیالوجی وارڈ چھوڑ رہے ہیں حکومت وارڈ کو مشینری مہیا نہیں کرپارہی ہے انہوں نے کہا کہ ایم ٹی ائی سسٹم کی وجہ سے سینیئر ڈاکٹرز بیرون ملک جانے پر مجبور ہیں جبکہ ہیلتھ کیر کمیشن کے نام پر کوالیفائیڈ پیرامیڈیکس کو نشانہ بنانابند کیا جائے مشتاق احمدخان نے کہاکہ تمام ڈاکٹرز تنظیمیں اس وقت ہیلتھ سسٹم کے خلا ف سراپا احتجاج ہیں جسکی وجہ سے ہسپتالوں میں مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پر رہا ہے جو تحریک انصاف حکومت کی نا اہلی کا ثبوت ہے صوبے میں 4 ہزار ڈاکٹروں کو نشانہ بنایاگیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کی سیکورٹی اہم مسئلہ ہے اور صوبائی حکومت اس کو یقینی بنائے انہوں نے کہا کہ ایم او ایکٹ کی وجہ سے 9 ہزار سے زائد ڈاکٹرز کا مستقبل داو پر لگا ہے ڈاکٹروں کے تمام مطالبات جائز ہیں وزیرصحت کی پریس کانفرنس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ڈاکٹرز کیمونٹی کو دھمکی دے رہے ہیں جبکہ تبدیلی کے دعوے دار حکومت امریکہ سے ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے یہاں کا ہیلتھ سسٹم نہیں چلا سکتی اور نئے نئے تجربات سے ہیلتھ سسٹم کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے سنیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ڈی ایچ اے اور آر ایچ اے کے فیصلے کو واپس لیا جائے سیاسی بنیادوں پر میگا ٹرانسفر کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا ڈاکٹروں کو سیکیورٹی مہیا کی جائے اور جماعت اسلامی کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ پربھی اعتراضات ہیں جسکو ہر فورم پر اٹھے گی لوکل گورنمنٹ کا نظام ماوراء دستور ہے انہوں نے کہا کہ 2001 کا نظام 2008 اور 2008 کا نظام 2015 میں لپیٹ لیا گیا اب تیسرا نظام لانا چاہتے ہیں نئے ایکٹ سے بنیادی یونٹوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جس سے ضلع اور تحصیل سطح پر جو نظام ہے وہ ختم ہو جائے گا جبکہ اختیارات مرکز کے پاس چلے جائیں گے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگاانہوں نے کہا کہ لوکل گونمنٹ ایکٹ میں ترامیم اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے نظام میں رد وبدل اور سیاسی داو پیچ کے خلاف ہم اسمبلی کی فلور پر اواز آٹھائیں گے جبکہ جماعت اسلامی ڈاکٹرز کیساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف ڈاکٹرز برادری کییساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر