ڈاکٹرجمیل جالبی کا انتقال پُرملال!

ڈاکٹرجمیل جالبی کا انتقال پُرملال!

دنیا میں ہر شے فانی اور ہر آنے والے کو واپس بھی جانا ہے تاہم یہ دستور زمانہ ہے کہ جب کوئی اہم اور قابل ہستی رخصت ہو تو دکھ زیادہ ہوتا ہے، پاکستان میں یوں بھی انٹرنیٹ کلچر نے بہت کچھ تبدیل کر دیا ہے، ایسے میں کوئی بڑا ادیب، دانشور اور ماہر تعلیم رخصت ہو جائے تو یقیناًایک خلا ضرور پیدا ہوتا ہے اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اس وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پُر ہونا ذرا مشکل ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی بھی ایسی ہی شخصیت تھے جنہوں نے ماہر تعلیم کی حیثیت سے اردو، انگریزی ڈکشنری مرتب کی تو ادب کی دنیا میں ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ لکھ کر بھی نام کمایا،مجموعی طور پر ایک سو سے زیادہ کتابیں لکھیں جن میں انتہائی وقیع کتابیں بھی شامل ہیں،وہ 1929ء میں بھارتی شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئے جو علی گڑھ یونیورسٹی کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ تقسیم برصغیر کے باعث وہ بھی پاکستان آئے اور کراچی میں مقیم ہوئے یہاں وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ ان کی خدمات طویل اور قابل قدر ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

مزید : رائے /اداریہ