کرونا اور وزیراعظم کی احتیاط

کرونا اور وزیراعظم کی احتیاط
کرونا اور وزیراعظم کی احتیاط

  

جمہوریت کے نام پر خاندانوں کے درباری راگ گانے والے اب بھی ہوش نہیں کریں گے کہ سرمایہ دارانہ نظام انسانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کمیونزم کا خطرہ ختم ہونے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ جمہوریت ملک میں شہد اور دودھ کی نہریں بہا دیتی کہ اب دنیا کے سامراجی نظام کو دفاع کے لئے ایسی بڑی رکاوٹ ہی نہیں تھی۔سوویت یونین منہدم ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وارسا پیکٹ نے دم توڑ دیا، لیکن سامراجی معیشت کے اہم ستون اسلحہ تجارت نے نئے میدانِ جنگ تلاش کر لئے۔ نیٹو پہلے سے بھی زیادہ ممالک میں پھیل گیا۔ کبھی عراق، کبھی افغانستان، شام، لیبیا، غرض جہاں موقع ملا نیٹو "Nato" نے اپنی مرضی کے جہنم دہکائے رکھے۔ تیس برسوں تک سامراجی جنگوں کا کوئی قابل ذکر حریف نہ تھا، لیکن جنگیں جاری رہیں، چاہیے تو یہ تھا کہ ان تیس برسوں میں تعلیم، صحت، ماحول، انسانی آمد و رفت، ڈرامہ، آرٹ، کلچر، عالمی سیاحت پھلتے پھولتے، غربت ختم ہوتی، انسانی صحت کو لاحق آفات پر تحقیق و تفتیش ہوتی، لیکن ہوا کیا ان تیس برسوں میں اور تو اور خود امریکہ بھی اپنے عوام کی صحت کے لئے اس قدر سہولیات فراہم نہ کر سکا، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد فراہم ہو چکی تھیں۔ پوری سرمایہ دار دنیا میں کوئی ایک ملک بھی ایسا نہ تھا جو ایسی ایجاد کرتا جو ایک چھوٹا اور بہت حد تک جدید زندگی کی آسائشوں سے نابلد ملک حاصل کر چکا تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ عین اس وقت جب امریکہ کرونا کے پھیلاؤ کی زد میں تھا۔ ٹرمپ حکومت امریکی عوام کی صحت کا بجٹ کم کرنے کا فیصلہ کر رہی تھی۔

پاکستان کے حکمرانوں نے گزشتہ چالیس سال پورے ملک میں چالیس قابل ذکر ہسپتال قائم نہیں کئے۔ نجی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں نے انسانی صحت پر وہ قیمت مقرر کی کہ عام آدمی زندگی بھر کی کمائی سے ان ہسپتالوں میں ایک ہفتہ بھی علاج نہیں کروا سکتا۔ ریاست کے اداروں نے اپنے لئے جو ادارہ جاتی ہسپتال قائم کئے، ان کا حال بھی ایسا ہی ہے۔ شریف برادران نے واضح کر دیا کہ تعلیم اور صحت حکومت کی ذمہ داری تھی، انہیں معلوم تھا کہ ان کی کسی بھی بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں، لہٰذا پاکستان میں صحت کا بجٹ ان کے دور میں کم سے کم ہوتا گیا۔ جو شریف برادران کے زیر سایہ عوام پر گزری شریف برادران کی حکومت علی اعلان تاجروں کی حکومت تھی، اس ملک کو عالمی مال کی کھلی منڈی بنا دیا گیا۔ جنرل مشرف نے ایک غیر ملکی بنکار کے حوالے ملک کر دیا کہ اسے نہ سیاست سے غرض تھی اور نہ ہی پاکستان کے عوام سے اور شریف یہی چاہتے تھے کہ کوئی ایسا شخص نہ اقتدار میں ہو جس کا کوئی تعلق پاکستان کے عوام سے ہو اور یہی وہ دور تھا جب پاکستان کے سرکاری ہسپتال عوام کے لئے بے معنی ہوتے گئے۔ اگرچہ سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے بجٹ میں موجود صحت کے لئے رقم کو استعمال تو ضرور کیا، لیکن ایسے خاطر خواہ نتائج عوام کے لئے مرتب نہ ہوئے۔ خاص طور پر دیہاتی اور مضافاتی علاقوں میں صورتِ حال ہمیشہ ناقابل قبول ہی رہی۔ روس جب سوویت یونین تھا، دنیا کے اعداد و شمار کے حوالے سے وہاں کے عوام کو دنیا بھر میں صحت کی بہترین سہولتیں حائل تھیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ ہسپتال اور دیہی مضافاتی میڈیکل یونٹ وہاں موجود تھے۔ گزشتہ تیس برس کے دوران روس کے عوام میں صحت کی سہولتیں ہر برس کم ہوتی ہوئی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی سندھ میں گزشتہ بارہ برس سے حکومت میں ہے۔ سندھ کے شہروں کے ہسپتالوں کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ دیہاتی اور مضافاتی علاقوں اور تعلقہ ہسپتالوں میں تو کیا ا س کا اندازہ تو صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران کتے کے کاٹنے سے مرنے والوں کی تعداد تمام صوبوں کو ملا کر بھی زیادہ رہی۔ یہاں تک کہ سندھ کے پاس کتے کے کاٹنے کی دوا بھی موجود نہ تھی، گزشتہ روز وزیراعظم نے کورونا پر بلائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں جو تقریر کی وہ زمینی حقائق کے عین مطابق تھی۔

انہوں نے درست کہا کہ خوف کئے گئے فیصلوں پر اکثر پچھتانا پڑتا ہے اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی آفت میں ایسے فیصلے جو مکمل لاک ڈاؤن پر منتج ہوں۔ کورونا سے بڑا سماجی مسئلہ نہ کھڑا کر دیں۔ اس کانفرنس میں انہوں نے واضح کہا کہ کورونا پر کامیاب قابو صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کی کامیابی ہوگی۔ اس وقت قوم اور اس کے رہنماؤں کو ایک چیلنج کا سامنا ہے اور قومیں چیلنج کا متحد ہو کر ہی مقابلہ کر سکتی ہیں اور یہ بھی یاد رکھئے ملک کے بااثر طبقات، امریکہ میں امیر لوگوں نے اسلحہ کی دکانوں کے آگے قطاریں باندھ لی ہیں کہ کہیں بھوکے اور بیمار لوگ ان کے گھروں پر حملہ آور ہی نہ ہو جائیں۔ پاکستان کے صنعت کاروں، تاجروں، چینی اور آٹے کے مل مالکان کو اس قوم کی مدد کے لئے آگے آنا چاہیے، جن سے کمایا ہوا منافع ان کے منتقل اقتدار کا سبب ہے۔

مزید :

رائے -کالم -