کارردگی ، بہتر نتائج نہ دینے والے سرکاری سکول سربراہان کیخلاف شکنجہ تیار ، فوجداری کا رروائی کا فیصلہ

کارردگی ، بہتر نتائج نہ دینے والے سرکاری سکول سربراہان کیخلاف شکنجہ تیار ، ...

ڈیرہ غازیخان (نمائندہ خصوصی)سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب کیپٹن (ر) محمود احمد نے کہا ہے کہ شعبہ تعلیم میں چھ ماہ کے اندر بڑی تبدیلی لے کر آ رہے ہیں۔ "استاد کو عزت دو"کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے استاد سے سوائے تعلیم کے کوئی اور کام نہیں لیا جائے گا استاد کی عزت و تکریم اور حوصلہ افزائی کی جائے گی زیادہ تعداد کے حامل سکولوں میں ایوننگ شفٹ شروع کی جائے گی مڈل سکول نہ ہونے والے علاقوں میں اسی پرائمری سکول میں سیکنڈ شفٹ کے دوران ایلیمنٹری(بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

سکول قائم کر کے چھٹی کی کلاسز پڑھائی جائیں گی انہوں نے ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ بوائز ہائی سکول تونسہ میں تعلیمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سی ای او تعلیم عبدالغفار لنگاہ ، اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نوید حسین ، ڈی ایم او فرحان مجتبی ، ڈی ای او ایلیمنٹری مہر سراج ، ڈی ای او سکینڈری زاہدہ پروین، پرنسپل ادارہ ذوالفقار علی ملغانی ، ڈپٹی ڈی ای اوز ، اے ای اوز ، ایم ایز ، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ موجود تھے سیکرٹری سکولز نے کہاکہ ہیڈٹیچر کو تقرر،تبادلے اور کارروائی کیلئے بااختیار بنایا جائے گا ہیڈٹیچر کو بااختیار بنایاجائے گاسکول کے اندر کی تمام کارکردگی کا وہ براہ راست ذمہ دار ہو گا نتائج نہ دینے والے ہیڈٹیچر کو معاف نہیں کیا جائے گا ملازمت سے ہاتھ دھونے کے ساتھ فوجداری کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا رٹہ سسٹم کے خاتمے کیلئے تعلیمی اداروں میں نصاب کی بجائے علم دیا جائے گا ہر پرائمری سکول میں کم سے کم دو ٹیچر دیئے جائیں گے اور ہر 40طلبہ پر ایک استاد مقرر ہو گا طلبہ کی زیادہ تعداد والے سکولوں میں کم طلبہ والے اداروں سے استاد نکال کر دیئے جائیں گے ای ای اوز سے مانیٹرنگ کا اختیار واپس لے کر تعلیمی اداروں میں معاونت کیلئے بٹھایا جائے گا ہر تعلیمی ادارہ میں علم ، اقدار ، ہنر ، کردارسازی ، بزم ادب اور سپورٹس سرگرمیوں کو دوبارہ لائیں گے ہر کلاس کیلئے باقاعدہ کوئی کتاب اور نصاب نہیں ہوگا استاد بچے کی ذہن سازی اور سوچنے ،سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں گیانہوں نے کہاکہ نمبروں کی گیم نے امتحانی نظام کو تباہ کر دیا ہم نے طلبہ کے ہاتھ نمبروں کی سند کی بجائے علم دینا ہے انہوں نے کہا کہ ٹیچر کو کوئی داخلے کا ٹارگٹ نہیں دیا جائیگا تاہم ایک مرتبہ سکول میں داخل ہونے والا بچہ کم سے کم پرائمری کا بورڈ کا امتحان پاس کرے انہوں نے کہاکہ تبادلے اور تعیناتی کیلئے ای ٹرانسفر سسٹم لا رہے ہیں اور انڈیکٹرز پورا کرنے والے اساتذہ کے خود بخود تبادلے ہو ں گے انہوں نے بتایاکہ صوبہ میں 53000سرکاری سکول اور چار لاکھ کے قریب اساتذہ موجود ہیں حکومت نظام تعلیم پر ہر سال ساڑھے تین سو ارب روپے خرچ کر رہی ہے بہتر انفراسٹرکچر دے دیاگیا تاہم علم کا معیار بہتر نہیں ہوا جسے مل کر بہتر بنائیں گے واضح رہے کہ سیکرٹری تعلیم وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر گذشتہ تین روز سے ضلع ڈیرہ غازیخان کے دورہ پر ہیں وہ میدانی سکولز کے ساتھ بارتھی اور ٹرائیبل ایریا کے دشوار گزار راستوں پر پیدل چل کر ہر تعلیمی ادارہ میں گئے اساتذہ اور طلبہ کی حاضری چیک کی طلبہ سے نصابی سوالات بھی کیے تقریب سے سی ای او ہیلتھ عبدالغفار لنگاہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا تعلیمی سیمینار میں اساتذہ کے سوال و جواب کا سیشن بھی کیاگیا۔ صوبہ پنجاب میں دو ماہ کے دوران 18ٹیچرز سمیت 22ایجوکیشن افسران کو معطل کر دیاگیاہے . نظام تعلیم کی بہتری کیلئے 20ہزار اساتذہ فارغ کرنے پڑے تو کارروائی سے گریز نہیں کریں گے . یہ بات سیکرٹری سکولز ایجوکیشن پنجاب کیپٹن (ر) محمود احمد نے تونسہ کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی. انہوں نے کہاکہ چارج سنبھال کے بعدقلیل عرصہ کے دوران نظام تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کی اور بگاڑ کاباعث بننے والے تین ایم ای اے اور اے ای او سمیت 22اساتذہ کو معطل کیاگیاہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر