گندم کی قلت کا خدشہ!

گندم کی قلت کا خدشہ!

  

کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ موسم نے بھی ستم ظریفی کی ہے اور حال ہی میں پشاور سے مرکزی پنجاب تک شہروں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، اس سے گندم کی پکی فصل کو نقصان ہوا، ہمارے سٹاف رپورٹر کے مطابق بارشوں کے باعث پنجاب کے33اضلاع میں گندم کی خریداری کا سلسلہ رُک گیا۔نئی صورتِ حال کی وجہ سے خریداری ہدف پورا ہونا مشکل ہو گا تو کسانوں کو الگ نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے آئندہ آٹے کی قلت کا بھی خدشہ ہے،صرف لاہور میں 20 کلو کے سوا دو لاکھ تھیلوں کی مانگ ہوتی ہے، پورے صوبے میں مانگ 40ہزار ٹن ہے، اب تک صرف سات ہزار ٹن گندم خریدی جا سکی ہے۔یوں خریداری رُک جانے سے ہدف میں کمی اور قلت کا خدشہ ہے اور اب محکمہ خوراک ہی کو گندم مہیا کرنا ہو گی۔پنجاب میں گندم کی کٹائی اپریل کے آخری ہفتے میں شروع ہو کر مئی کا پورا مہینہ جاری رہتی ہے،اسی عرصہ میں سرکاری خریداری بھی ہوتی ہے۔ اس بار حالیہ بحران کی روشنی میں صوبائی حکومت نے تمام گندم خرید لینے کا ہدف مقرر کر لیا تھا، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف خریداری مراکز کے قیام میں تاخیر ہوئی، اُلٹا موسم نے پریشانی پیدا کی اور حالیہ بارشوں نے خریداری میں تعطل پیدا کر دیا۔صوبائی سیکرٹری خوراک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ بارشوں سے خریداری متاثر ہو گی۔ تاہم حکومت ہدف پورا کر لینے کے لئے پُرعزم ہے۔ بہرحال یہ سب عجیب ہے نہ غیر متوقع، موسم کے تیور بھی نظر آ رہے تھے، تاہم خود حکومت نے خریداری شروع کرنے میں تاخیر کی۔ حتیٰ کہ اب تک بھی خریداری مراکز ہی پورے نہیں ہوئے اور اوپر سے بارش نے قدرتی رکاوٹ پیدا کر دی، یقینی طور پر ہدف متاثر ہو گا اور یوں حکومت کا ایک نیا امتحان شروع ہو گیا ہے۔اگر صورتِ حال کو نہ سنبھالا گیا تو آٹے کا بحران یقینی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -