مَیں کتاب تلاش کر رہا ہوں!

مَیں کتاب تلاش کر رہا ہوں!
 مَیں کتاب تلاش کر رہا ہوں!

  

میرے والد بلا ناغہ ریڈیو پربی بی سی اردو سروس کے تمام سلسلے سنتے تھے تو اچا نک ایک دن نئی آواز میرے کانوں میں پڑی یہ محمد حنیف سے میرا پہلا تعارف تھا جو آواز کی حد تک تھا بعد میں انکی تحریروں کتابوں اور خیالات سے واسطہ پڑا تو محسوس ہوا کہ ارائیں کھیتی با ڑی کے علاوہ بھی کچھ کر سکتے ہیں اور بہت عمدہ کرتے ہیں۔ یہ لکھتے ہیں ہمارے جنازے بھی سیاسی ہو چکے ہیں، میت سامنے دھری ہوتی ہے رسماً ایک دوسرے سے دریافت کرتے ہیں کہ مرحوم کو کیا ہوا؟قرآن خوانی کب ہے ؟

اور ساتھ ہی سوال داغ دیتے ہیں یار یہ عثمان بزدار کب جائے گا؟ ہما ری شادی بیاہ کی تقریبات کا بھی ایسا ہی حال ہے رسمی تکلفات کے بعدگفتگو کا دامن سمٹ جاتا ہے، بات حکومت اور اپوزیشن کی سیاست پر آ ٹھہرتی ہے، ہفتہ بھر لوگوں نے ٹی وی اینکروں اور ان کے بلائے گئے مہمانوں کے جو ملفوظات سنے ہو تے ہیں وہ سارے کے سارے انڈیل دیتے ہیں یہ خیال رکھے بغیر کہ شادی کی تقریب ہماری تہذیبی روایت ہے اور بعض اوقات تو اپنے اپنے موقف کی صداقت کی پا سبا نی کے لئے دائیں بائیں چمچے بھی چل جاتے ہیں (اب پڑ ھنے وا لے یہ مراد مت لیں کہ چمچوں کی اہمیت سے انکا ری ہیں) ہمارا ملک محض ایسا نہیں ہے جیسے اس کی تصویر کشی خبروں اور تجزیوں میں دکھائی جاتی ہے اور بھی تو بہت کچھ ہے۔

ہم ہلکے پھلکے موضوعات پر بھی طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔فطری اور خوبصورت موضوعات ہمارے خیالات میں آ نے کیوں بند ہو گئے ہیں؟تہذیب اور ثقافت کی باتوں سے اتنی دوری کیوں ہو جاتی ہے؟شاعری،ادب اورموسیقی سے ہم کوسوں دور کیوں چلے گئے ہیں؟ ہروقت کرنٹ افیئرز ہی کیوں؟آ پ کسی ڈاکٹر کے پا س چلے جائیں مرض پر وا جبی سی گفتگو کے بعد جو نہی اسے پتہ چلے آ پ صحافی ہیں توجھٹ سے تان زرداری کے مقدمات پر ٹوٹے گی۔

تجربہ شرط ہے اپنے کسی دوست شاعر کے پاس چلے جائیں تازہ غزل اور نظم سے پہلے سننے کو ملتا ہے یار اب تیسری بھی۔۔۔ خلقت شہر توکہنے کو فسانے مانگے، اب بندہ کیا جواب دے۔ اول تو اچھا گانا (موسیقی) سننے کی نہ روایت رہی اور نہ طلب اگر پھر بھی کوئی خوش قسمت اچھا سنو یا ہو تو گویے صاحبان چھوٹتے ہی شریفوں کی سیاست کا طبلہ بجانے لگتے ہیں یا حکومت کی مہنگائی کا تان پورہ چھیڑ بیٹھتے ہیں۔ مشہور و معروف تجز یہ نگاروں کی بیٹھک تک رسائی ممکن ہو جائے تو اتنی باسی اور پھکڑ گفتگو سننے کو ملتی ہے کہ بندہ سوچتا ہے اس تکلف سے بہتر تھا انہیں پرائم ٹائم میں ٹی وی پر سن لیتے، کیونکہ مذاکرہ اور مباحثہ اب ان کے دم قدم سے ایسا آباد رہتا ہے کہ طبیعت کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔

