سانحہ ماڈل ٹاؤن کیلئے نئی جے آئی ٹی کالعدم حکم امتناعی میں مزید توسیع

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیلئے نئی جے آئی ٹی کالعدم حکم امتناعی میں مزید توسیع

لاہور(نامہ نگار خسوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد قاسم خان، مسٹر جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس مس عالیہ نیلم پر مشتمل فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لئے نئی جے آئی ٹی کوکام سے روکنے کے اپنے حکم امتناعی میں 30 اپریل کی توسیع کر دی،نئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا نے پیش ہو کر استدعا کی کہ جواب داخل کرنے کے لئے مہلت دی جائے جبکہ ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ اس بنچ کی تشکیل کے خلاف چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو انتظامی کارروائی کے لئے درخواست دی ہے۔جلد آئینی پٹیشن بھی دائرکی جائے گی،جس کے بعد فاضل بنچ نے مزید کارروائی 30اپریل تک ملتوی کر دی،درخواست گزارون کا موقف ہے کہ پہلی جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے اور چالان پیش کئے جانے کے بعداسی معاملے پر دوسری جے آئی ٹی نہیں بن سکتی۔

دریں اثنا ء سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے سربراہ اے ڈی خواجہ نے لاہور ہائی کورٹ میں جواب جمع کروا دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن 3 جنوری کو محکمہ داخلہ پنجاب نے کیا، اورجے آئی ٹی نے 14 جنوری سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں کیمپ آفس بنا کر تفتیش شروع کی، جے آئی ٹی نے 20 مارچ تک سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق تفتیش کی، جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت 26 مارچ کو جے آئی ٹی نے تفتیش روک دی۔

نئی جے آئی ٹی

مزید : علاقائی