حکومت آئندہ بجٹ میں فکس ٹیکس نظام رائج کرے، کوکب اقبال

حکومت آئندہ بجٹ میں فکس ٹیکس نظام رائج کرے، کوکب اقبال

کراچی(اسٹاف رپورٹر) حکومت آئندہ بجٹ میں فکس ٹیکس کا نظام رائج کرے اس طرح ٹیکس نیٹ میں 80فیصد اضافہ ممکن ہوسکتا ہے۔ ٹیکس ریٹرن فارم بھرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے کیونکہ عام آدمی سمیت تعلیم یافتہ بھی فارم بھرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انکم ٹیکس افسران و اہلکاروں کے اختیارات میں کمی کی جائے اور عوام اور کاروباری طبقہ پر اعتماد کیا جائے۔ ہر محب وطن پاکستانی ٹیکس دے کر اس ملک سے محبت و وفاداری نبھانا چاہتا ہے۔ گیس، پیٹرول، بجلی مہنگی کرنے سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے جس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ اور اشیائے صَرف کا بوجھ صارف کے کندھے ہی برداشت کرتے ہیں۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں آئندہ آنے والے بجٹ کی تجاویز دیتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے چھوٹے بڑے تاجروں سمیت عوام پر اعتماد کرنے اور خوف و ہراس کی فضا ختم کرنا ہوگی تاکہ کاروباری طبقہ آزاد فضا میں کام کرکے ملک کی معیشت کو بہتر سے بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ کوکب اقبال نے وزارت خزانہ کے قلمدان کی تبدیلی پر کہا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ منجھے ہوئے با صلاحیت معیشت دان ہیں انہیں خزانہ کی وزارت چلانے اور ملکی معیشت کو بہتر کرنے کا بہت اچھا تجربہ ہے۔امید ہے کہ روپے کی قدر میں اضافہ سمیت اسٹاک مارکیٹ اپنی پرانی بلند ترین سطح پر واپس پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کرے گی جس سے معیشت کی بہتری میں نہ صرف نمایاں تبدیلی رونما ہوگی بلکہ لوگوں میں حکومت پر بھروسے میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سبزی والے سے لیکر ہر کاروبار کرنے والے کو جائز منافع لینا چاہئے۔ کیونکہ اگر کوئی کاروبار کرنی والا ناجائز منافع وصول کرے گا تو اسے وقتی طور پر فائدہ ہوسکتا ہے مگر دنیا و آخرت میں بد ترین عذاب سہنا ہوگا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر