تبدیلی……یا…… ناکامی؟؟

تبدیلی……یا…… ناکامی؟؟
تبدیلی……یا…… ناکامی؟؟

  

کراچی سے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون کے استعفیٰ سے فیض کی پون صدی قبل کہی گئی غزل ایک بار پھر ذہن کے دریچوں میں گھوم گئی……

یہ داغ داغ اجالایہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کایہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئے اور کرکٹ کے کھلاڑی عمران خان کو وزیر اعظم بنے 20 ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ یہ بات کوئی نہیں بھولا کہ عمران خان نے ”تبدیلی“ کے نام پر ووٹ لئے تھے۔ان 20 مہینوں میں ”تبدیلی“ کیا آنی تھی، جیسا تیسا جو سسٹم موجود تھا وہ بھی۔

نا تجربہ کاری کی نظر ہو گیا، ملک کی معیشت اور گورننس کا بٹھہ بیٹھ گیا، غیر منتخب لوگوں کی فوج ظفر موج کو ذاتی دوستیوں کی وجہ سے وزیر، مشیر اور معاون خصوصی بنایا گیا، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوش ربا اضافہ ہو گیا، ہر قسم کے ترقیاتی کام ٹھپ ہو گئے، بیوروکریسی نے اپنے قلم بند کرکے الماریوں میں رکھ دئیے، جس کی وجہ سے عوام خوار ہو گئی۔ غرض کہ ”تبدیلی“ کے نام پر لائی گئی حکومت نے ملک کو آگے لے جانے کی بجائے برسوں پیچھے دھکیل دیا۔ آج کل پوری دُنیا میں کورونا کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے کاروبار زندگی ٹھپ ہے اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہیں۔اس وبا کے اثرات پاکستان میں بھی پوری طرح پڑے ہیں اور اب تک کئی ہزار لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کا روزگار بھی ختم ہو رہے ہیں اور بر آمد کنندگان کے کنفرم آرڈر کینسل ہو رہے ہیں۔ بیرونی ممالک میں مقیم کئی ملین پاکستانی جو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھیجتے ہیں، وہ بھی کورونا کی وجہ سے بے روزگار ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کی ترسیل میں بھی تیزی سے کمی آ رہی ہے اور ہزاروں لوگ اب ملک واپسی کے منتظر دھکے کھا رہے ہیں۔ کورونا کی وبا پچھلے دو ماہ سے شروع ہوئی ہے جب عمران خان کی حکومت بنے ڈیڑھ سال مکمل ہو چکا تھا اور اس وقت بھی زیادہ تر تجزیہ نگار اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی معیشت اور گورننس میں صفر ہے،

کیونکہ ان کے پاس نہ تجربہ کار لوگ ہیں، نہ ویژن ہے اور نہ ہی صلاحیت کہ پاکستان کو درپیش مسائل حل کر سکیں۔ کورونا کے آنے سے پہلے بھی یہ بات طے ہو چکی تھی کہ میرٹ کی بجائے ذاتی دوستوں کو اہم عہدوں سے نوازا گیا ہے۔ اسی طرح مہنگائی نئے ریکارڈ قائم کر چکی تھی اور تقریباً 25 لاکھ اپنی نوکریوں سے محروم ہو چکے تھے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح کورونا آنے سے پہلے ہی پچھلے دور کی 5.8 فیصد سے گر کر 2.4 فیصد، اور سٹاک مارکیٹ 54 ہزار سے گر کر 28 ہزار پر آچکی تھی، جبکہ روپیہ کی قدر میں 40 فیصد کمی ہو چکی تھی۔ کورونا آنے سے پہلے ہی گیس کی قیمتیں کئی گنا اور بجلی کی قیمتیں 18 ماہ میں 18 مرتبہ بڑھائی جا چکی تھیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں بار بار بڑھا کر انہیں 83 روپے سے 119 روپے فی لٹر پر پہنچا دیا گیا تھا۔ کورونا وائرس نے ایک ناکام حکومت کی ناکامیوں میں اضافہ ہی کیا ہے، اِس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کورونا کی وبا سے پہلے ہی پی ٹی آئی حکومت ایک ناکام حکومت کے طور پر سامنے آ چکی تھی۔ مقتدر حلقوں اور عمران خان کے سپورٹرز اور ووٹرز نے ”تبدیلی“ کا جو خواب دیکھا تھا وہ اس وبا کے آنے سے پہلے ہی ٹوٹ کر چکنا چور ہو چکا تھا۔ اس وبا نے پوری دُنیا کو محصور، مفلوج اور مجبور محض بنا کر رکھ دیا اور پاکستان جو پہلے ہی تیزی سے نیچے کی طرف جا رہا تھا وہ اور زیادہ تیزی سے گھمبیر مسائل کا شکار ہو گیا ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت ناکام اور ناتجربہ کار تو تھی ہی، اس نے اس وبائی مرض کے دوران بھی قوم کو تقسیم کرنے کی روش ترک نہیں کی ہے اور اس کے کئی وزرا صرف اس اسائنٹمنٹ پر متعین ہیں کہ وہ دن رات اپوزیشن کو بات بے بات رگڑا لگاتے رہیں۔