ہمارا بچپن نواز شریف اور بینظیر کی سیاسی لڑائی میں پتہ نہیں کب گزر گیا پھر لڑکپن آ یا تو جمالی، چودھری شجاعت اور شوکت عزیزکی وزارتِ عظمیٰ کے قصے تھے یا این آر او کا شور تھا یا امریکہ سے یاری پر غداری کے فتوے تھے۔ اب جوانی میں سیاسی ٹاک شوز کی رونقیں قائم رہتی ہیں۔ اب میری نسل کے لوگ تھک چکے ہیں اور ہم سے بڑی عمر کے لوگ خوفزدہ بھی ہیں، ہر وقت سوچ دامن گیر ہے کہ تہذیب سے دوری کے یہ رویے پختہ ہو گئے تو پھر منزل کیا ہوگی؟زندگی کا سفر تو مادی وجود سے اخلاقی وجود کی طرف سفر ہے، اس میں آدمی حضرت انسان تب نبے جب اسے کتاب کی صحبت میسرآئی،کتاب کے بغیر زندگی نامکمل ہے، کتاب سے مراد انسانی ادب، الہامی ادب یا اپنے عہد کا علم ہے۔

کتاب سے دوری کا مطلب کیا ہو گا؟ انسان پھر سے آ دمی بنتا جائے گا،کیونکہ انسان اور تہذیب کو آ پس میں جوڑنے والی شے کتاب ہے۔ہم سیاسی اور سماجی محفلوں میں سب کچھ زیر بحث لاتے ہیں،مگر کتاب کا نہیں پوچھتے۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ مجھ سے آخری بار کسی نے پوچھا ہو کہ بھائی آخری کتاب کونسی اور کب پڑھی تھی حتی ٰ کی کسی انٹرویو میں بھی نہیں۔اچھی پینٹنگزپر کوئی بات نہیں کر تا، اچھے ڈرامے،افسانے اور ناول سب گزشتہ نسل کی کہانی ہے جس نے ان کے ساتھ دفن ہو جانا ہے۔ مجھے سوچ کر خوف آتا ہے ہمارے بچے جنہیں عمر کے پہلے سال سے موبائل فون کی عادت پڑتی جا رہی ہے ان کی سماجی زندگی کیسی ہو گی؟

یہ پوری دُنیا سے جڑے ہو نے کے باوجود اپنے اردگرد سے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان خرابیوں سے نجات تبھی ممکن ہو گی جب کتاب سے رشتہ کسی نہ کسی طر ح بحال ہو گا۔ یہ مستقبل پر سرمایہ کاری کرنے کا سوال ہے، حکومت تو ہما رے ماضی یا حال پر سرمایہ کاری نہ کر سکی اسے مستقبل کی کیا خبر۔ڈیجیٹل دور میں دُنیا واپسی کا راستہ تلاش کر رہی ہے، کتاب دوستی اور اس سے جڑے زندگی کے دیگر زاویوں پر بات ہونا دوبارہ شروع ہوگئی ہے اور اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ایسٹ ویسٹ سنٹر میں میرے ایک دوست لیڈر شپ ٹریننگ پروگرام کے لئے گئے وہاں انہیں قدم قدم پر محسوس ہوا کہ ہا تھ سے کام کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے، ان کے کسی لیکچر میں کمپوٹر یا دوسری ڈیجیٹل ڈیوائسز کی بجائے کاغذ اور قلم کا ساتھ میسر تھا ۔

دُنیا میں تمام قومیں اپنے کچھ دن منا تی ہیں جیسے ہم نے گزشتہ دِنوں 23 ما رچ کا دن منایا اور دھوم دھام سے فوجی پریڈ کا مظاہرہ کیا اس طرح ہالینڈ میں 1932ء سے سالانہ ہفتہ کتاب منایا جاتا ہے۔ اس بار سب سے دلفریب ادا جو دِل کو بھائی یہ تھی کہ اگر کسی غریب شہری کے پاس ٹرین کی ٹکٹ کے پیسے نہیں تو یہ اپنی کوئی کتاب ساتھ لائے اسے مفت سفر کرنے کی سہولت ریاست دے گی۔

اب سمجھ جانا چاہئے کہ قومیں ترقی کیوں کر رہی ہیں۔ہم مغرب سے بے شک نفرت کرتے رہیں، مگر وہاں سے بلیک ہول کی تصویریں سپیس سائنسز میں انقلاب برپا کئے ہوئے ہیں، اسی عمر میں ہمارے طالب علم مشال خان جیسے طالب علموں پر پتھر اچھالتے پھرتے ہیں۔ ’’کہہ دیجئے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے کیسے برابر ہو سکتے ہیں‘‘ بیمار اور مردہ سماج کی ریاست کے بدن سے بھبھو کے اڑ رہے ہیں اور لو گ اید ھی کو تلاش کر رہے ہیں،مگر میں کتاب تلا ش کر رہا ہوں!

مزید :

رائے -کالم -