صوبے میں جرائم کو کنٹرول کرنا پولیس کی اولین ترجیح ، آئی جی

صوبے میں جرائم کو کنٹرول کرنا پولیس کی اولین ترجیح ، آئی جی

لاہو ر(کر ائم رپو رٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ قبضہ مافیا کی پشت پناہی اور گٹھ جوڑ کا الزام ثابت ہونے پر ذمہ دار پولیس افسرکو محکمہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ،ایسے افسران و اہلکار وں کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کاروائی میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمین کاقبضہ دلانا یا چھڑانا محکمہ مال اور عدالت کا کام ہے ۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ صوبے میں جرائم کو کنٹرول کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے جرائم پیشہ افراد، اشتہاریوں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے بیس اپریل سے پنجاب بھر میں دو ہفتوں کی خصوصی مہم شروع کی جائے۔ اور اس حوالے سے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز پولیس کاروائیوں کی روزانہ کی بنیاد پررپورٹ سنٹرل پولیس آفس بھی بھجوائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں پتنگیں بنانے والوں ، انکی خریدو فروخت بالخصوص دھاتی اور کیمیکل ڈور فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لاتے ہوئے مقام و مرتبے کا خیال کئے بغیر سخت ترین قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔

انہوں نے تاکیدکی کہ پولیس کی تحویل میں کسی بھی شہری کی ہلاکت یا پولیس حراست میں تشدد ہرگز قابل قبول نہیں اور ایسے کسی واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے ساتھ کاروائی میں کوئی رعائیت نہ برتی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حراست سے قیدیوں کے فرار کے واقعہ کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوانے میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے ملزموں کو عدالتوں میں پیش کرنے کیلئے لے جانے والے پولیس اہلکاروں کو تربیتی کورسز کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ بھی دی جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پورٹل پر آنے والی عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے واقعے کی فوری انکوائری شروع کی جائے اور بلاتاخیرقانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں آر پی او ڈی پی او ویڈیو لنک کانفرنس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ پنجاب کیپٹن (ر) احمد لطیف ، ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ ، طارق مسعود یٰسین ، ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس سردار علی خان ، ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی منظور احمد، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن ابو بکر خدا بخش، کمانڈنٹ پی سی کنور شاہ رخ ، ایڈیشنل آئی جی لاجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ غلام رسول زاہد، ایڈیشنل آئی جی ایلیٹ شاہد حنیف، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے محمد طاہر ، ایڈیشنل آئی جی سپشل برانچ زعیم شیخ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے جبکہ صوبے کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ ویڈیولنک کانفرنس میں شرکت کی ۔آئی جی پنجاب نے افسران کو تاکید کی کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں اوراس سلسلے میں کوتاہی کے مرتکب اہلکارخود کو کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز دفتری اوقات میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات تھانہ کی سطح پر کانسٹیبل لیول تک نہ پہنچانے والے ڈی پی اوز خود کو کاروائی کیلئے تیار رکھیں۔ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے سینئر پولیس افسران کو کرائم کنٹرول ، سیکیورٹی انتظامات اور انتظامی امور کے حوالے سے بھی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شب برات اور ایسٹر کے موقع پرسیکیورٹی کے ہر ممکن انتظامات کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لایا جائے اور سیکیورٹی کے حوالے سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق مساجد ، امام بارگاہوں ، گرجا گھروں اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کیلئے چھتوں پر سنائپرز جبکہ عمارتوں کے اندر سادہ لباس میں کمانڈوز کو بھی تعینات کیا جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسٹر پر گرجا گھروں کے ساتھ ساتھ پارکس اور تفریحی گاہوں کی سیکیورٹی کیلئے اضافی سیکیورٹی تعینات کی جائے تاکہ تفریح کیلئے آنے والے مسیحی برادری کے بھائیوں کی سیکیورٹی انتظامات میں کوئی کمی نہ رہ سکے انہوں نے مزید کہا کہ بڑے پارکوں کے اینٹری ایگزٹ پوائنٹس پر سی سی ٹی وی کیمروں اور واک تھرو گیٹس کے ذریعے شہریوں کی چیکنگ کے عمل کو یقینی بنایاجائے ۔ آئی جی پنجاب نے افسران کوہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹ ، نا اہل ، اوربد دیانت افسران واہلکاروں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ، پیشہ ورانہ غفلت کا مظاہرہ کرنے والے عناصر کے خلاف انٹرنل اکاؤنٹیبلیٹی یونٹ کے تحت خود احتسابی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور محکمانہ امور کی انجام دہی میں سزا و جزا،میرٹ کی پاسداری اور شفافیت کے عمل کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بغیر انکوائری اور موقف سنے کسی بھی افسر یا اہلکار کوسزا نہ دی جائے اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر سزائیں دینے کے سلسلے کو بند کیا جائے اور جو افسریا اہلکار سزاکا مستحق ہو اسے دوسروں کیلئے مثال بنا دیا جائے۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے شروع کئے گئے تمام پراجیکٹس بالخصوص پولیس خدمت مراکز کا دائرہ کار جلد از جلد تحصیل لیول تک بڑھایا جائے اور عوام کو مزید سروسز کی فراہمی کیلئے تمام پراجیکٹس کی موثر مانیٹرنگ اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ فورس کی استعداد کار میں اضافہ میری اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا جدید اور سمارٹ پولیسنگ کے مطابق تفتیشی افسران کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے ریفریشر کورسز اور تربیتی ورکشاپس کے انعقاد میں تیزی لائی جائے ۔

مزید : علاقائی