حکومت کی کارکردگی سے مایوس صرف عوام اور اپوزیشن ہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے اپنے منتخب اراکین اسمبلی بھی ہیں۔ ”حکومت“ عمران خان کے چند ذاتی دوستوں تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے بہت سے ممبران اسمبلیوں کی حیثیت صرف ریلو کٹوں کی رہ گئی ہے۔ اسی ماحول میں اور حکومت کی ناکامیوں سے دلبرداشتہ ہو کر کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون نے اپنا استعفیٰ پارٹی چیئرمین عمران خان کو بھجوا دیا ہے۔ ان کا شمار پی ٹی آئی کے بانیوں میں ہوتا ہے جو 24 سال سے پوری استقامت کے ساتھ پارٹی میں موجود ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کے بانی اراکین میں واحد بانی رکن ہیں جو حیات ہیں اور ابھی تک پارٹی میں شامل ہیں۔ باقی بانی اراکین یا اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں یا پہلے ہی پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ انہوں نے کئی بار انتخابات میں حصہ لیا، لیکن کراچی میں پی ٹی آئی کو آخری الیکشن سے پہلے کوئی خاص پزیرائی حاصل نہیں تھی۔ البتہ 2018ء میں ایم کیو ایم کے زوال کے بعد پی ٹی آئی کو کئی سیٹیں جیتنے کا موقع مل گیا جس میں نجیب ہارون بھی NA-256 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ نجیب ہارون کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے تمام ممبران میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں

اور وہ واحد رکن پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے ان 20 ماہ میں کوئی تنخواہ، مراعات، سہولتیں، ٹی اے ڈی اے یا فضائی ٹکٹ نہیں لی اور نہ کسی سرکاری قیام گاہ میں رہے۔ اسلام آباد میں قیام و طعام اور تمام سفر کے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کرتے رہے اور ”تبدیلی“ کا انتظار کرتے رہے۔ کراچی سے منتخب ہونے والے ایسے لوگوں کو وزارتیں مل گئیں جو بہت بعد میں پارٹی میں آئے اور ان کی وجہ شہرت قابلیت نہیں بلکہ اپوزیشن کے خلاف دشنام ترازی تھا۔ نجیب ہارون کا استعفیٰ پتہ نہیں منطور ہوتا ہے یا نہیں، لیکن انہوں نے پارٹی چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان کو صاف صاف لکھا ہے کہ جس ”تبدیلی“ کے خواب دیکھے تھے، وہ ٹوٹ چکے ہیں اس لئے وہ بطوررکن قومی اسمبلی مستعفی ہونا چاہتے ہیں۔ ایک عالمی شہرت یافتہ انجینئر جس نے پاکستان اور امریکہ کی اعلی ترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی اور جو ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے افراد میں شامل ہے، اس کا عمران خان کو لکھا گیا خط ایک مستند ترین چارج شیٹ ہے جو ”تبدیلی“ کی ناکامی کا با آواز بلند اعلان بھی ہے۔

عمران خان نے سیاسی سفر کا آغاز 24 سال پہلے اپریل1996ء میں کیا تھا۔ پہلے 15 سال ان کا بنیادی نعرہ ”انصاف“ تھا، لیکن وہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران ان کی پارٹی کسی بھی الیکشن میں ایک آدھ سے زیادہ سیٹ نہ حاصل کر سکی اور انہیں ایک ناکام سیاست دان تصور کیا جاتا رہا۔ امریکہ میں 2008ء کا الیکشن پہلی مرتبہ ایک سیاہ فام امریکی باراک حسین اوبامہ نے ”تبدیلی“ کا نعرہ لگا کر جیتا۔ باراک اوبامہ کے الیکشن جیتنے میں دو عوامل نے اہم کردار ادا کیا، پہلا ”تبدیلی“ یعنی Change کا نعرہ اور دوسرا سوشل میڈیا کا درست اور بے تحاشہ استعمال۔ جو مقتدر طاقتیں عمران خان کو بطور ایک تیسری سیاسی قوت میدان عمل میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہی تھیں، انہوں نے امریکہ، یورپ اور بھارت کے تجربات کو مد نظر رکھتے ہوئے اورپاکستان کی سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے electables کو بھی تحریک انصاف میں شامل کروانا شروع کر دیا۔ پہلے 2011ء میں لاہور میں ایک زبردست جلسہ منعقد کروا کر hype بنائی گئی اور پھر electables جوق درجوق پی ٹی آئی میں شامل ہونے لگے۔

عمران خان کی بطور کرکٹ کپتان جس میں 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنا، شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کی تعمیر اور کامیابی اور ان کی اپنی شخصیت کے گلیمر کو جب اس دور کے دو آزمودہ نسخوں یعنی ”تبدیلی“ کا نعرہ اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا تڑکا لگا تو پی ٹی آئی 2013ء کے الیکشن میں نہ صرف تیسری بڑی سیاسی طاقت بن کر سامنے آئی، بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو گئی،جو کمی 2013 ء کے الیکشن میں رہ گئی تھی، وہ 2018ء کے الیکشن میں پوری کرکے ”تبدیلی“ کے نام پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔ اس عمل کو مزید یقینی بنانے کے لئے سب سے بڑی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی، ان کے لیڈروں پر مقدمات بنا کر جیلوں میں بھیجے گئے جن میں سب سے اہم نام میاں نواز شریف کا تھا۔بہر حال ملک میں ”تبدیلی سرکار“ آ گئی اور یہیں سے ان توقعات کو عملی جامہ پہنانے کا وقت بھی شروع ہوا، جس کا وعدہ عمران خان بہت سالوں سے کر رہے تھے۔ اب نجیب ہارون جیسے ممبر قومی اسمبلی کے استعفیٰ سے سنجیدہ لوگ یہ یقین کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ 2018ء میں پاکستان میں ”تبدیلی“ کو مسلط کیا گیا تھا کہ ”ناکامی“ کو۔نجیب ہارون کی چارج شیٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -