اوپنر چھوڑ کو بھاگ جائے تو اسے مڈل آرڈر میں کیسے کھلایا جا سکتا ہے؟

اوپنر چھوڑ کو بھاگ جائے تو اسے مڈل آرڈر میں کیسے کھلایا جا سکتا ہے؟
اوپنر چھوڑ کو بھاگ جائے تو اسے مڈل آرڈر میں کیسے کھلایا جا سکتا ہے؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

یہ تو درست ہے کہ کپتان چاہے تو اوپنر کو کسی دوسری پوزیشن پر کھیلنے کے لئے بھیج دے، لیکن اگر اوپنر ٹیم چھوڑ کر ہی بھاگ جائے تو پھر اسے مڈل آرڈر پر کھلانے کے لئے کیسے بھیجا جاسکتا ہے؟ اسد عمر سے کہا گیا تھا کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑ دیں اور توانائی کی وزارت لے لیں۔ انہوں نے پہلے حکم پر فوراً عمل کیا اور سی بی آر کے آڈیٹوریم میں دائیں بائیں خالی کرسیوں کے درمیان بیٹھ کر اعلان کردیا کہ کپتان نے ان کو اوپنر سے ہٹا دیا ہے، البتہ یہ کہا ہے کہ وہ توانائی کی وزارت لے لیں لیکن انہوں نے معذرت کرلی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہیں دوسرے روز بھی ایک بار پھر یہ پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے دوبارہ معذرت کرلی۔ اب ایسی صورت میں کھلاڑی دوسری پوزیشن میں کیسے کھیلے گا؟ وہ تو ٹیم ہی چھوڑ گیا ہے۔ اسد عمر اسلام آباد سے کراچی چلے گئے ہیں جو ان کا آبائی شہر ہے۔ اسد عمر قومی اسمبلی کے منتخب رکن ہیں ان کی جگہ کابینہ کے اندر سے کوئی دوسرا لایا جاتا تو زیادہ مناسب تھا لیکن نگاہ انتخاب ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پر پڑی جو ٹیکنو کریٹ ہیں۔ 30سال سے معیشت کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف بھی ان کی خدمات کا معترف ہے لیکن پیپلزپارٹی کے دور میں جب ان کی خدمات سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو وہ بھی کوئی کرشمہ نہ دکھا سکے، کیونکہ اس پورے دور میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3% تک بھی نہ پہنچ سکی اور ایک سال تو شاید 2% سے بھی کم ہوگئی تھی۔

اب دیکھیں حفیظ شیخ اس حکومت کی جھولی میں کامیابیاں ڈالتے ہیں یا ناکامیاں؟ جن دوسرے وزیروں کی وزارتوں میں ردوبدل کیا گیا ہے ان میں غلام سرور خان کے پاس پٹرولیم کی وزارت تھی وہ اس عرصے میں ایل این جی کی درآمد کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ معلوم نہیں انہیں اس میں کتنی کامیابی ہوئی کیونکہ شاہد خاقان عباسی تو چیلنج کر رہے تھے کہ جس کسی کو ایل این جی کی درآمد میں کوئی بے قاعدگی نظر آرہی ہے وہ ان سے مناظرہ کرلے۔ شیخ رشید تو اس سلسلے میں نیب میں بیان بھی دے آئے ہیں دیکھیں اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، لیکن اب غلام سرور شاید اس پھٹے میں ٹانگ نہ اڑائیں۔غلام سرور کے بارے میں عام خیال یہ تھا کہ وہ وزارت کی تبدیلی سے خوش نہیں لیکن انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیڈر کی مرضی ہے جو وزارت چاہیں دیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ تو انہیں اسد عمر کی طرح وزارت سے ہٹانے کا ہوا تھا لیکن ان کا یہ بیان کام کر گیا کہ اگر ان سے وزارت واپس لی گئی تو وہ پارٹی چھوڑنے پر غور کریں گے جس پر ان کی وزارت تبدیل کی گئی۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جن کھلاڑیوں کی پوزیشنیں تبدیل کی گئی ہیں ان میں سے بیشتر خوش نہیں ہیں۔ چاہے وہ اس کا اظہارکریں یا نہ کریں۔

کابینہ کے اجلاس میں ایمنسٹی سکیم زیر بحث تھی اور بہت سے وزرا اس سکیم کے حق میں نہیں تھے اور یہ موقف اختیار کررہے تھے کہ وہ چونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ایسی ہی سکیم پر کھل کر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں اس لئے اگر ہماری حکومت بھی ایسی ہی کوئی سکیم لائے گی تو ہم عوام کے سامنے اس کا دفاع کیسے کر پائیں گے۔ معلوم نہیں اس کے جواب میں کیا موقف اختیار کیا گیا، لیکن یہ بھی کہا جاسکتا تھا کہ ایک زمانے میں کپتان آئی ایم ایف کے قرضے کے شدید مخالف تھے اور یہ تک کہہ گزرے تھے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے بہتر ہے کہ خودکشی کرلی جائے، لیکن اب اسد عمر کو اس لئے وزارت سے ہٹایا گیا کہ وہ اب تک آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینے میں ناکام کیوں رہے ہیں۔ یاد رہے کہ واشنگٹن سے واپسی پر اسد عمر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے اس کی تردید آگئی۔ یہی موقف اسد عمر کی وزارت کی جڑوں میں بیٹھ گیا۔

47رکنی وفاقی کابینہ میں اس وقت 16غیر منتخب لوگ ہیں جنہیں ٹیکنو کریٹس کہا جاسکتا ہے۔ معیشت کے لئے 5ماہرین کا بورڈ بھی بنایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے اب ان امور کی نگرانی کوئی سیاستدان نہیں کرے گا۔ معیشت عملاً ماہرین کے حوالے کر دی گئی ہے، حفیظ شیخ کی نگرانی میں جو بجٹ بنے گا اس پر آئی ایم ایف کی چھاپ ہوگی اور نیا پاکستان کا نعرہ سٹیٹس کو میں دب کر رہ جائے گا۔ بجلی، گیس وغیرہ کی قیمتیں بڑھیں گی اور آئی ایم ایف کی ہدایت پر سبسڈیز بھی کم کی جائیں گی جس سے مہنگائی اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

اوپنر

مزید : تجزیہ